Connect with us
Saturday,30-August-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مفتی سعیداحمد صاحب پالنپوری شیخ الحدیث و صدر المدرسین دار العلوم دیوبند کے انتقال پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا اظہار تعزیت

Published

on

19؍مئی 2020 دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث اورصدرالمدرسین “مفتی سعیداحمد صاحب پالنپوری”(78/سال) کاآج بروز سہ شنبہ دوران علاج ممبئی میں انتقال ہوگیا۔انا للہ وإنا إلیہ راجعون ۔ مفتی صاحب گزشتہ کئی دنوں سے بیمارچل رہے تھے اورممبئی(جوگیشوری) میں زیرعلاج تھے۔آج صبح25؍رمضان 1441ھجری بمطابق 19؍مئی 2020 داعی اجل کولبیک کہا۔
مفتی سعید احمد صاحب نے پہلے مظاہرعلوم سہارنپورمیں تعلیم حاصل کی پھر دارالعلوم دیوبندمیں۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جامعہ اشرفیہ راندیرسورت گجرات میں بحیثیت مدرس تقریبا10سالوں تک تدریسی خدمات انجام دیں۔اس کے بعد دارالعلوم دیوبندمیں استاذکی حیثیت سے تقررہوا۔دارالعلوم دیوبند میں آپ کا ترمذی شریف کا درس بہت مقبول تھا۔2008 میں اس وقت کے شیخ الحدیث مولانانصیراحمدخان صاحب رحمۃ اللہ کے انتقال کے بعدآپ دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث اور صدرالمدرسین کے عہدہ پر فائزہوئے۔آپ کاشماردنیاکے نامورمحدثین میں ہوتا تھا۔آپ کی حیثیت استاذالاساتذہ کی تھی۔ملک وبیرون ملک میں لاکھوں اہل علم آپ کے شاگرداور(بلاواسطہ یابالواسطہ)آپ کے فیض یافتہ ہیں۔آپ نے درسیات وغیردرسیات میں مختلف موضوعات پربہت ساری کتابیں تصنیف کیں ۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہء آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغہ کی شرح رحمۃاللہ الواسعۃ کے نام سے بہت مشہورہے۔
مفتی صاحب کے انتقال پر مولانا مستقیم احسن اعظمی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر ،مولانا حلیم اللہ قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر,گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف دارالعلوم دیوبند بلکہ علمی دنیاکے لئے عظیم خسارہ بالخصوص علم حدیث کی دنیامیں بڑانقصان قرار دیا ہے۔بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو غریق رحمت فرمائے،قبر میں کروٹ کروٹ رحمت نازل فرمائے، اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔پسماندگان ،متعلقین اور متوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین ،ساتھ ہی جمعیۃ علماء کی ذیلی یونٹوں، ذمہ داران مدارس، اءمہ مساجد اور عامۃ المسلمین سے مفتی صاحب کے بلندی درجات اور ایصالِ ثواب کے اہتمام کی درخواست کی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ کے دوران امیت شاہ کی لال باغ کے راجہ کا درشن، دوسرے روز بھی ممبئی شہر مفلوج، دکانیں اور ہوٹلیں بند کرنے کی خبر بے بنیاد : بی جے پی

Published

on

Amit-Shah

‎ممبئی مراٹھا مورچہ اور منوج جرانگے کی بھوک ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی عام شہری نظام درہم برہم رہا۔ جنوبی ممبئی کی جانب سفر مشکل تھا کیونکہ یہاں مراٹھا مورچہ کے مظاہرین کے سبب ٹریفک نظام متاثر ہے, اس کے ساتھ ہی فورٹ اور دیگر سڑکیں بھی متاثر ہے۔ سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشنوں پر بھی مراٹھا برادری کے مظاہرین کی بھیڑ ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ خبر عام ہے کہ مراٹھا مظاہرین کے لیے ممبئی میں کھانا پانی پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے اور یہاں کھانے کے اسٹال اور ہوٹلیں بند کردی گئی ہیں, لیکن یہ خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے, کیونکہ ممبئی ایس ٹی ایس پر تمام اسٹال اور ہوٹلیں جاری ہیں اور مظاہرین کو کھانا میسر ہے. دوسری طرف مظاہرین کے لئے بی ایم سی نے صاف صفائی اور دیگر سہولیات اور پینے کے صاف پانی کا بھی انتظام کرنے کا دعویٰ کیا ہے بارش کے دوران کیچڑ صاف کردیا گیا ہے, اتنا ہی نہیں عارضی بیت الخلا وین کی بھی تعیناتی کی گئی ہے. ممبئی پولس اور اضافی دستے بھی آزاد میدان میں تعینات ہے۔

بی جے پی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایسے خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے. جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ مراٹھا مورچہ کے سبب دکانیں اور ہوٹلوں کو بند کر دیا گیا ہے. اس دوران بی جے پی کے آفیشنل ہینڈل سے تصاویر اور ویڈیو بھی جاری کیے گئے ہیں اس کے ساتھ بی ایم سی نے بھی صاف صفائی مہم کے ویڈیو اور تصاویر جاری کر کے یہ بتایا ہے کہ مراٹھا مظاہرین کیلئے اس کے سہولیات بہم پہنچائی ہے۔

‎ممبئی سی ایس ٹی کے اطراف تمام کھانے کے اسٹال کھلے ہیں۔ اسٹال بند کی خبر جھوٹی اور بے بیناد ہے, مراٹھا برادری کے افراد ان کھانے کے اسٹالوں پر چائے اور ناشتہ لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ حکومت کس طرح مراٹھا مخالف ہے، جو لوگ ریزرویشن کے لیے زور دے رہے ہیں اور جنہوں نے 50 سال سے ریزرویشن نہیں دیا، وہ اپنے اپنے خفیہ ایجنڈے چلا رہے ہیں۔ممبئی میں احتجاجی مظاہرہ کے دوسرے روز بھی عوام کو پریشانیوں کا سامنا ہے. ممبئی کے متعدد علاقوں میں مراٹھا برادری سے سڑکیں فل ہے, ایسے میں ممبئی میں ٹریفک جام ہے اور مورچہ کا اثر ممبئی شہر کی لائف لائن کہی جانے والی لوکل ٹرینوں پر بھی ہوا ہے اور ٹرین سروسیز متاثر ہے اور ۱۰ سے ۱۵ منٹ سینٹرل لائنوں پر ٹرینیں تاخیر سے چلائی جارہی ہے. مراٹھا مورچہ کے مظاہرین نے سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشن پر بھی قیام کیا ہے. ایسے میں سی ایس ٹی پر بھیڑ بھاڑ زیادہ ہے اور اسے قابو کرنے کے لئے پولس کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں. اس کے ساتھ ہی آج بھی مظاہرین نے کچھ سڑکوں پر بیٹھنے کی کوشش کی تھی جسے بعد ازاں ہٹایا گیا تاکہ سڑک اور ٹریفک نظام متاثر نہ ہو۔ آج وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی لال باغ کے راجہ کے دربار میں حاضری دی ہے. اس کے ساتھ گنپتی وسرجن گنیش اتسو اور مراٹھا مورچہ پولس کے لئے چلینج ہے. پولس بہتر طریقے سے حالات سنبھال رہی ہے اور ایسے میں پولس نے ممبئی میں سیکورٹی سخت کردی ہے۔ ممبئی پولس کی سخت سیکورٹی کے دوران امیت شاہ نے لال باغ کا راجہ کا درشن لیا ہے۔ اس دوران بی جے پی لیڈر اور وزیر ایڈوکیٹ آشیش شیلار بھی موجود تھے. امیت شاہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ لال باغ کے راجہ پر حاضری دے کر منت مانگی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com