سیاست
اکثر میڈیا مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مجرمانہ سازش میں ملوث اور سپریم کورٹ کی گائیڈلائن کی دھجیاں اڑار ہی ہے: گلزار احمد اعظمی
(وفا ناہید)
نئی دہلی : ملک کے بے لگام ٹی وی چینلوں پر قانونی لگام لگانے کی پہل جمعیۃعلماء ہند نے کردی گزشتہ روز جمعیۃعلماء ہند کی امدادی قانونی کمیٹی کی طرف سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے جسے سماعت کے لئے منظورکرلیا گیا ہے اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ میڈیا مسلمانوں اور تبلیغی مرکز کو لیکر انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کررہا ہے اس کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے اوراس کے کوریج پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے اس کے علاوہ شوشل میڈیا پر فرضی خبریں پھیلانے پر کارروائی کے لئے حکم دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں میڈیا اداروں کے ذریعہ مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کو لے کر ہورہی رپورٹنگ سے فرقہ واریت پھیل رہی ہے۔ اپنی عرضی میں جمعیۃ علمائے ہند نے میڈیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے خلاف ہورہے میڈیا ٹرائل پر ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے پٹیشن دائر کی ہے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نظام الدین مرکز کو میڈیا فرقہ وارانہ رخ دے رہا ہے، درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تبلیغی جماعت سے متعلق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹ نے پوری مسلم قوم کو نشانہ بنایا اور مسلمانوں کی توہین کی گئی اور ان کی دل آزاری کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے جو رویہ اختیار کیا گیا اس سے مسلمانوں کی آزادی اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے جو دستور آئین میں دیئے گئے رائٹ ٹو لائف کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ بیشتر اطلاعات میں “کورونا جہاد”، “کورونا دہشت گردی” یا “اسلامی بنیاد پرستی” جیسے جملے کا استعمال کرتے ہوئے غلط بیانی کی گئی ہے۔ اس پٹیشن میں متعدد سوشل میڈیا پوسٹس کو بھی درج کیا گیا ہے جس میں غلط طور پر کوویڈ 19 کو پھیلانے کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جھوٹی اور جعلی ویڈیوز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ نظام الدین واقعے کی کوریج کرتے ہوئے ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔جس نے مسلمانوں کے معاملے میں دستور ہند کی دفعہ آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔عرضداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے 31 مارچ کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں میڈیا کو ہدایت دی گئی تھی کہ میڈیا ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کریں اور غیر تصدیق شدہ خبریں شائع اور نشر نہ کریں۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے حالیہ دنوں میں میڈیا بالخصوص الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف ہورہی مسلسل منفی رپورٹنگ پر اپنے گہرے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تردرخواستوں اور مطالبوں کے باوجود ٹی وی چینلوں نے مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سلسلہ بند نہیں کیا اس کو لیکر ہم حکومت سے بھی یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ نفرت بونے والے اور مسلمانوں کی شبیہ کو داغدارکرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، مگر افسوس ہمارے مطالبہ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہم اس سے پہلے بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ میڈیا کا ایک بڑا حلقہ اپنی رپورٹنگ کے ذریعہ معاشرے میں جو زہر بورہا ہے وہ کورونا وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں تبلیغی مرکز کو لیکر میڈیا نے تو اخلاق و قانون کی تمام حدیں توڑدی ہیں اب اس کی وجہ سے اکثریت کے ذہنوں میں یہ گرہ مضبوط ہوگئی ہے کہ کورونا وائرس مسلمانوں کے ذریعہ پھیلائی ہوئی کوئی بیماری ہے، انہوں نے سوال کیا کہ اگر لمحہ بھرکے لئے بھی یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ وائرس ملک میں جماعت کے لوگوں سے پھیلا تو کیا چین ، امریکہ ، اٹلی اور برطانیہ سمیت دوسرے ممالک میں بھی اس وباکو مسلمانوں نے ہی پھیلایا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ کس قدرمضحکہ خیز الزام ہے کہ مگر اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ لوگ اس طرح کی چیزوں کو سچ سمجھ لیتے ہیں درحقیقت اس کرونولوجی یعنی کہ ترتیب کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، یہ ٹی وی چینل ازخودایسا نہیں کررہے ہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض مخصوص ذہن کے لوگوں کا دماغ کام کررہا ہے اور جن کی ہدایت پرہی یہ سب کچھ ہورہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 6سال سے میڈیا میں مسلم اقلیت کے بارے میں منفی رپورٹنگ کا مذموم سلسلہ جاری ہے مگر حکومت نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی جھوٹی خبروں اور فیک ویڈیوز کے سہارے مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے والوں کو انتباہ ہی کیا گیا ، تبلیغی مرکز کے معاملہ میں بھی یہ ہی ہوا جھوٹی خبریں چلائی گئیں فیک ویڈیوز دیکھائے گئے جن کی تردید بھی اب بعض چینل کررہے ہیں مگر اس کے بعد بھی کوئی ان ٹی وی چینلوں سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ آپ نے ایساکیوں کیا ؟ حکومت اور وزیر نشرواطلاعات کے ذمہ داران کویہ کہنا چاہئے تھا کہ اس طرح کے معاملہ کو مذہبی رنگ نہیں دیا جائے اور جو لوگ ایسا کررہے ہیں غلط کررہے ہیں لیکن افسوس ایسانہیں ہوا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ سب کچھ سرکاری سرپرستی میں ہورہا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر منظم لاک ڈاؤن سے سرکارکی خامیاں اورناکامیاں سامنے آنے لگی تھی جن پر پردہ ڈالنے کے لئے شاید اس وباکو مذہبی رنگ دیا جانا ضروری ہوگیا تھا یہ حربہ کامیاب رہا ہے اور مسلمان اس پورے معاملہ میں ویلن بن چکاہے ، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے دوران انسانی ہمدردی کی جو فضاملک میں پید اہوئی تھی اور جس طرح لوگ مذہب سے اوپر اٹھ کر مجبوراورضرورت مندوں کی مددکررہے تھے اس طرح کے پروپیگنڈے سے اسے سخت دھچکہ لگاہے ، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تفریق کے واقعات میں اچانک تیزی آگئی ہے یہاں تک کہ ایک مسلم حاملہ خاتون کو اسپتال میں داخل کرنے سے ہی منع کردیا گیا اترپردیش جیسی ریاست میں مسلمانوں کے خلاف قانون کی آڑمیں امتیازی سلوک کا سلسلہ تو عرصہ سے جاری ہے مگر اب اس میں مزید شدت آگئی ہے یہاں تک کہ مسلمانوں کو تبلیغی جماعت سے جوڑکر ان پر این ایس کے تحت کاروائی ہورہی ہے، ایسے میں ان زہر اگلنے والے بے لگام ٹی وی چینلوں کے خلاف قانونی کارروائی ہمارے لئے ناگزیرہوگئی تھی،قانونی کارروائی کی یہ پہل جمعیۃعلماء ہند کی قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزاراحمد اعظمی کی کوششوں سے عمل میں آئی ہمیں یقین ہے کہ اس پٹیشن میں اٹھائے گئے اہم سوالات اورنکتوںپر عدالت باریک بینی سے غورکرکے ان چینلوں کے خلاف رہنماہدایات جاری کرے گی ۔، پٹیشن داخل کرنے کے بعد گلزاراحمد اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی گائیڈلائن جس میں میڈیا ہاؤس کو متنبہ کیا تھا کہ وہ نیوز دیکھانے سے قبل اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں اورایسی کوئی بھی نیوز نہ دیکھائیں جس سے کسی ایک فرقہ کی بدنامی ہوتی ہواور دوفرقہ کے درمیان نفرت پیداہو۔ لیکن افسوس مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ نہیں رک رہا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گزشتہ 15 برسوں میں پہاڑی کھسکنے کے مسئلے کا کوئی حل نہیں، شہر و مضافات 22,483 خاندان خطرناک علاقوں میں مقیم

ممبئی پہاڑی گرنے سے جان و مال کا نقصان، نیز معاشی نقصان ممبئی میں کوئی نئی بات نہیں، اس کے باوجود ریاستی حکومت گزشتہ 15 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ 34 سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں سے 25 میں، پہاڑی علاقوں میں 257 مقامات کو خطرناک کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے بتایا کہ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے ترجیحی بنیادوں پر 22,483 شناخت شدہ جھونپڑیوں میں سے 9,657 کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ باقی ماندہ جھونپڑیوں کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی تاکہ پہاڑیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ گلگلی نے پہلے مہاراشٹر حکومت کو مانسون کے موسم میں 327 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
1992 سے 2026 کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے نقل مکانی کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں ایک جامع سروے کیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو ان پہاڑی علاقوں کے مکینوں کی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ بورڈ کی رپورٹ اور انل گلگلی کی خط و کتابت کے بعد، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے یکم ستمبر 2011 کو شہری ترقیات کے محکمے کو ایک ایکشن پلان بنانے کا حکم دیا۔ تاہم، اس کے بعد 15 سال گزر چکے ہیں، اور محکمہ شہری ترقی نے ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی نے بھی چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ‘ایکشن ٹیکن پلان’ (اے ٹی پی) تیار نہیں کیا،
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی میں چار دنوں کے اندر انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو مکمل کرے : چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم

ممبئی : 17 اگست، 2026، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حصے کے طور پر گھر گھر جا کر وزٹ (حاضری) کرنے اور گنتی کے فارم بھرنے کا آخری دن ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے ممبئی میں تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) کو زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے اور بقیہ چار دن کی مدت کے اندر پورے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چوکلنگم نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ کوارٹر میں آج (12 اگست 2026) کو منعقدہ میٹنگ کے دوران ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے (ممبئی سٹی اور مضافات) کے اندر خصوصی گہری نظرثانی پروگرام سے متعلق جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس میٹنگ کے دوران عہدیداروں سے خطاب کیا۔
ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نمایاں طور پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما-لاونگیرے بھی موجود تھیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگرایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ) آنچل گوئل، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ضلع کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار کے ساتھ تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) اور ممبئی کے متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے کہا کہ ووٹرز کے سوالات کو فوری طور پر حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جو بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ذریعے ‘بک اے کال’ کی سہولت کے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کے خصوصی گہرے نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم کے بارے میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر التواء گنتی فارموں کی وصولی اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پورا طریقہ کار مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ‘نشان زدہ انتخاب کنندگان’ کے معاملات کو سنبھالنے میں زیادہ مستعدی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے کہ اہل نشان زد ووٹرز کے نام ڈرافٹ رول میں شامل ہوں جبکہ فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کو خارج کر دیا جائے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گنتی کے فارموں کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن اور گھر گھر دوروں میں صرف چند دن باقی ہیں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بقیہ مدت کے دوران اس پورے عمل کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : فرضی سرٹیفکیٹ و سرکاری دستاویزات تیار کرنے والا گروہ بے نقاب، دستاویزات اور دیگر اسباب بھی ضبط، 4 گرفتار ایک ملزم فرار

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ممبئی کے باندرہ میں کارروائی کرتے ہوئے ۹ کروڑ ۴۰ لاکھ کا ایم ڈی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عنبر ہوٹل باندرہ ایک ٹپری کے سامنے ایک مشتبہ شخص پایا گیا جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے قبضے سے ۲۰۵۰ گرام ایم ڈی میفیڈون برآمد ہوا, جس کے بعد کالا چوکی اے ٹی ایس نے کیس درج کر کے اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ اس مشتبہ دو غیر ملکی خواتین کو بھی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے اس آپریشن میں پیش رفت کے دوران گریٹر نوئیڈا اترپردیش سے ۲۶۸۸ گرام مفیڈون ضبط کیا گیا اور اس معاملہ میں دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا اس معاملہ میں یو پی پولس کی مدد سے جس فیکٹری سے ایم ڈی خریدی جاتی تھی اس پر بھی کریک ڈاؤن کر کے پانچ کروڑ کی ایم ڈی ضبط کی ہے پولس اس معاملہ میں مزید کارروائی کر رہی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
