Connect with us
Thursday,02-April-2026
تازہ خبریں

سیاست

صدر کا خطبہ مایوس کن: اپوزیشن

Published

on

کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے صدر رام ناتھ کووند کے خطاب کو مایوس کن بتایا اور کہا کہ اس میں ملک کو درپیش اہم مسائل کو شامل کرنے کی امید تھی لیکن صرف حکومت کی تعریف میں پوری تقریر ختم ہوگئی۔
کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون‘ نیشنل پاپولیشن رجسٹر، شہریت کا قومی رجسٹر کے سلسلے میں ملک بھر میں ہر عمر اور ہر طبقہ کے لوگوں کا ملک کی کئی ریاستوں میں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے تحریک چل رہی ہے۔ لیکن حکومت نے اس معاملے میں آج تک کسی بھی فریق سے بات نہیں اس کے برخلاف وہ مذہب کی بنیاد پر صف بندی کی سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی گرتی ہوئی اقتصادی صورت حال، بے روزگاری سمیت تمام امور پر کانگریس سمیت چودہ اپوزیشن جماعتوں نے بابائے قوم کے مجسمہ کے سامنے صبح ساڑھے نو بجے ہاتھوں میں کالی پٹی باندھ کر مظاہرہ کیا۔
مسٹر آزاد نے کہا کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف ملک کے بہت بڑے حصے میں ناراضگی ہے۔ اس کے خلاف تمام مذاہب‘ ذات اور صوبے کے لوگ شامل ہیں۔ کئی مقامات پر کئی ماہ سے لوگ سڑکوں پر تحریک کررہے ہیں۔ جس میں شیر خوار بچے سے لے کر نوے سال کی بزرگ خواتین شامل ہیں۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں حکمراں جماعت کی طلبہ تنظیموں نے نقاب پوش حملے کو انجام دیا جس کے خلاف ملک بھر کے نوجوانوں میں ناراضگی ہے۔ایک اندازہ کے مطابق جے این یو تشدد کے بعد ملک بھر میں اس کے خلاف کئی ہزار جلوس نکالے گئے۔ شہریت قانون اور جے این یوتشدد کے خلاف نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں مظاہرہ کرنے والے تیس نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے اور اس دوران ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس راشٹریہ جنتا دل، سی پی ایم سمیت چودہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین صدر کے خطبہ کے دوران احتجاج کے طور پر اپنی سیٹوں سے ہٹ کر بیٹھے۔ صدر کے خطبہ میں کئی ایسی چیزوں کو شامل کیا گیا جو پانچ یا چار سال پرانی تھی۔ بے روزگاری،غریبی، بے کاری اور مہنگائی پر ان کی تقریر میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ مجموعی گھریلو پیداوار جس تیزی سے گر رہی ہے، روپیہ تیزی سے گر رہا ہے اس کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔
مسٹر آزاد نے کہا کہ کشمیر کو مرکز کے زیر انتظامہ علاقہ بنانے کے بعد اسے تباہ کیا گیا ہے او رصدر نے اپنی تقریر میں وہاں تیزی سے ترقی کی بات کہہ کر انتہائی بھدا مذاق کیا ہے۔
سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ ملک بھر میں جس طرح کے حالات ہیں وہ نہایت تشویش ناک ہیں۔ مظاہرہ کرنے والے لوگوں سے بات چیت کے بجائے حکومت تشدد کروارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کھلے عام پولیس کے سامنے جس طرح گولی چلائی گئی وہ نہایت افسوس ناک ہے۔ حکومت کی اعانت سے تشدد کو فروغ دیا جارہاہے۔ ہندو سینا نے شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے خلاف جنگ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ملک کی معیشت کی حالت تشویش ناک ہے۔
آر جے ڈی کی رہنما میسابھارتی نے کہا کہ ملک بھر میں جس طرح کا ماحول ہے اس سے ہر ایک واقف ہے۔ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں تمام مذاہب ’ذات او رفرقوں کے لوگ تحریک کررہے ہیں اور حکومت اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : خود ساختہ وی آئی پی کے خلاف ٹریفک پولس کی کارروائی، ۸ گاڑیوں کی بتیاں اور سائرن ضبط، ٹریفک محکمہ کی رجسٹریشن منسوخی کی سفارش

Published

on

traffic-police

ممبئی : ٹریفک پولس نے خودساختہ اہم اشخاص کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بلا کسی اجازت کے وی آئی پی کلچرل فلش بتی اور سائرن کے استعمال کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہے, اس میں ایسی گاڑیوں اور بتیوں پر کاروائی کی گئی جو خود کو وی آئی پی ثابت کرنے کے لیے گاڑیوں پر بتیاں لگاتے تھے. خصوصی مہم کے تحت یکم اپریل اور ۲ اپریل کو پولس نے شہر میں گاڑیوں پر جبرا سرخ، نیلا، پیلا اور پیلا دیم لائٹ فلش لائٹ کی گاڑیوں پر تنصیب کرنے والوں پر کارروائی کی ہے. اس دوران ۸ گاڑیوں پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد لائٹ بتیاں ضبط کی گئیں اور موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت جرمانہ کی بھی کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کوئی پرائیوٹ گاڑیوں پر دیم لائٹ کی تنصیب کرتا ہے تو اس کے گاڑی کا رجسٹریشن منسوخی کے ساتھ زائد جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ٹریفک محکمہ اس گاڑی کا رجسٹریشن منسوخی کی سفارش آر ٹی او کو کرے گی۔ ٹریفک پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کوئی پرائیوٹ گاڑی پر لال بتی صرف فلش لائٹ نظر آتی ہے تو وہ اس کی شکایت ٹریفک پولس یا ایکس ٹوئٹر ہنڈل پر کر سکتے ہیں۔ ٹریفک میں ان گاڑیوں سے خلل پیدا ہوتی ہے ایسی متعدد شکایت موصول ہوئی تھی جس کے بعد ٹریفک محکمہ نے یہ کارروائی کی ہے۔ ممبئی شہر میں یہ کارروائی اب جاری رہے گی۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

یو اے ای نے ایرانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے داخلے اور ٹرانزٹ پر پابندی عائد کر دی

Published

on

UAE

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایرانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے نئی سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جن کے تحت انہیں ملک میں داخل ہونے یا اس کے ہوائی اڈوں کے ذریعے دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

تازہ ہدایات کے مطابق ایئر لائنز کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے باعث ایرانی شہری اب یو اے ای کے لیے پروازیں بک نہیں کر پا رہے اور نہ ہی دبئی یا ابوظہبی جیسے اہم ٹرانزٹ مراکز استعمال کر سکتے ہیں۔ ویزا اور سفری قواعد کے ذریعے اس پابندی کو مؤثر بنایا گیا ہے۔

اگرچہ یہ پابندی وسیع دکھائی دیتی ہے، تاہم کچھ افراد کو اس سے استثنا حاصل ہو سکتا ہے۔ ان میں طویل مدتی رہائشی ویزا رکھنے والے، خصوصی اجازت یافتہ افراد یا وہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں جن کے یو اے ای میں خاندانی یا پیشہ ورانہ روابط ہیں۔ ایسے معاملات میں اضافی جانچ پڑتال اور منظوری درکار ہو سکتی ہے۔

حکام نے اس پابندی کو مستقل قرار نہیں دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ایک عارضی اقدام ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تحت احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے۔

اس فیصلے سے بہت سے ایرانی مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بین الاقوامی سفر کے لیے یو اے ای کو ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ایئر لائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سفری اہلیت کی جانچ کریں اور فی الحال متبادل راستوں پر غور کریں۔

صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سفر کی منصوبہ بندی سے قبل تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میئر ریتو تاوڑے : گھاٹکوپر کے راجاواڑی اسپتال پر مریضوں کی خدمات کا بوجھ زیادہ، اسپتال کی تعمیر نو کے کام میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی

Published

on

Mayor Ritu Tawde

ممبئی : سیٹھ وی سی گاندھی اور ایم اے وورا میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال یعنی گھاٹکوپر (مشرق) میں راجہ واڑی اسپتال کی ازسر نو تعمیر جاری ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں تقریباً 600 بستروں کی گنجائش والی عمارت تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ اس سلسلے میں میئر ریتو تاوڑے نے آج (2 اپریل 2026) پروجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا اور اس کا معائنہ کیا۔ کارپوریٹر دھرمیش گری، راجواڑی اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بھارتی راجول والا، اسپتال انفراسٹرکچر سیل کے ڈپٹی چیف انجینئر مسٹر منوج رانے، این ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر (اضافی چارج) ماروتی پوار اور تمام متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔

ابتدائی معلومات دیتے ہوئے ڈپٹی چیف انجینئر رانے نے کہا کہ راجواڑی ہاسپٹل ری ڈیولپمنٹ فیزایک کے تحت تعمیر کی جانے والی عمارت میں ایک نچلا تہہ خانہ، تہہ خانہ، گراؤنڈ فلور کے علاوہ 10 منزلیں ہوں گی۔ 600 بستروں کی گنجائش والی اس عمارت میں تمام جدید ترین طبی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس کے لیے تقریباً 33 ہزار 179 مربع میٹر کا تعمیراتی رقبہ دستیاب ہوگا۔ فیز ایک کی عمارت کا سنگ بنیاد دسمبر 2025 میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معمولی معدنیات اور ریڈار کے حوالے سے اجازت ملنے کے فوراً بعد تعمیراتی کام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمارت کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد پورے اسپتال کو اس میں منتقل کردیا جائے گا اور اگلے مرحلے میں دوسری عمارت تعمیر کی جائے گی۔

میئر ریتو تاوڑے نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ سنگ بنیاد کے چار ماہ گزرنے کے بعد بھی حقیقی تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انتظامیہ کو جہاں بھی مشکلات کا سامنا ہے وہ معاملات سینئرز کے نوٹس میں لائے جائیں۔ نیز عوامی نمائندوں کے تعاون سے ایسے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ میئر نے سختی سے مشورہ دیا کہ تمام ضروری اجازت نامے حاصل کرنا ٹھیکیدار کا کام ہے اور اصل کام میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ عمارت کی تعمیر کا کام اگلے ہفتے شروع ہونا چاہیے۔ جب تعمیراتی کام جاری ہے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں کہ پڑوسی اسپتال میں مریض تعمیراتی شور، دھول وغیرہ سے پریشان نہ ہوں۔ میئر تاوڑے نے یہ بھی ہدایت دی کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ہونے والی مشترکہ میٹنگ میں اسپتال کی دوبارہ ترقی کے بارے میں تفصیلی پیشکش کی جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان