Connect with us
Monday,11-May-2026
تازہ خبریں

جرم

بھارت بند میں ادھوری منصوبہ بندی کے تحت دھولیہ بند کو ناکام بنانے کی سازش کا پردہ فاش

Published

on

(عطاؤالرحمٰن)
دھولیہ شہر میں بھولے بھالے علمائے کرام کا کچھ لوگوں نے غلط استعمال کیا ہے۔ ہر بڑے محاذ میں علمائے کرام کے نام پر روٹی سینکھنے والے قلیل تعدا د میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی کرسی بچانے کے لیے علماء کا نام استعمال کرتے ہیں تو کچھ لوگ جھوٹی شہرت کے لیے عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے علمائے کرام کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ آج دھولیہ بند کے موقعہ پرعلمائے کرام نے بذات خود چل کر بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن دوپہر میں کچھ لوگوں نے بغیر مشورے کے جمعیۃ کا لیٹر ہیڈ کے بغیر سادے کاغذ پر اپنا نام اور دستخط کرکے عوام سے کاروبار شروع کرنے کی اپیل کی ۔ عوام میں کچھ سمجھدار لوگوں نے اس اپیل کا بائیکاٹ کیا، کیونکہ لیٹر ہیڈ اور علمائے کرام کا نام حذف تھا۔ جب کہ جمیعۃ علمائے کرام کی تنظمیم ہے۔ سوشل میڈیا سے جی نہ بھرنے کی صورت میں کچھ عہدیداران اور سیاست داں لوگوں کے درمیان بولتے پھر رہے تھے کہ بند کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا ہے لہذا کاروبار شروع کردیا جائے۔ اتنے پر بھی بس نہیں کیا گیا مسجد کے ٹرسٹیان سے بغیراجازت کے مسجدوں سے کاروبار شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ممبئی پریس نے جب ان لوگوں سے بات چیت کی تو وہ معقول وجہ بتانے سے قاصر رہے۔ انہوں نے کہا کہ سو فٹ روڈ پر ماحول خراب ہورہا ہے، امن وامان غارت ہونے کے امکانات ہیں۔ پولس کو پہلے سے ہی علم تھا کہ بھارت بند ہے تو پولس انتظامات کیوں نہیں ؟ سو فٹ روڈ علاقہ پر نشے کے عادی بیٹھتے ہیں اس سے قبل بھی وہاں سے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ چند سماج دشمن عناصر کی وجہ سے پورے شہر میں ڈھنڈورا پیٹنے کی ٗضرورت کیا ہے ؟ شام تک پولس شر پسندوں کو اٹھاکر جمع کرسکتی تھی ان کے لیے مقصد کو کیوں پس پشت ڈالنے کی کوشش کی گئی؟ سیاسی لوگوں کو کیوں ساتھ میں لے کر بند کی مخالفت کرنا پڑی ؟ کیونکہ سماج دشمن عناصر بھی ان کی ووٹ بینک ہیں، وہ ناراض نہ ہو اس لیے شہر میں کہا جارہا ہے کہ مقصد پورا ہوگیا اور کاروبار شروع کردو۔ کیا مقصد پورا ہوا؟ سی اے اے واپس لے لیا گیا؟ این آر سی واپس لینے کو حکومت راضی ہوگئی؟ آج جب بند میں عوام نے مکمل تعاون کیا تو انہیں کشمکش میں کیوں مبتلا کیا جارہا ہے؟ اگر شہر کے ماحول کی فکر تھی تو ایک ہفتہ پشتر سے ہی کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی تھی ؟ بند کے اوقات میں پروگراموں انعقاد کیوں نہیں کیا گیا؟ آئیۃ کریمہ اور این آر سی، سی اے اے بیداری کے متعلق عوام کو مصروف کیوں نہیں رکھا گیا ؟ جن لوگوں نے بند میں تعاون کیا وہ لوگ امن غارت کرسکتے ہیں ؟ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے مطابق کاروبار شروع رہے اور ان کے مطابق بند رہے ، اس تناشاہی سوچ اور نامکمل منصوبہ بندی، مشورے کی کمی والے کام سے لوگوں نے انکار کردیا ہے اور اپنے کاربار کو پورا دن مکمل طور سے بند کرنے کے فیصلے پر اٹل رہے ہیں۔ عوام کا فیصلہ اپنی جگہ بالکل درست ہے، اگر ایسا ہوجاتا تو آئندہ بند کے اعلان میں تعاون ملنا مشکل ہوجاتا۔ چند لوگ علمائے کرام کا غلط استعمال کرتے ہیں ، جمیعۃ کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جمعیۃ کے ریاستی اور مرکزی عہدیداران کو اس جانب توجہ مرکوز کرکے کاروائی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جرم

سائبر مجرموں نے ایک ریٹائرڈ مینیجر کو دہلی دھماکہ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر 40.90 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔

Published

on

ممبئی کے بھنڈوپ علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں ایک ریٹائرڈ بینک مینیجر کو پھنسانے کی دھمکی دیتے ہوئے، دھوکہ بازوں نے اسے 54 دنوں تک “ڈیجیٹل گرفتاری” کے تحت رکھا اور 40.90 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ شکایت کے بعد، ممبئی سائبر سیل نے تحقیقات شروع کی. 10 مارچ کو، متاثرہ، راجیندر (مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے ریٹائرڈ مینیجر) کو سگنل ایپ پر ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو کال موصول ہوئی جس کا لیبل “اے ٹی ایس ڈیپارٹمنٹ” تھا۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت “پی ایس آئی سنگھ” کے طور پر کروائی، جو دہلی اے ٹی ایس کے ایک افسر تھے، اور دعویٰ کیا کہ اس کا نام جنوری کے دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں سامنے آیا تھا۔ دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو مطلع کیا کہ اس کے آدھار اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، جس میں کل 2.65 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی دی۔ خوف کا ماحول بنا کر دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو گھر کے الگ کمرے میں رہنے، کسی سے بات کرنے سے گریز کرنے اور مسلسل ویڈیو کال کرنے پر مجبور کیا۔ ذہنی دباؤ کے تحت متاثرہ نے ابتدائی طور پر 2.90 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے اسے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی 29 لاکھ کی سرمایہ کاری کو بیچنے پر مجبور کیا، جس سے 28 لاکھ مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ مزید برآں، انہوں نے “بیل سیکیورٹی” کے نام پر 10 لاکھ بھتہ وصول کیا، جو متاثرہ کی بیوی نے قرض کے ذریعے فراہم کیا تھا۔ جعلسازوں نے انہیں یقین دلایا کہ دو دن میں پوری رقم واپس کر دی جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن انہوں نے رقم ملتے ہی رابطہ منقطع کر دیا۔ کئی دنوں تک انتظار کرنے اور کوئی جواب نہ ملنے کے بعد متاثرہ کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس نے 3 مئی کو سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کروائی اور 4 مئی کو سائبر سیل میں باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ ممبئی پولیس کے مطابق، یہ کیس سائبر کرائم کے ایک خطرناک نئے رجحان کو اجاگر کرتا ہے جسے “ڈیجیٹل گرفتاری” کہا جاتا ہے، جہاں جعلساز سرکاری اداروں کے خوف کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی طور پر دباؤ ڈالتے ہیں اور بڑی رقم بٹورتے ہیں۔ سائبر سیل اس وقت متعلقہ بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہا ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

Continue Reading

جرم

پونے میں ایک اور شرمناک واقعہ: نابالغ لڑکی کو اس کے نانا نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

Published

on

پونے: مہاراشٹر کے پونے ضلع سے ایک بار پھر شرمناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ 9 سالہ بچی کو اس کے نانا نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی۔ پولیس نے حالات کو قابو میں کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پونے کے پاروتی کچی آبادی میں پیش آیا جہاں منگل کو نانا نے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاروتی پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس کے جوائنٹ کمشنر رنجن کمار شرما نے بتایا کہ ملزم کے نانا کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن لایا گیا ہے، جہاں اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مجرم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ غور طلب ہے کہ پونے ضلع میں ابھی کچھ دن پہلے ایک اور ہولناک واقعہ پیش آیا تھا۔ یکم مئی کو تحصیل بھور کے علاقے نصرپور میں 65 سالہ شخص نے کم سن لڑکی کو کسی بہانے اپنے ساتھ لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔ ملزمان نے لاش کو گوبر کے ڈھیر کے نیچے چھپانے کی بھی کوشش کی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے 7 مئی تک پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ نصرا پور علاقے میں اس واقعہ کے بعد سے عوامی غم و غصہ جاری ہے۔ دریں اثنا، پونے کے پاروتی سلم علاقے میں اس نئے واقعے نے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ تاہم پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

جرم

پونے ضلع کے داؤنڈ میں ایک باپ نے اپنی 9 سالہ بیٹی کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا۔

Published

on

crimeee

پونے، پونے کے نصرا پور میں ایک لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ بمشکل نمٹا ہے جب ضلع کے داؤنڈ تعلقہ کے دیولگاؤں راجے گاؤں میں اب ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ باپ نے اپنی ہی 9 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔ ملزمان نے لڑکی پر لکڑی کاٹنے والی مشین سے حملہ کر دیا۔ قتل کے بعد لاش کو کپڑے میں لپیٹ کر شواہد مٹانے کے لیے گھر کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ ہنومان بستی، کالے وستی علاقہ میں پیش آیا۔ ملزم شانتارام دوریودھن چوان (33) کو شک تھا کہ اس کی بیٹی نے اپنے بھائی کے اسکول کی مارک شیٹ میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ اس شک نے اسے مشتعل کر کے لڑکی کو قتل کر دیا۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد گھر کو آگ لگا دی، لاش چھپانے اور تلف کرنے کا ارادہ کیا۔ چنگو شندباد بھوسلے نامی ایک خاتون پر اس واقعے میں مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔ داؤد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے ملزم شانتارام چوان کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ معاملے کی جانچ سب انسپکٹر سنیل اوگلے کر رہے ہیں۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے واقعے کی خبر سن کر خوفزدہ ہو گئے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کو اس کے اپنے باپ کے ہاتھوں اس طرح قتل کیا جائے گا۔ عوام انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (بی این ایس 2023) کی دفعہ 103(1)، 238، اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ سیکشن قتل، شواہد کو تباہ کرنے اور دیگر جرائم کا احاطہ کرتا ہے۔ پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ آگ لگنے سے مکان کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ پڑوسیوں نے دھواں اور آگ کے شعلے دیکھ کر اطلاع دی اور مدد کے لیے پہنچ گئے لیکن تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان