Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

سلووینیہ کی راجدحانی میں پہلی مسجد کا قیام عمل میں آگیا

Published

on

مالی مشکلات اور نظریاتی مخالفتوں سے بھری رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے بالآخر سلووینیہ کی راجدحانی میں پہلی مسجد کا قیام عمل میں آگیا۔
اس مسجد کے قیام کو، جس کا باقاعدہ افتتاح اسی سال جون میں بعد از رمضان کیا جائے گا،سلووینیہ کے مسلمانوں کے مفتی نجات قرابرس نے ملکی تاریخ کا سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس یورپی ملک کی کل آبادی میں مسلم اقلیت کا حجم ڈھائی فیصد کے لگ بھگ ہے۔
یوگوسلاویہ سے آزاد ہونے والے اس یورپی ملک کے مسلمانوں نے آج سے پچاس سال پہلے اس مسجد کے قیام کی درخواست کی تھی۔
دائیں بازو کے حلقے اس مسجد کی شدید مخالفت کرتے رہے تھے اور اس مخالفت میں ان کا ایک الزام یہ بھی تھا کہ مسجد کی تعمی میں کثیر سرمایہ فراہم کرنے والا ملک قطر قطر دہشت گردی کے بنیادی مالی اعانت کاروں میں سے ایک ہے۔
دائیں بازو کے حلقوں اور دوسری سماجی تنظیموں کی جانب سے قطری سرمائے کی فراہمی کی بھی مخالفت کی وجہ سے مسجد کا تعمیراتی عمل خلل سے دوچار رہا۔
سلووینیہ کے مسلمانوں نے پچاس برس قبل جب اس مسجد کے قیام کی درخواست کی تھی۔ اس وقت سلووینیہ یوگوسلاویہ کا حصہ تھا۔ اس مسجد کی تعمیر کی درخواست کے 35 برسوں بعد لبلییانا کےبلدیاتی حکام نے مسلمانوں کی کونسل کو اجازت نامہ کی اطلاع دی۔ اس کی باضابطہ تعمیر سن 2013 میں شروع ہوئی۔ اس پر چونتیس ملین یورو یا انتالیس ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ اس مجموعی لاگت میں قطری حکومت نے اٹھائیس ملین یورو فراہم کئے۔

مسجد کے قیام کی مخالفت کی طرح اس کی تعمیر کو بھی روکنے کے لیے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا۔ 2016 میں ایک مرتبہ سؤر کا سر بھی مبینہ طور پرمسجد کے احاطہ رکھ دیا گیا تھااور بعض اوقات اسی جانور کے خون کا مبینہ چھڑکاؤ بھی مسجد کے اندر کیا گیاتھا۔
یہ مسجد جسے مسلم کلچرل سنٹر کا نام دیا گیا ہے ،لبلییانا کے نیم صنعتی علاقے میں تعمیر کی گئی ہے، عمارت کے ایک جانب سلووینہ کی مسلم کمیونٹی کا دفتر بھی قائم کیا جائے گا۔مسجد کے احاطے میں ایک وقت میں چودہ سو فرزندان توحید نماز ادا کر سکتے ہیں۔مسجد کا مینار چالیس میٹر بلند اور گنبد نیلے رنگ کا ہے، جو استنبول کی تاریخی نیلی مسجد کی یاد دلاتا ہے۔ اس گنبد کی وجہ سے مسجد کے اندر نیلی روشنی بھی دلفریب منظر پیش کرتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

نتیش کمار نے پٹنہ کے مزارات پر چادر چڑھائی

Published

on

عید میلاد النبی کے موقع پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کے روز پٹنہ کے پھلواری شریف میں واقع تاریخی خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کیا، انہوں نے صدر پیر حضرت مولانا آیت اللہ قادری صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ کے بانی حضرت مولانا قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر چادر چڑھائی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہار اور ملک کی خوشحالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کر رہے ہیں اور مزار کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق کا اشتراک کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس جگہ کا دورہ کرنے سے انہیں سکون کا احساس ہوا۔

خانقاہ کے منیجر حضرت مولانا منہاج الدین قادری مجیبی اور ایم ایل اے شیام راجک نے سابق وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کمپلیکس کے اندر مذہبی مقامات کا دورہ کیا اور چادر پوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مکین جمع ہو گئے۔ نتیش کمار نے عید میلاد النبی کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد دی اور انہیں مبارکباد دی۔

قبل ازیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی پرساد یادو نے پٹنہ شہر کے متن گھاٹ پر واقع خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ شریف کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چادر چڑھائی اور بہار کی امن، خوشحالی، خوشی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ یہ تاریخی مزار ریاست کی مختلف صوفی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ سالانہ عرس کے دوران علاقہ۔ اس جگہ پر حضرت خواجہ رکن الدین عشق کا مزار ہے اور ٹیپو سلطان کے خاندان سے بھی اس کا تاریخی تعلق ہے۔ ٹیپو سلطان کے پڑپوتے شہزادہ محمد کریم شاہ اپنے خاندان کے کئی دیگر افراد کے ساتھ کمپلیکس میں دفن ہیں۔

تیجسوی یادو نے بدھ کی شام کو پٹنہ کے پھلواری شریف میں خانقاہ مجیبیہ بھی جا کر درگاہ پر چادر چڑھائی اور ریاست کی خوشحالی کی دعا کی۔ عید میلاد النبی پر نتیش کمار اور تیجسوی یادو کے دورے سے بہار کی مذہبی ترقی کے لیے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی ترقی کے پیغامات ملے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی : فسادات کے سلسلے میں جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں جواب کیا داخل۔

Published

on

Umar / Shrjeel

نئی دہلی : دہلی پولیس نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ عدالت میں جواب داخل کرواتے ہوئے پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی بھی مخالفت کی۔ پچھلی سماعت (31 جولائی) میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ جمعرات کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔

دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دو افراد کی نئی ضمانت کی درخواستیں اپنے آپ میں “غیر قانونی” اور گمراہ کن ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات میں ان کے مختلف کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5)، جو کہ ضمانت کی سخت شرائط فراہم کرتی ہے، اس کیس میں لاگو ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اپنے جنوری کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے وقت نئی ضمانت کے لیے دو شرائط عائد کی تھیں۔ پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عمر اور شرجیل کیس کے اہم گواہوں کی گواہی کے بعد یا فیصلے کے ایک سال بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ کی جائے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ہے، جس میں 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ خالد اور شرجیل اس کیس میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

کال سینٹر پر ممبئی پولیس کی بڑی کارروائی، ۹ گرفتار مزید تفتیش شروع

Published

on

ممبئی پولس نے ایک ایسے کال سینٹر کو بے نقاب کیا ہے جہاں کورئیر کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں فرنچائز کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر دھوکہ دیا جاتا تھا پولس کو اطلاع ملی کہ کمرہ نمبر 90، کرار ’’انٹرنیٹ ٹرانسفر ویزا پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘، ایکسس بینک موبائل کولنک روڈ، ملاڈ (ممبئی) میں واقع کال سینٹر چلایا جارہا ہے جس میں لوگوں سے دھوکہ دہی کی جاتی ہے اس پر پولس نے ۲۵ اگست سے ۲۶ اگست تک چھاپہ مار کارروائی کو انجام دیا ۔مذکورہ کال سینٹر میں موجود افراد مختلف کوریئر اور کامرس کمپنیوں کے نام استعمال کرکے، ممبئی اور مہاراشٹر کے شہریوں سے رابطہ کرتے تھے اور انہیں ایمیزون، فلپ کارٹ، منترہ، بلیو ڈارٹ، ڈی ٹی ڈی سی، وینا مارکیٹ وغیرہ جیسی معروف کوریئر اور کامرس کمپنیوں کے ساتھ کوریئر/فرنچائز دینے کا جھانسہ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے تھے۔

مذکورہ کارروائی کے دوران کمرہ نمبر 90 کرار پولیس اسٹیشن، ممبئی کے مقدمہ نمبر 98/26 کے تحت تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم میں ملوث کمپنی کے ڈائریکٹر سمیت 09 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ۲۸ اگست تک پولیس کسٹڈی میں رکھنے کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔ مذکورہ کارروائی کے دوران 10 ہائی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 22 لیپ ٹاپ، 30 موبائل فون، 5 ٹی وی، 100 سے زائد فراڈ کے معاہدے (ایگریمنٹ) کل مالیت 24,00,000/مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کے دوران 20 سے زائد افراد کے ساتھ فراڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مزید شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

مذکورہ کمپنی کے ذریعے جن شہریوں کے ساتھ دھوکہ باری کی گئی ہے وہ پولس سے رابطہ کر کے شکایت درج کرواسکتے ہیں ۔ مذکورہ کارروائی پولیس کمشنر، دیون بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم)، انیل کنبھارے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم)، کرشن کانت اپدھیائے، ڈی سی پی ونوناتھ ڈھولےنے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان