Connect with us
Saturday,06-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

عصمت دری جیسے گھنا ؤنے جرم پر رحم کی درخواست قانون کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں ہے

Published

on

nirbhayacase

(وفا ناہید)
نربھیا عصمت دری کے مجرموں کو 22 جنوری کو پھانسی دی جانے والی تھی. ان چاروں مجرمین میں سے ایک مجرم مکیش کی رحم کی درخواست ابھی صدر جمہوریہ ہند کے پاس زیر غور ہے لہذا نربھیا عصمت دری کے ان چاروں مجرمین کو 22 جنوری کو دی جانے والی پھانسی کی سزا منسوخ کردی گئی. کیا یہ قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے. ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ عصمت دری کے کیس کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلاکر جلد سے جلد سے انہیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے کہ ایسے گھناؤنے فعل پر قابو پایا جاسکیں. پھانسی کے ڈر سے ہوسکتا ہے کہ عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پایا جاسکیں . دسمبر 2012 میں نربھیا عصمت دری کی واردات انجام دی گئی تھی. 7 سال کے طویل عرصے کے بعد نربھیا عصمت ریزی کے مجرمین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی. پورا ملک سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خوش ہوگیا. نربھیا کے والدین نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب ہماری بیٹی کی آتما کو شانتی ملے گی. 22 جنوری 2020 کو دی جانے والی اس پھانسی کی سزا کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھی. جس جلاد کو ان وحشی درندوں کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا اس نے ایک ایسا جملہ کہا کہ واقعی روح کانپ اٹھی. اس جلاد کا کہنا تھا کہ میں نے آج تک بہت سے مجرموں کو پھانسی دے کر موت کی نیند سلایا ہوں مگر میں نربھیا کے والدین کا سامنا کرنے سے کانپ جاتا ہوں. جنوری کے پہلے ہفتے میں نربھیا عصمت دری کے ایک مجرم مکیش کی جانب سے صدر جمہوریہ کے پاس رحم کی ایک اور درخواست روانہ کی گئی اور یہی سے شروع ہوا نربھیا عصمت دری کیس میں قانون سے کھلواڑ کا سلسلہ. آج جب ہم یہ سطور تحریر کررہے ہیں. 17 جنوری 2020 رات کے ساڑھے 12 بجے ہیں . کیا صدرجمہوریہ 2 دنوں میں رحم کی درخواست پر اپنے فیصلے سے پھانسی کی اس سزا پر اپنی مہر ثبت نہیں کر سکتے ؟ یا جس طرح 7 سال کا یہ طویل عرصہ نربھیا کے والدین اور ملک میں بسنے والی انصاف پسند عوام نے جس کرب میں گذرا ہے. انہیں انصاف کے نام پر لالی پاپ تھمایا جارہا ہے. یہ بلاوجہ عدلیہ کی کاروائی میں رخنہ اندازی ہے تاکہ پھانسی کی سزا کو باربار ملتوی کرکے ان وحشی درندوں کو سزا سے بچایا جا سکے. اس طرح عصمت دری کے اس طوفان کو روکا تو نہیں جاسکتا ہے. کیونکہ یہ گدھ نما درندے اسی طرح بیٹیوں کی عزتوں کو تار تار کرتے رہیں گے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ کیس چلے گا اس میں سالوں بیت جائینگے اور جب فیصلہ آنے گا تب صدر جمہوریہ تو ہے ان سے رحم کی درخواست کریں گے. تاکہ اگر رحم کی درخواست خارج بھی ہوگئی تو کیا سزا تو ملتوی ہوسکتی ہے. پہلی بات تو ایسے درندوں کا کیس کسی وکیل نے نہیں لینا چاہیے اور دوسری اہم بات ایسے درندوں کے لئے رحم کی درخواست جیسا کوئی آپشن نہیں ہونا چاہئے کہ جہاں یہ قانون کی دھجیاں اڑا کر اس کی گرفت سے بچ سکیں. بس ایک ہی پوائنٹ پر مستقل مزاجی دکھانی ہے کہ ان شیطان کے چیلوں نے کسی کی عزت کا جنازہ نکالا ہے. وہ لڑکی جس کی عفت کا موتی چرا کر اسے موت کے گھات اتار کر یہ درندے دندناتے پھرنا چاہتے ہیں. وہ معصوم جس کی عصمت لوٹی گئی وہ کسی کی بیٹی , کسی کی بہن تھی. شاید ایسے کمینے اپنی ماں بہن کی بھی عزت نہیں کرتے ہونگے. یا ان کے والدین نے انہیں کسی دوسرے کی بیٹی کی عزت کرنا سکھایا ہی نہیں. یا ان کے والدین کی تربیت میں کمی تھی جو ایسا بدکار بیٹا جنم دیا ہے کہ وہ کسی عورت کی عزت کرنا ہی نہیں جانتا.

مہاراشٹر

شیو سینکوں کو ووٹر لسٹ مہم میں مشغول ہونا چاہئے، صرف کام کرنے والوں کو ہی تنظیم میں عزت ملے گی : ڈاکٹر شریکانت شندے

Published

on

Shinde

ریاست میں 24 سال بعد ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی کا عمل جاری ہے۔ اس مہم سے جعلی ووٹروں کے ناموں کو ہٹایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہمارے حامیوں کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہوں۔ اس کے لیے پارٹی کے بی ایل اے اور کوآرڈینیٹرز کو اگلے تین ماہ تک انتہائی چوکسی اور سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔ یہ ہدایات شیوسینا پارلیمانی پارٹی کے لیڈر اور رکن اسمبلی ڈاکٹر شریکانت شندے نے چالیسگاؤں اور امل نیر میں منعقدہ عہدیداروں کی میٹنگ میں دیں۔ ایم پی ڈاکٹر شری کانت شندے، جنہوں نے اپنے شیو سمواد دورے کے ایک حصے کے طور پر خاندیش کا دورہ کیا، جلگاؤں ضلع کے مختلف اسمبلی حلقوں میں دن بھر جائزہ میٹنگیں کیں۔ ان میٹنگوں میں ایم پی ملند دیورا، وزیر گلاب راؤ پاٹل، جلگاؤں رابطہ چیف ایم ایل اے دلیپ لانڈے، ایم ایل اے کشورپا پاٹل، ایم ایل اے امول پاٹل، ایم ایل اے چندرکانت سوناونے، ایم ایل اے چندرکانت پاٹل، شیو سینا کے سکریٹری بھاؤ صاحب چودھری، ریاستی تنظیم کے سربراہ اور سابق ایم پی آنند پرانجاپے، سابق ایم ایل اے شریش چودھمے، سابق ایم پی اور ضلع کے اہم عہدیداران موجود تھے۔

چالیسگاؤں میں پچورا، ایرنڈول اور چالیسگاؤں اسمبلی حلقوں کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیوسینا پارلیمانی پارٹی کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے نے کہا کہ ریاست میں 24 سال کے بعد ووٹر لسٹ کی جامع نظرثانی کا کام جاری ہے۔ 30 جون سے گھر گھر ووٹر لسٹ کی تصدیق شروع ہو جائے گی، اس لیے بی ایل اے اور کوآرڈینیٹرز کو بی ایل اوز کے کام کی نگرانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام کارکنوں کو اگلے تین ماہ کے لیے ایس آئی آر مہم پر پوری تندہی سے کام کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر شری کانت شندے نے کہا کہ شیوسینا میں عہدے صرف کام کرنے والوں کے لیے ہیں۔ اس فلسفے کو مدنظر رکھتے ہوئے، جیوتی تائی واگھمارے، جو ایک عاجزانہ پس منظر سے آتے ہیں، راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے، اور کسان لیڈر بچو کڈو کو قانون ساز کونسل میں نشست دی گئی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ادارے میں آئندہ تقرریاں سفارش کی نہیں کارکردگی کی بنیاد پر ہو گی۔

انہوں نے کارکنوں سے اتحاد اور تنظیم کو مضبوط کرنے پر زور دیا اور یقین ظاہر کیا کہ شیوسینا کا زعفرانی پرچم چالیس گاؤں میں بھی مضبوطی سے لہراتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انمیش پاٹل کے شیو سینا میں شامل ہونے سے چالیسگاؤں علاقے میں پارٹی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ املنیر میں ایک جائزہ میٹنگ میں، جس میں چوپڑا، جلگاؤں دیہی، اور املنیر اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا گیا، ڈاکٹر شندے نے بی ایل اے-1 اور بی ایل اے-2 کے کام کی نگرانی کے لیے کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ووٹر لسٹ سے کسی بھی حامی کا نام غائب ہو تو فوری طور پر اس کا ازالہ کیا جائے اور جلگاؤں ضلع میں شیوسینا کا غلبہ برقرار رکھنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

اس موقع پر سرپرست وزیر گلاب راؤ پاٹل نے کہا کہ ایکناتھ شندے حکومت نے کسانوں کے قرضوں کی معافی، این ڈی آر ایف ریلیف اقدامات، اور مختلف عوامی فلاحی اسکیموں کے ذریعے عوام کا اعتماد جیت لیا ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں مہاوتی کی تاریخی اکثریت ہے۔ دو دن میں 19 اسمبلی حلقوں کا جائزہ شیو سمواد کے دورے کے دوران ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے نندوربار، دھولے اور جلگاؤں اضلاع میں 19 اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس سے پہلے وہ مراٹھواڑہ کے جالنا، ناندیڑ، پربھنی، ہنگولی اور بیڑ اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران نے کویت اور بحرین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، امریکی فوج کا انہیں مار گرانے کا دعویٰ

Published

on

Atteck

تہران/کویت سٹی : یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے ہفتے کی صبح کویت، بحرین اور آبنائے ہرمز کی طرف کئی بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے، جنہیں امریکی افواج نے روک دیا۔ سینٹ کام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ چھ میزائلوں کو روکا گیا اور ساتواں میزائل کسی بھی چیز کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز میں چار ڈرون مار گرائے جانے کے بعد ایران نے بیلسٹک میزائل داغے تاکہ سمندری ٹریفک میں خلل ڈالا جا سکے۔ ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکہ نے گوروک اور قشم جزائر پر ایرانی فوجی ریڈار سائٹس پر حملہ کیا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ سات بیلسٹک میزائل اور کئی ڈرونز کویت اور بحرین کی جانب داغے گئے، جس میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ تمام خطرات کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سی این این کے مطابق پوری جھڑپ آبنائے ہرمز میں ہوئی جو تیل کی تجارت کے لیے دنیا کا اہم سمندری راستہ ہے۔ امریکہ نے ایران کو اپنا تیل اور سامان بیرون ملک فروخت کرنے سے روکنے کے لیے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ایران کے آئی آر جی سی کے مطابق، چار آئل ٹینکرز، جن کی رہنمائی امریکی افواج نے کی تھی، اس راستے سے غیر قانونی طور پر نقل و حمل کی کوشش کر رہے تھے، جن میں سے ایک کو ایران نے وارننگ دے کر روک دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایرانی خود کش ڈرون بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہیں۔ امریکہ نے پہلے چار ایرانی ڈرون مار گرائے اور پھر ایران کے جنوبی ساحل (جزیرہ قشم اور گوروک) پر ساحلی نگرانی کے ریڈار تنصیبات پر فضائی حملے کرکے جوابی کارروائی کی۔ ایران نے کویت میں علی السلم ایئر بیس، جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں، اور بحرین میں امریکی بحریہ کے 5ویں فلیٹ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے سات بیلسٹک میزائل داغے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک سرکاری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انہوں نے سات میں سے چھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے کسی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا اور بحرین میں 5ویں بحری بیڑے کی تباہی کے ایرانی دعوے بالکل غلط ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

یوکرین کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنے کی دھمکی! آرمینیا میں روس کے شدید دباؤ کے درمیان انتخابات کا انعقاد، بھارت پر اثرات جانے۔

Published

on

Nikol-Pashinyan

یریوان : روس کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان آرمینیا 7 جون کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گا۔ 2017 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بغیر کسی ایمرجنسی کے شیڈول کے مطابق باقاعدہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ پچھلے دو انتخابات، 2018 اور 2021 میں، سیاسی بحرانوں کی وجہ سے قبل از وقت کرانے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس الیکشن میں وزیر اعظم نکول پاشینیان ہیں جو اس وقت امریکہ اور یورپی یونین کے قریب ہیں اور روس مخالف سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سے روس ناراض ہو گیا اور اس نے آرمینیا پر درآمدی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس الیکشن میں اصل مقابلہ وزیر اعظم نکول پشینیان کی سول کنٹریکٹ پارٹی اور روس نواز، ارب پتی تاجر سمویل کاراپیٹیان کی مضبوط آرمینیا کے درمیان سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، ایک تیسرا کھلاڑی بھی ہے : رابرٹ کوچاریان، آرمینیا کے سابق صدر، جو آرمینیا کے اتحاد کے اتحاد کے ساتھ پشینیان کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ اس الیکشن کو روس بمقابلہ امریکہ کے نقطہ نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے تجزیہ کار اسے آرمینیا کی تاریخ کا “سب سے بڑا جیو پولیٹیکل الیکشن” قرار دے رہے ہیں۔

موجودہ وزیر اعظم نکول پشینیان روس پر آرمینیا کا روایتی انحصار ختم کرنا اور یورپی یونین اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں روس کے ساتھ تعلقات کی تجدید کی وکالت کر رہی ہیں۔ نگورنو کاراباخ پر آذربائیجان کے قبضے کے بعد آرمینیا کا یہ پہلا الیکشن ہے۔ آذربائیجان کے ساتھ دیرپا امن اور قومی سلامتی کے بارے میں عوامی خدشات مضبوط ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس الیکشن میں روس نواز پروپیگنڈے کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نکول پشینیان روس پر آرمینیا کا روایتی انحصار ختم کرنا اور یورپی یونین اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں روس کے ساتھ تعلقات کی تجدید کی وکالت کر رہی ہیں۔ نگورنو کاراباخ پر آذربائیجان کے قبضے کے بعد آرمینیا کا یہ پہلا الیکشن ہے۔ آذربائیجان کے ساتھ دیرپا امن اور قومی سلامتی کے بارے میں عوامی خدشات مضبوط ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس الیکشن میں روس نواز پروپیگنڈے کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔

1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے زیادہ تر وقت تک، آرمینیا جنوبی قفقاز میں روس کا سب سے قریبی اتحادی رہا ہے، یہ ایک ایسا خطہ ہے جو مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کو ملاتا ہے۔ آرمینیا نے روسی فوجیوں کی میزبانی کی ہے، روسی ہتھیار خریدے ہیں، اور کریملن کی زیر قیادت سیاسی اور اقتصادی ڈھانچے کے ساتھ قریبی طور پر مربوط رہے ہیں۔ تاہم موجودہ وزیر اعظم نکول پاشینیان کے دور میں یہ رشتہ بتدریج کمزور ہوتا چلا گیا ہے۔ پشینیان کی “سول کنٹریکٹ” پارٹی 2018 میں عوامی انقلاب کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔ گزشتہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر آرمینیا نے یورپ کے ساتھ الحاق کی کوششیں جاری رکھی تو اسے “یوکرین جیسی صورتحال” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا، روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ، دمتری میدویدیف نے اشارہ دیا ہے کہ پشینیان کا بھی وہی انجام ہو سکتا ہے جو بالشویک رہنما لیون ٹراٹسکی نے کیا تھا، جسے جوزف سٹالن نے برف کے چنے سے پھانسی دی تھی۔

اگر پی ایم نکول پشینیان آرمینیا میں انتخابات ہار جاتے ہیں تو اسے ہندوستان کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جائے گا۔ پی ایم پاشینیان روس سے فوجی امداد کھونے کے بعد بھارت سے بھاری ہتھیار خرید رہے ہیں۔ ہندوستان پچھلے کچھ سالوں میں آرمینیا کو اسلحہ فراہم کرنے والا نمبر ایک بن گیا ہے۔ لہٰذا، اگر آرمینیا میں روس نواز حکومت برسراقتدار آتی ہے، تو ہندوستان ہتھیاروں کے ایک بڑے خریدار سے محروم ہو جائے گا۔ مزید برآں، اس سے پاکستان کے کٹر حامی آذربائیجان پر دباؤ ڈالنے کی ہندوستان کی حکمت عملی کو بھی دھچکا لگے گا۔ آذربائیجان نے آپریشن سندھور کے دوران پاکستان کی کھل کر حمایت کی۔ یہ پاکستان سے بڑے پیمانے پر ہتھیار بھی خریدتا ہے جس میں JF-17 کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان