Connect with us
Friday,24-July-2026

سیاست

لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر:اکھلیش

Published

on

akhilesh

سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جاری ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے روز مرہ کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوگی جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اعلانات کا زمینی سطح پر کچھ اثر ہوتا کھائی نہیں دے رہا ہے۔
ایس پی سربراہ نے کہا کہ غریبوں کو فاقہ کشی کا سامنا ہے تو طبی سہولیات دم توڑرہی ہیں۔ایسی صورت میں وزیر اعظم ‘یوم پنچایتی راج’ پر صرف پیغام دے کر اپنی رسم ادائیگی کر گئے ہیں۔ہندوستان کو مستحکم بنانا ہے تو گاؤں میں ہر قسم کی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کا عزم کرنا ہوگا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی گاؤں۔کھیتی نہیں بڑے بڑے سرمایہ کاروں کے سہارے وائبرنٹ انڈیا کو خواب دیکھتی ہے۔
مہاجر مزدوروں کے مسائل کو اجاگر کرتے وہئے مسٹر یادو نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوسری ریاستوں سے بڑی تعداد میں مزدور وطن واپس آئے ہیں۔اب ان کو متعدد مسائل کا سامنا ہے ان میں سے کچھ ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے بیمار ہوئے ہیں۔اب ان کے علاج کے لئے نہ تو کوئی بہتر منصوبہ ہے اور نہ ہی ان کی چیکنگ کی جارہی ہے۔
ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگرچہ یہ اعلانات کئے گئے تھے کہ جن مزدوروں کو روزی روٹی کے مسائل کا سامنا ہے انہیں منریگا میں کام فراہم کرایا جائےگالیکن انہیں کام نہیں مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد اضلاع بشمول وی ای آئی پی ضلع گورکھپورمیں انڈسٹریا بند ہوگئی ہیں۔روز کمارنے اور روز کھانے والوں کی زندگی پر کافی گہرا اثر پڑا ہے۔انہیں ابھی تک کوئی ریلیف نہیں ملا ہےساتھ ہی انکی جانب سے لگاتارکم اور خراب کوالٹی کے راشن دسیتاب کرنے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔
سابق وزیر اعلی نے بی جے پی کی حکمرانی میں کسانوں کے ساتھ تفریق اورانہیں بے عزت کئےجانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گیہوں خرید کے مراکز سے صرف کاغذات پر کھلے ہیں۔نہ تو کسانوں کم از کم سہار اقیمت ملی ہیں اور نہ ہی مسقبل قریب میں ملنے کی کوئی امید ہے۔وہ سستے داموں پر اپنی پیداوار کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔گنا کسانوں کے لمبے عرصے سے پڑے بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ ملک میں صرف کورونا وائرس کے ہی خطرات نہیں ہیں بلکہ متعدد افراد کو قلت،گردے ، کینسر،لیور اور اس جیسے متعدد دیگر سنگین بیماریاں لاحق ہیں۔بلڈ پریشر اور ذیابطیس کے مریض بھی ان دنوںکافی پریشان ہیں۔اسپتالوں میں اوپی ڈی بند ہیں۔اور آپریشن ملتوی ہیں۔صرف سردی۔زکام اور کھانسی کے مریضوں کا ہی علاج کیا جارہا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہر یونیورسٹی پر یوپی سرکار کی کارروائی پر عوامی تحریک کا انتباہ! اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور دانشوروں کا اجلاس، ریاستی گورنر سے مداخلت کی اپیل

Published

on

Abu-Asim

ممبئی رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم پر ممبئی میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف آج ممبئی کے معروف ‘اسلام جم خانہ’ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شرکاء نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مراکز قائم کرنے کے بجائے ایک ایسے ادارے کو تباہ کر رہی ہے جو ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، تعلیمی نظام اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یونیورسٹی کے آپریشنز یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی تکنیکی بے ضابطگی تھی تو حکومت کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ادارے کو بچانا چاہیے تھا۔ کوئی تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کارروائی صرف اور صرف سیاسی انتقام کے جذبے سے کی جارہی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس غیر منصفانہ پالیسی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد فوری طور پر مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کرے گا، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اتر پردیش حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر حکومت نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف مزید کارروائی کی تو ممبئی میں زبردست عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی، یوسف ابراہانی، معراج صدیقی، مولانا انیس اشرفی، عامر ادریسی، سلیم الوار، سعید حامد، سرفراز آرزو، اور ڈاکٹر زیبا ملک سمیت ممبئی کے ممتاز علمائے کرام، سماجی کارکنان، اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بند کا اثر : ممبئی میں طلبا کے احتجاج میں شدت، چمبور اور کرلا میں سڑک روکو آندولن، پولس الرٹ، وزیر اعلیٰ کی کارروائی کا حکم

Published

on

bandh

ممبئی : ممبئی شیواجی پارک سمیت کرلا، چمبور، چونا بھٹی، مانخورد، و دیگر مضافاتی علاقوں میں مہاراشٹر بند کے سبب ونچت بہوجن اگھاڑی وی بی اے نے مورچہ نکال کر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اسی دوران پولس نے چمبور کرلا اور دیگر علاقوں سے مظاہرین کو زیر حراست لیا اور بعد ازاں مظاہرین کو رہا بھی کردیا گیا۔ ممبئی میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر رہا لیکن اسکول، کالج، اور عوامی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق ہی رواں دواں تھے اس کے ساتھ ہی ممبئی کے کرلا علاقہ میں خواتین مظاہرین نے سڑکوں پر اتر کر نیٹ پرچہ لیک کے معاملہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک جام کردیا جس کے سبب ٹریفک نظام متاثر ہو گیا بعد ازاں پولس نے خواتین کو سڑک پر ہٹایا اور معمولات زندگی پٹری پر آگئی۔ ممبئی کے مختلف علاقوں میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر ہوا شیواجی پارک میں ٹھاکرے برادران اور امیت اور ادیتہ ٹھاکرے نے بھی احتجاجی مظاہرین کی حمایت کی ہے جبکہ اب ٹھاکرے براداران نے پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ ۲۶ جولائی کو مارچ کریں گے اگر اس دوران کسی نے بھی گڑبڑی پیدا کرنے یا دلی کے طرز پر پتھراؤ یا تشدد برپا کرنے کی کوشش کی تو انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایم این ایس اسے جواب دے گی اس کے ساتھ ہی راج ٹھاکرے نے پرامن احتجاج نکالنے کا اعلان کیا ہے اور سرکار کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس احتجاج میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ آج احتجاجی مظاہرہ کے دوران کئی مظاہرین اور لیڈران کو زیر حراست لیا گیا۔

طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی پولس ڈرائیور کی دھمکی :
طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی شیواجی پارک میں دھمکی کی ویڈیوُ وائرل ہونے کے بعد اس معاملہ میں کانسیٹل کے خلاف انکوائری شروع ہو گئی ہے اور اس معاملہ میں وزیر اعلیٰ دیویندرفڑنویس نے کہا ہے کہ کانسٹبل کے انکوائری جاری ہے اور اسے یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے اس معاملہ میں ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ افسوسناک ہے۔ دیویندرفڑنویس نے کہا کہ اس احتجاجی مظاہرہ کی آڑ میں ادھو ٹھاکرے اپنے وجود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی ادھو ٹھاکرے کی سرکار میں پرچہ لیک ہوا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی مودک ساگر جھیل بھی چھلک گئی، تمام 7 جھیلوں میں 69.74 فیصد کی گنجائش کے ساتھ پانی کا کل ذخیرہ ہے۔

Published

on

Modak Sagar Lake

ممبئی : مودک ساگر جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (23 جولائی 2026) کو صبح 2:07 بجے بہنا شروع ہوئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ جھیل کا ایک گیٹ کھول دیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے جھیلوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل، شدید بارش کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مودک ساگر جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی گنجائش جو آج رات سے بہنے لگی 12,892.5 کروڑ لیٹر (128,925 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سالوں میں مودک ساگر جھیل 9 جولائی 2025، 25 جولائی 2024 اور 27 جولائی 2023 کو بہنے لگی۔

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے سات ڈیموں کی کل زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 1,44,736.3 کروڑ لیٹر (1,447,363 ملین لیٹر) ہے۔ آج صبح 6:00 بجے پڑھنے تک، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ 1,00,943.2 کروڑ لیٹر (1,009,432 ملین لیٹر) ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ جھیلوں کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی صلاحیت کا 69.74 فیصد ہے، جو کہ 1,447,363 ملین لیٹر ہے۔

اضافی معلومات
1) مودک ساگر پروجیکٹ، تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں دریائے ویترنا پر تعمیر کیا گیا، ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کی پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والا ایک کلیدی پانی کا ذریعہ ہے۔
2) اس پروجیکٹ کی تعمیر 1954 میں مکمل ہوئی تھی، اور اس کا انتظام ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتظامیہ کرتا ہے۔
3) ممبئی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس پروجیکٹ کے ڈھانچے کی لمبائی 548.64 میٹر اور اونچائی 82.296 میٹر ہے۔
4) کل کیچمنٹ ایریا 450.625 مربع کلومیٹر ہے، اور یہ ممبئی کو فراہم کی جانے والی کل پانی کی فراہمی میں 11.22 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔
5) بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے مودک ساگر جھیل آج سے بہنے لگی ہے۔ اس مون سون کے موسم سے پہلے، تانسا جھیل 22 جولائی، 2026 کو صبح 8:51 پر بہنا شروع ہوئی۔ ‘وہار’ جھیل 7 جولائی، 2026 کو رات 9:00 بجے چھلکنا شروع ہوئی، اور ‘تلسی’ جھیل بھی اسی دن رات 11:43 پر بہنے لگی (2026) اس طرح، 23 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے چار بھری ہوئی اور بہہ چکی ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان