Connect with us
Friday,18-September-2026

جرم

شاہین باع مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت جب تک سی اے اے واپس نہیں لیتی ہم دھرنا جاری رکھیں گے

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ میں خاتون مظاہرین نے واضح کردیا کہ جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک ہمارا پرامن مظاہرہ جاری رہے گا۔ یہ ردعمل سپریم کورٹ کے مذاکرات کار مقرر کرنے اور سماعت کو 24 فروری تک ملتوی کرنے کے بعد آیا۔
دبنگ دادیوں میں سے ایک نے کہاکہ ہمارا احتجاج جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گاجب حکومت اس قانون واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ سیاہ قانون کے خلاف بیٹھی ہیں اور جب تک حکومت اسے واپس نہیں لیتی اس وقت تک ہمارا مظاہرہ اور دھرنا جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ شاہین باغ کی دادیوں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا اور کہاکہ ہم سپریم کورٹ کے مذاکرات کارمقررکرنے کے حکم کا جائزہ لینے کے بعد کوئی بیان جاری کریں گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دہلی کے شاہین باغ مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے پر راضی کرانے کے لئے پیر کو سینئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے کو مذاکرات کار مقرر کیا ہے اور معاملے کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسٹر ہیگڑے کو اپنے تعاون کے لئے دو مزید افراد کے انتخاب کی اجازت دی۔ تاہم، اس کے لئے مسٹر ہیگڑے نے خود سینئر ایڈوکیٹ سادھنا رام چندرن کے نام کی تجویز کی۔مذاکرات کار شاہین باغ مظاہرین سے بات کرکے اپنی رپورٹ 24فروری کو عدالت میں پیش کریں گے۔
سماجی کارکن اور مظاہرہ میں شامل ملکہ خاں اور نصرت آراء نے سپریم کورٹ کے مذاکرات کار مقرر کرنے کو مثبت قدم قراردیتے ہوئے کہاکہ پہلے آئیں اور ہماری تکلیف کو سنیں اور یہ سمجھیں ہم یہاں کیوں بیٹھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ ہم یہاں کوئی شوق سے بیٹھی ہیں تو غلط سوچ رہی ہے اور ان کا یہ نظریہ موضوع سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومت ہمارے ہی ووٹ سے بنی ہے اور پھر ہم سے ہی شہریت کا ثبوت کیوں طلب کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرین ہمیشہ بات چیت کے لئے تیارہے ہیں لیکن اب تک کوئی بات چیت کے لئے شاہین باغ نہیں آیا ہے۔
انہوں نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ان باتوں کی تردید کی کہ ”ہم نے وہاں کے لوگو ں سے ملاقات بھی کی اور ان کو سمجھایا کہ وہ اس طرح سے شہر کے ایک حصے کو بند نہیں کر سکتے“۔ انہوں نے کہاکہ تشار مہتا شاہین باغ مظاہرین سے کبھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو اور کچھ لوگوں یا عدالت کو روڈ کی فکر بہت ہے لیکن یہاں بیٹھی خواتین مظاہرین کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت اس قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک ہم اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ ان خاتون مظاہرین نے کہاکہ گزشتہ دو ماہ سے زائد سے ہم لوگ مظاہرہ کر رہی ہیں اپنے گھر اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں بیٹھی ہیں، حکومت کو اس کا احساس نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ روڈ کے بند ہونے سے شاہین باغ کے لوگوں کوبھی پریشانی ہے کیوں کہ یہی ان کا راستہ ہے لیکن یہاں کے لوگ اس سیاہ قانون ہونے والی تکلیف کی وجہ سے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے امیدظاہر کی کہ مذاکرات کار ہماری تکلیف کو سنیں گے اور سمجھیں گے۔ محترمہ مریم،شبینہ اور ترنم نے بھی اسی طرح کے خیال کا اظہار کیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ گزشتہ رات خوریجی خواتین مظاہرہ سے متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے۔راجستھان کے کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کا جذبہ قابل دید ہے اوراندور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خواتین سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا۔اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ مرادآباد کی عیدگاہ میں طہزاروں کی تعداد میں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے کبیر پور بھاگلپور، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

جرم

کار موٹر سائیکل کو 500 میٹر تک گھسیٹنے کے بعد دہلی کا 73 سالہ شخص گرفتار

Published

on

نئی دہلی، ایک 73 سالہ شخص کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب اس کی کار ایک موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اسے جنوب مغربی دہلی کے آر کے میں ایک سڑک پر تقریباً 500 میٹر تک گھسیٹ گئی۔ پورم کا علاقہ۔ جمعرات کی رات دیر گئے پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ فوٹیج میں ایک کار درختوں سے جڑی سڑک پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس کے نیچے موٹرسائیکل پھنسی ہوئی ہے۔ گاڑی سے چنگاریاں اڑتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں جب کار چلتی رہتی ہے، جب کہ اسکوٹر پر سوار ایک شخص قریب سے پیچھے پیچھے آتا ہے اور بار بار ڈرائیور سے کہتا ہے کہ وہ رکنے کا کہہ رہا ہے۔ بوڑھا ڈرائیور کار کے نیچے موٹرسائیکل کے ساتھ گاڑی چلا رہا ہے۔

کار آخر کار رک جاتی ہے۔ سکوٹر پر سوار ایک خاتون نے واقعہ ریکارڈ کیا اور گاڑی کے قریب پہنچی۔ وہ کار کا دروازہ کھولتی ہے اور ڈرائیور سے باہر نکلنے کو کہتی ہے۔ “باہر آؤ۔ ہاتھ مت جوڑو، پہلے باہر آؤ،” وہ اس سے کہتی ہے۔ مجمع میں موجود ایک اور شخص کو ڈرائیور کو “بے شرم” کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ڈرائیور جس کی شناخت وینو گوپال کے نام سے ہوئی ہے، جو وسنت کنج کا رہنے والا ہے، معافی کے اشارے میں ہاتھ جوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ پھر ایک آدمی نے اسے کالر سے پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی۔ گاڑی گوپال جیسے ہی باہر نکلا، ہجوم کے ارکان نے اس کا سامنا کیا۔

موٹرسائیکل کا سوار جس کی شناخت تاپس کے نام سے ہوئی ہے، بزرگ ڈرائیور سے اس واقعے پر پوچھ گچھ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ “اگر یہ غلطی ہوتی تو آپ روک سکتے تھے، میں مر سکتا تھا،” وہ اس سے کہتا ہے۔ ہجوم میں شامل ایک اور شخص نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر کوئی موٹرسائیکل کے نیچے پھنس جاتا تو وہ کیا کرتا۔ دہلی پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کے لیے۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاپس سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کی موٹرسائیکل کو بزرگ شخص کی طرف سے چلائی گئی نیلی کار نے ٹکر مار دی۔ کار پھر چلتی رہی، بائیک کو تقریباً 500 میٹر تک اپنے نیچے گھسیٹتی رہی۔

واقعہ کی اطلاع آر کے سے ملی۔ پورم علاقہ، اور تفتیش کار ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے تصادم جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر ہوا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کے بعد کار کے ڈرائیور کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ جانچ میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ وہ اس وقت شراب کے نشے میں تھا، حکام نے بتایا کہ واقعات کی صحیح ترتیب کو قائم کرنے اور تصادم اور اس کے بعد موٹرسائیکل کو گھسیٹنے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ گروگرام میں ایک حالیہ کیس کے حوالے سے سامنے آیا ہے جہاں ایک کار ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک خاتون کو زخمی کر دیا تھا، جس نے کلب کی رہنمائی کرنے والے شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

Continue Reading

جرم

بہار میں مبینہ پیٹرول حملے میں فوجی اہلکار کی موت مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

Published

on

Death

پٹنہ، 18 ستمبر بہار کے کیمور ضلع کے رام گڑھ تھانہ کے تحت ساہوکا گاؤں کے رہنے والے فوجی سپاہی شترودھن یادو کی بدھ کی شام کو علاج کے دوران موت ہو گئی جب 8 دن پہلے مبینہ حملے میں شدید جھلس گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد بڑی تعداد میں دیہاتیوں نے جمعرات کو رام گڑھ میں احتجاج کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، یادو کو ایک مالیاتی لین دین سے متعلق تنازعہ پر رام گڑھ بلایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اسے اسکارپیو گاڑی میں بند کر کے پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔

واقعے کے بعد، شدید زخمی فوجی کو ابتدائی طور پر وارانسی کے ٹراما سینٹر لے جایا گیا؛ اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے، ڈاکٹروں نے بعد میں اسے لکھنؤ کے ایک فوجی اسپتال ریفر کردیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ یادو کی موت کی خبر سے ساہوکا گاؤں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ جمعرات کو بڑی تعداد میں مکینوں نے رام گڑھ کی طرف مارچ کیا، پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے درگا چوک پر سڑک بلاک کر دی جس سے تقریباً پانچ گھنٹے تک ٹریفک میں خلل پڑا۔ کچھ مظاہرین رام گڑھ تھانے کے قریب بھی جمع ہوئے اور احاطے کا محاصرہ کرنے کی دھمکی دی۔

کشیدہ صورتحال کے پیش نظر رام گڑھ کے اہم مقامات پر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ مظاہرین کو منانے کی کوشش کے دوران ایس ڈی ایم اور ڈی ایس پی بھی دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر موجود رہے۔ایس پی شیکھر چودھری نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے سات پولیس افسران کے کردار کی انکوائری کا وعدہ بھی کیا۔ واقعے کے سلسلے میں ملزم کے طور پر۔ تین کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ چار دیگر مفرور ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ایس پی کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے اپنا مظاہرہ ختم کر دیا۔ تقریباً پانچ گھنٹے بعد ٹریفک کی آمدورفت معمول پر آگئی۔ پولیس مبینہ حملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں مالی تنازعہ کے حالات اور ہر ایک ملزم کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان