Connect with us
Tuesday,08-September-2026

جرم

دھمکی اور افواہ سے حالات خطرناک رخ اختیار کرسکتے تھے : شاہین باغ خاتون مظاہرین

Published

on

shaheen

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے شاہین باغ سمیت دہلی کے مختلف علاقوں میں پھیلی افواہ پر فوری طورپر لگام نہ لگانے اور خاطیوں کو جلدی نہ پکڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ یہ افواہ کسی بھی بڑے دردناک واقعہ کا پیشہ خیمہ ہوسکتی ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دو معاملے درج کئے گئے ہیں۔
شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے کہا کہ اس افواہ کی وجہ سے پورے علاقے میں افراتفری کا ماحول رہا اور اس سے حالات خطرناک رخ اختیار کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شاہین باغ مظاہرین کو دھمکی دینے والوں کے خلاف بروقت کارروائی ہوتی تو دہلی کے متعدد اضلاع میں اس طرح کے حالات پیش نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اس وقت جب دہلی میں کے متعدد اضلاع میں بھیانک فسادات ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت میں ضروری تھا کہ افواہ پھیلانے اور دھمکی دینے والوں پر فوری کارروائی کی جاتی۔
خاتون مظاہرین میں شامل سیما نے کہاکہ کچھ خاص علاقے سے دھمکی دینے کے متعدد ویڈیو اور آڈیوں وائرل ہو رہے تھے، جس میں شاہین باغ جانے کی اپیل کی جارہی تھی لیکن دہلی پولیس ان ویڈیو کو بنانے اور دھمکی دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے کل کا دن افواہوں کا رہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ مقامی پولیس نے اعلان کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی۔
مظاہرین میں شامل نصرت آراء اور ثمینہ اور سماجی کارکن ملکہ خاں نے کہاکہ ان فواہوں کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا کہ شاہین باغ کی خاتون مظاہرین مظاہرہ اور احتجاج چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ ان فواہوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم مزید ہمت کے ساتھ مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ قانون کا احترام کرتی ہیں اور ہر کام قانون کے دائرے میں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس والوں نے ہم سے کہا تھا کہ مظاہرہ میں آج مائک کا استعمال نہ کیا جائے، ہم نے مان لیا اور پورے دن اور رات میں مائک کا استعمال نہیں کیا گیا۔ مظاہرین نے خاموش رہ کر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم پرامن مظاہرین ہیں ہم نہیں چاہتی ہیں کہ اس مظاہرہ میں کوئی خلفشار پیدا ہو۔
انہوں نے کہاکہ فسطائی طاقتوں کی منشا یہی ہے کہ ہم لوگوں کو ڈر اور خوف زدہ کر کے بھگا دیں لیکن ان افواہ اڑانے والوں اور دھمکی دینے والوں سے کہنا چاہتی ہیں کہ ہم لوگ کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں ہیں اور اس وقت تک بیٹھیں گی جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرستوں نے دہلی میں ماحول کر کے کئی جگہ سے دھرنا اٹھوا دیا ہے لیکن یہ شاہین باغ ہے پرواز اونچی رکھتا ہے اور کسی سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں کچھ دنوں تک ہوئے تشدد کے بعد اب اتوار کی شام دارالحکومت کے چار اضلاع اور ان کے آس پاس کے علاقوں میں تشدد کی افواہ پھیلنے سے لوگوں میں افراتفری مچ گئی تھی جس کے بعد دہلی پولیس کو واضح کرنا پڑا کہ حالات پرامن ہیں۔ اس دوران تشدد کی افواہوں کے پیش نظر سیکورٹی وجوہات سے ڈی ایم آر سی نے اپنے کچھ میٹرو اسٹیشنوں بند کر دیئے۔ اگرچہ کچھ دیر بعد سبھی اسٹیشنوں کو کھول دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے ٹویٹ کرکے کہا کہ تشدد کی خبر افواہ ہے۔ پولیس نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور کسی بھی افواہ پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ دہلی کے دوارکا، روہنی، مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تشدد کی افواہیں اڑائی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کے نزدیک دو گروپوں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے اتوار کو اس علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا اور بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ ہندو سینا نے یکم مارچ کو شاہین باغ سڑک خالی کرانے کی دھمکی دی تھی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔ دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔

جرم

ممبئی : اندھیری منشیات فروش ایم ڈی کے ساتھ گرفتار

Published

on

ممبئی : ۷ ستمبر کومنشیات مخالف دستہ، باندرہ یونٹ، پولیس ٹیم کو ملی اطلاع کےمطابق جال بچھا کر مانوس بونا اپارٹمنٹ بس اسٹاپ کے بازو میں، ویسٹ 10 کنٹرکشن کے سامنے، سی ڈی برفی والا روڈ، اندھیری ویسٹ ممبئی اس عوامی جگہ پر میفیڈرون (ایم ڈی) یہ منشیات فروخت کے لیے لے کر جانے والے 01 شخص کوحراست میں لے کر گرفتار کیا گیا ہے۔ محمد ظہیب عبدالعزیز خان، عمر 36 سال، رہنے والا اندھیری مغرب ممبئی ہے۔ مذکورہ ملزم سے 153.6 گرام ایم ڈی یہ منشیات (قیمت 4,60,800/- روپے) ضبط کی گئی ہے۔

مذکورہ کارروائی دیوینط بھارتی، پولیس کمشنر، ممبئی،انیل کنبھارے، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم)، کرشن کانت اپادھیائے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم)، پورنیما چوگلے (شرنگی)، پولیس ڈپٹی کمشنر، منشیات مخالف دستہ، کرائم برانچ، ممبئی، اورسدھیر ہیرڈیکر، اسسٹنٹ پولیس کمشنر، منشیات مخالف دستہ، کرائم برانچ، ممبئی کی رہنمائی میں اے این سی ٹیم نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

جے پور کے عامر قلعے کے قریب سیاحتی رہنما کو چاقو مارنے کے بعد موت، احتجاجاً بازار بند

Published

on

policeline

ٹورسٹ گائیڈ منیش سونی، جو جے پور میں امر فورٹ کے ماوتھا علاقے کے قریب ایک تنازعہ کے دوران چاقو کے وار کے بعد شدید زخمی ہو گئے تھے، منگل کو سوائی مان سنگھ (ایس ایم ایس) ہسپتال میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے، جس سے امیر شہر کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور بندش شروع ہو گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح 10 بجے کے قریب پیش آیا جب تاریخی امیر قلعہ کے قریب گاڑیوں کی نقل و حرکت پر اختلاف پیدا ہوگیا۔ منیش سونی مبینہ طور پر گاڑیوں کو قلعے کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے جب ان کی جیپ ڈرائیور سے جھگڑا ہو گیا، جس کی شناخت اعظم کے نام سے ہوئی ہے۔ جھگڑا جلد ہی تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ تصادم کے دوران اعظم نے اپنے ساتھی نازش کے ساتھ مل کر سونی پر چاقو سے حملہ کیا۔ سونی کے پیٹ میں شدید چوٹ آئی اور وہ موقع پر ہی گر گئے۔ اسے تشویشناک حالت میں ایس ایم ایس ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی کوشش کی۔ تاہم، پولیس نے کہا کہ خون کی زیادتی اور شدید اندرونی چوٹوں کی وجہ سے منگل کو اس کی موت ہوگئی۔

اس موت نے مقامی باشندوں، تاجروں اور ٹورسٹ گائیڈز ایسوسی ایشن کے اراکین میں غصے کو جنم دیا۔ احتجاج کے طور پر، عامر مارکیٹ میں دکانیں بند رہیں، جبکہ مظاہرین نے عامر تھانے کے باہر جمع ہو کر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ امیر ایس ایچ او راجندر گودارا نے کہا کہ دونوں ملزمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس ٹیمیں حملے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والا چاقو بھی برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعظم کے خلاف عامر پولیس اسٹیشن میں اس سے قبل دو مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ سونی کی موت کے بعد بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے، اور احتیاطی اقدام کے طور پر ٹریفک کو جل محل کے راستے سے موڑ دیا گیا تھا۔ حکام نے شہریوں سے تفتیش کے دوران امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

جرم

بنگال کے جلپائی گوڑی میں پارٹی دفتر کو آگ لگانے کے بعد سی پی آئی-ایم نے احتجاجی مارچ کی کال دی ہے۔

Published

on

fire-broke

سی پی آئی-ایم نے منگل کو مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلع میں اس کے پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے بعد احتجاجی مارچ کی کال دی ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ سوموار کی رات، بی جے پی سے وابستہ شرپسندوں نے جلپائی گڑی میں ڈی بی سی روڈ پر پارٹی کے ضلعی دفتر پر حملہ کیا اور لاٹھیوں سے احاطے میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد اسے آگ لگا دی۔ تشدد مبینہ طور پر کافی دیر تک جاری رہا، سی پی آئی-ایم نے کہا، اس نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی۔ سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے اس واقعہ پر برہمی کا اظہار کیا۔

اپنے ایکس ہینڈل پر واقعہ کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے، انہوں نے لکھا: “جلپائی گوڑی سی پی آئی ایم کے ضلع دفتر پر بی جے پی کے شرپسندوں کا حملہ! انہوں نے رات ساڑھے دس بجے کے قریب چوروں کی طرح حملہ کیا۔” ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لوگوں کے ایک گروپ نے پارٹی دفتر پر اچانک حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی۔ پارٹی دفتر کے اندر موجود افراد نے فوری گیٹ بند کر دیا۔ اس کے بعد شرپسندوں نے گیٹ توڑنے کی کوشش کی اور انہیں دھمکی دینے کی بھی کوشش کی۔سی پی آئی-ایم کے ضلع سکریٹری پیوش مشرا نے منگل کو شرپسندوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، “آر ایس ایس-بی جے پی کے شرپسندوں نے جلپائی گوڑی ضلع پارٹی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، اسے آگ لگا دی، اور یہاں تک کہ پارٹی کے جھنڈے کو بھی جلا دیا۔ شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے،” انہوں نے کہا۔

سی پی آئی ایم لیڈر نے اعلان کیا کہ شام چار بجے تک جلپائی گوڑی ضلع سے ایک احتجاجی مارچ نکالا جائے گا۔ منگل کو واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ جلپائی گوڑی کے سبودھ سین بھون ضلع مرکز سے لال جھنڈے کی حفاظت کے لیے احتجاجی مارچ میں شامل ہوں۔اب تک بی جے پی کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان