سیاست
ادھو ٹھاکرے نے روز نامہ سامنا میں دیئے انٹرویو میں کہا، میں نے بی جے پی سےچاند ستارے تھوڑی ہی مانگے تھے
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے سامنا میں دئیے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بی جے پی اور پی ایم مودی، امت شاہ اور سابق وزیراعلی دیویندر فڑنویس پر جم کر وار کیا ہے۔ راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور سامنا ایڈیٹر سنجے راوت کو دیئے اپنے انٹرویو میں ادھو نے بی جے پی سے اتحاد ٹوٹنے پر کہا کہ میں نے بی جے پی سے چاند ستارے تھوڑے ہی مانگے تھے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں ادھو نے کہا کہ میرا خواب وزیر اعلی بننے کا نہیں تھا۔ آئیے ایک نظر ان سوالات اور جوابوں پر ڈالتے ہیں جو سی ایم ادھو ٹھاکرے نے اپنے انٹرویو میں دیئے۔
سنجے راوت: ادھو جی، آپ جھٹکے سے نکل گئے ہیں کیا؟
ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ میں شیوسینا چیف کا بیٹا ہوں، جھٹکا دینے کی کوشش کئیوں نے کرکے دیکھا ہے، لیکن کسی کو بھی وہ جمع نہیں۔ لیکن وہ جھٹکا جو شیوسینا کے سربراہ نے بہت سارے لوگوں کو دیا ہے۔ اس سے وہ لوگ اب بھی ابھرتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہے۔ آپ نے شطرنج کا ذکر کیا تھا، شطرنج یقینی طور پر ذہن سے کھیلا جانے والا کھیل ہے۔ لیکن پیادا، ہاتھی، گھوڑا، بادشاہ، وزیر، اونٹ ہر ایک کی چال ہم ذہن میں رکھیں تو شطرنج کھیلنا مشکل ہے، ایسا مجھے نہیں لگتا۔
سنجے راوت: ادھو جی، شطرنج ایک مشہور کھیل ہے، صحیح معنوں میں وہاں عقل کا استعمال کرنا ہوتا ہے؟
ادھو ٹھاكرے: یقیناً لیکن عقل اگر ہو تو نہ۔
سنجے راوت: لیکن مہاراشٹر میں، شطرنج کے اس کھیل کو سازش اور دھوکہ دہی کی ایک شکل ملی ہے۔ آپ نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا یہی بڑا جھٹکا تھا، ایسا نہیں لگتا کیا؟
ادھو ٹھاكرے: نہیں وزیر اعلی کی کرسی کو قبول کرنا نہ تو میرے لئے جھٹکا تھا اور نہ ہی میرا خواب تھا۔ انتہائی ایمانداری سے میں یہ اعتراف کرتا ہوں۔ بالاصاحب کو دیے گئے وعدے کو ادا کرنے کے لئے کسی بھی حد پر جانے کی میری تیاری تھی۔ اس سے بھی آگے جاکر ایک بات میں صاف کرتا ہوں کہ میرا وزیر اعلی کے عہدہ وعدے ادا کرنے کے لئے نہیں۔ بلکہ وعدہ ادا کرنے کی سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ اس طرف آگے بڑھنے کے لئے میں نے دل سے کسی بھی حد پر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اپنے باپ کو دیئے گئے وعدے کو پورا کرنا ہی ہے اور میں وہ کروں گا ہی۔
سنجے راوت: لیکن ایسا کرنے کے لیےآپ کو عناصر اور ٹھاکرے کنبے کی روایت کو توڑنا پڑا، کیا آپ کو نہیں لگتا؟
ادھو ٹھاكرے: ہاں، صحیح هےاپ جیسا کہتے ہیں ویسا ہے، یقیناً ہے، لیکن بالآخر ایسا تھاکہ شیوسینا چیف نے زندگی میں کبھی بھی اقتدار کے کسی عہدے کو قبول نہیں کیا۔ مجھے ایسی خواہش بالکل نہیں تھی۔
سنجے راوت: ماتوشری اور شکتی، یہ دونوں چیزیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں؟
ادھو ٹھاكرے: لیکن جب مجھے احساس ہوا کہ جن کے ساتھ ہم ہیںیا تھے، ان کے ساتھ رہ کر میں نے اپنے وعدے کے خلاف جا نہیں سکتا۔ اور اگر مجھے اس وعدے کے لئے ایک مختلف سمت قبول کرنا پڑے تو پھر ایسی تیاری ہونی چاہئے۔ اگر میرے پاس اس کے لئے اتنی بڑی ذمہ داری قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا تو یہ میرے لئے ناقابل علاج تھا۔ اس لیے اس ذمہ داری کو قبول کرنا پڑا۔
سنجے راوت: ہمیشہ ایسا کہتے ہیں کہ وزیر اعلی کا عہدہ مطلب کانٹوں سے بھری کرسی ہوتی ہے، یا کانٹوں کا تاج ہوتا ہے۔ آپ کو اس کرسی پر بیٹھ کر ایسا لگا کیا؟
ادھو ٹھاکرے: نہیں! مجھے ایسا نہیں لگتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کانٹے دار ہے لیکن اسی کانٹے دار پودے میں گلاب بھی کھلتے ہیں۔ اور گلاب کے گلکند سے جنہیں بد ہضمی ہوتی ہے، ایسے لوگوں کا علاج بھی ہوتا ہے۔
سیاست
راہل گاندھی نے پنجاب پولیس کی مبینہ بربریت کے متاثرہ شخص سے ملاقات کی، انصاف کا مطالبہ کیا

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے ہفتہ کو پنجاب پولیس کی بربریت کا مبینہ شکار موہن جیت سنگھ سے بات کی۔ موہن جیت سنگھ نے الزام لگایا کہ پولیس کی حراست میں ان پر تشدد کیا گیا، جس میں بجلی کے جھٹکے لگائے جانے اور منشیات کھانے پر مجبور کیا جانا بھی شامل ہے۔ ان الزامات نے سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے، تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران، کانگریس نے اعلان کیا کہ ریاست بھر میں اس کے کارکنان وزیر اعلی بھگونت سنگھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہر جگہ وزیر اعلی بھگونت کو سیاہ جھنڈے دکھائیں گے۔ پارٹی کے ریاستی صدر امریندر سنگھ راجہ وارنگ، جنہوں نے یہاں موہن جیت سنگھ سے ملاقات کی، میڈیا کو بتایا کہ راہول گاندھی نے موہن جیت سنگھ کی طرف سے سچائی کے لیے کھڑے ہونے اور اپنا پیغام پہنچانے میں دکھائے گئے ہمت کی تعریف کی۔ انہوں نے پنجاب میں کانگریس سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انہیں انصاف ملے۔
ریاستی صدر نے کہا کہ سی ایم مان نے “احمد شاہ ابدالی جیسا برتاؤ” شروع کر دیا تھا اور ان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مان پہلے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں جنہیں کالا جھنڈا دکھایا گیا ہے، کیونکہ ماضی میں کئی وزرائے اعلیٰ اور حتیٰ کہ وزرائے اعظم کو بھی کالے جھنڈے دکھائے جا چکے ہیں۔ لیکن، انہوں نے مزید کہا کہ مان نے جیسا رد عمل ظاہر کیا کسی نے بھی ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مثالی طور پر چیف منسٹر کو رحمدلی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا اور موہجیت سنگھ کو فون کرکے ان سے پوچھا کہ وہ احتجاج کیوں کررہے ہیں۔ لیکن اس کے بجائے، سی ایم مان نے نوجوانوں پر وحشیانہ پولیس فورس کو اتار دیا، جسے پولیس حراست میں وحشیانہ تھرڈ ڈگری ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے مزید کہا، پولیس کے وحشیانہ سلوک سے اس کے کان کے پردے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کی طرف سے واقعے کی انکوائری کا حکم دینے کو مسترد کرتے ہوئے وارنگ نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ پولیس میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ وارنگ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر اے اے پی حکومت دونوں پولس والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے، اگر پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو کانگریس کارروائی شروع کرے گی۔ وارنگ نے کہا کہ کانگریس موہن جیت کے لیے کارروائی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے گورنر سے ملاقات کر سکتی ہے۔
(جنرل (عام
تحفظ ختمِ نبوت کے موضوع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و رضا اکیڈمی کی اہم نشست

ممبئی، 5 ستمبر 2026: عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقائد سے روشناس کرانے کے مقصد سے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چشتی ہندوستانی مسجد، بھائیکلہ، ممبئی میں ایک اہم علمی و دینی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کے متعدد علمائے کرام، ائمۂ مساجد، دانشوران اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔نشست کی صدارت حضرت علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری، خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز مقررہ وقت سہ پہر 3 بجے ہوا۔ نشست میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی دینی ذمہ داری اور موجودہ دور میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2026 کو کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں بعد نمازِ عشاء منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، بانی و سربراہ رضا اکیڈمی، الحاج محمد سعید نوری نے تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی شرعی و اسلامی حیثیت واضح کی۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدۂ قطعیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی شخص کا دعوائے نبوت اسلامی عقائد کے سراسر منافی ہے۔
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوتامتِ مسلمہ کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ فتنۂ قادیانیت کے مقابلے میں علمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور وابستہ رہے۔صدارتی خطاب میں علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم پہنچاتے رہیں۔ علامہ عبدالجبار ماہر القادری نے علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور عاشقانِ رسول سے اپیل کی کہ 7 ستمبر 2026 بروز پیر بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں اور اس اہم دینی و اعتقادی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس موقع پر مولانا عرفان علیمی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔نشست میں شریک علمائے کرام اور دانشوران نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، فکری اور دعوتی سطح پر مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی، اشاعت اور نسلِ نو کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے علمی و اصلاحی نشستوں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔نشست میں علمائے کرام، دانشوران اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ آخر میں ملک و ملت، امتِ مسلمہ اور خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
(جنرل (عام
ممبئی ماہم میں دہی ہانڈی پر ہندو مسلم ایکتا کی مثال

ممبئی میں ہندو مسلم ایکتا کی مثال پیش کرتے ہوئے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ کے داخلی دروازے پر گووندہ پاٹھکوں نے پہلی سلامی پیش کی ہے ۔ درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نےبتایا کہ یہی ہندوستان کا خاصہ ہے کہ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتا ہے اور ماہم درگاہ ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا گہوارہ ہے یہاں بلا تفریق و مذہب و ملت ہر کوئی حاضری دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتی انداز میں گووندہ پاٹھک یہاں ہر سال سلامی دیتے ہیں یہ روایت صدیوں سے قائم ہے کیونکہ ہندوستان صوفی سنتوں کا ملک ہے ۔ ممبئی تھانہ میں گوکل اشٹمی دہی ہانڈی کے پس منظر میں پولس نے الرٹ جاری کیا ہے گووندہ پاٹھکوں پر پولس نے نگرانی کے لئے ڈرون کا استعمال کیا دہی ہانڈی کی اونچائی بھی طے کی گئی اس کے علاوہ اونچی دہی ہانڈی میں بچوں کی شمولیت پر پابندی عائد تھی ۔ ممبئی شہر و مضافات میں جوش و خروش کے ساتھ دہی ہانڈی کا تہوار منایا گیا ٹریفک پولس نے بھی اس کے پیش نظر شاہراہوں پر ناکہ بندی کی تھی تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاسکے اس کے تحت ٹریفک پولس نے بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہے ۔
ممبئی شہر میں دہی ہانڈی پر سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے کیا تھا اس مطابق ڈی سی پی راج تلک روشن نے کہا کہ دہی ہانڈی پر پولس پوری طرح سے مستعد ہےاور حالات پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اس کے علاوہ ڈرون سے بھی نگرانی جاری ہے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دہی ہانڈی پر قانون کی پاسداری کی بھی اپیل کی ہے ۔ مختلف سرکاری اور بی ایم سی ہسپتالوں سے زخمی گووندوں کے بارے میں دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ۲۵ سے زائد گووندہ پاٹھک زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہی ہانڈی کا تہوار اب بھی جاری ہے ایسی صورتحال میں مسلسل بی ایم سی کے اسپتال الرٹ موڈ پر ہے اس کے ساتھ ہی پولس بھی الرٹ ہے ممبئی میں دہی ہانڈی کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ گووندہ پاٹھکوں کے زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں کئی کو علاج کے بعد رخصتی دیدی گئی ہے ۔ گووندہ پاٹھکوں نے یہاں ممبئی کے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ سے پہلی سلامی دی اور ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا ثبوت پیش کیا یہ گووندہ منڈل ہر سال اسی طرز پر آستانہ مخدوم پر سلامی دے کر بابا مخدوم اور ماں صاحب کی جئے کا نعرہ بلند کرتا ہے یہ نفرت پرستوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہےاس سے یکجہتی اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے ۔ پولس نے دہی ہانڈ ی پر سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے جس کے سبب ممبئی میں کسی بھی قسم کا کوئی ناموافق واقعہ پیش نہیں آیا ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
