Connect with us
Monday,07-September-2026

سیاست

جے کشن ریڈی ں نے کہاکہ سی اے اے کو واپش نہیں لے گی حکومت

Published

on

مملکتی وزیر برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے اپوزیشن پارٹیوں پر شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف عوام کو گمراہ کر کے انہیں مشتعل پرتشدد احتجاج پر آماد ہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قانون کسی بھی ہندوستانی کے خلاف نہیں ہے اور اسے کسی کے دباؤ میں واپس نہیں لیا جائےگا۔
دو روزہ دورے پر وارانسی پہنچے مسٹر ریڈی نے دورے کے آخری دن سرکٹ ہاوس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے کے سلسلے میں اپوزیشن پارٹیوں کا طرزعمل بے حد غیر ذمہ دارانہ ہے۔اپوزیشن کی جانب سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے اور ان کے اندر ڈر پیدا کر کے انہیں پرتشدد احتجاج کے لئے اکسایا جارہا ہے۔سرکار اپوزیشن کے اس رویہ سے واقف ہے لیکن عام آدمی کو بھی ان کے اس رویہ سے آگاہ ہونا ہوگا اور انہیں ملکی مفاد کے ضرورتوں کو سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں سے عوام کو گمراہ کرنے سے باز آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا شہریت(ترمیمی) قانون میں جوبھی ترامیم کی گئیں ہیں ان سے کسی بھی طرح سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں ہے کیونکہ یہ ملک اور انسانیت کے حق میں اٹھایا گیااہم قدم ہے۔
وہیں کانگریس لیڈر و سابق ایم ایل اے اجے رائے نے مسٹر ریڈی کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ انتباہ دینے سے تحریک پر اثر نہیں پڑے گا۔عام عوام بذات خود سی اے اے کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے اور ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے مقصد سے ہی بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت نے شہریت قانون میں ترمیم کیا ہےاور مذہب کی بنیاد پر مخصوص غیر ملکی اقلیتوں کو شہریت دینے کا قانون بنایا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

تمام پارٹیوں کے کارپوریٹرس مشکلات میں مبتلا! تمام بڑی پارٹیوں کے کارپوریٹرس بشمول شیوسینا (یو بی ٹی)، بی جے پی اور کانگریس کو قانونی چیلنجز کا سامنا

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد بھی، جیتنے والے امیدواروں کی مشکلات کم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ انتخابات میں شکست خوردہ امیدواروں نے مختلف بنیادوں پر جیتنے والے کارپوریٹروں کے انتخاب کو چیلنج کیا ہے۔ بی ایم سی کی طرف سے آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق کل 79 انتخابی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔دریں اثنا، سابق میئر وشاکھا راؤت کے کارپوریٹر کے عہدے کی حالیہ منسوخی کے بعد انتخابی درخواستوں کا معاملہ دوبارہ منظر عام آیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن میں فتحیابی آخری مرحلہ نہیں ہے۔ انتخابی عمل سے متعلق دستاویزات کی قانونی جانچ جیسے کہ حلف نامے کی تفصیلات، ذات کے سرٹیفکیٹ، اور امیدوار کی طرف سے کیے گئے مختلف اعلانات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ درخواستیں کسی ایک پارٹی کے کونسلرز کو نشانہ نہیں بناتی ہیں۔ بلکہ ممبئی میں تمام بڑی پارٹیوں کے کارپوریٹروں کے خلاف چیلنجز دائر کیے گئے ہیں۔ اس سے انتخابات کے بعد ان کونسلرز کے عہدوں کی قانونی حیثیت اور تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذات سرٹیفکیٹ سے لے کر اثاثوں کی تفصیلات تک کے اعتراضات :
شکست خوردہ امیدواروں کی طرف سے دائر درخواستیں کئی سنگین مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ ان میں ذات سرٹیفکیٹ کی درستگی کے بارے میں اعتراضات، امیدواروں کی طرف سے فراہم کردہ غلط یا گمراہ کن معلومات کے الزامات، اور فوجداری مقدمات، اثاثوں اور مالی معاملات کے بارے میں انکشافات سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔ الیکشن لڑتے وقت، امیدواروں کو حلف نامہ کے ذریعے ذاتی، مالی اور قانونی معلومات کا انکشاف کرنا ہوتا ہے۔ اگر تضادات یا غلط معلومات کی فراہمی کے الزامات ہوں تو قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس طرح یہ پورا معاملہ انتخابی درخواستوں اور حلف ناموں میں فراہم کردہ ہر معلومات کی اہم اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے خلاف درخواستوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پارٹی وار تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ عرضیاں 24 شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے گروپ کے کارپوریٹروں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ اس کے بعد بی جے پی کے خلاف 16، کانگریس کے خلاف 10، اور شیو سینا (شندے گروپ) کے خلاف 7 درخواستیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم آئی ایم کے خلاف 5، ایم این ایس کے خلاف 2 اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے خلاف 1 درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

5 کارپوریٹروں کا انتخاب کالعدم :
کل 79 درخواستوں میں سے اب تک 5 کارپوریٹروں کے خلاف منفی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے انتخابات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے 2، ایم آئی ایم کے 2، اور این سی پی سے 1 کارپوریٹر شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن جیتنا حتمی سنگ میل نہیں ہے۔ امیدوار کی نامزدگی سے لے کر حلف نامے میں فراہم کردہ معلومات کی درستگی اور انتخابی عمل سے متعلق دستاویزات کی درستگی تک کے عوامل بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

انتخابی شفافیت کا معاملہ پھر سے اسپاٹ لائٹ میں :
یہ اعداد و شمار آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کی طرف سے مانگی گئی معلومات سے سامنے آئے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ امیدواروں کی طرف سے ووٹرز کو پیش کی جانے والی معلومات جو عوامی نمائندے کے طور پر منتخب ہوتے ہیں درست اور حقیقت پر مبنی ہو۔ غلطیوں، تضادات، یا حقائق کو چھپانے کے حوالے سے کوئی بھی الزام انتخابی نتائج کو ممکنہ طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ 79 انتخابی درخواستوں کے دائر کردہ، 5 کارپوریٹروں کے انتخابات کی منسوخی، اور سابق میئر وشاکھا راوت کی میعاد کی حالیہ منسوخی کے ساتھ، ممبئی میونسپل انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگیوں اور حلف ناموں سے متعلق شفافیت کا مسئلہ ایک بار پھر منظر عام پرہے۔

سیاسی حلقوں کی تمام نظریں اب باقی ماندہ درخواستوں سے متعلق فیصلوں پر مرکوز ہوئی ہیں۔ اگر مزید کارپوریٹروں کے انتخابات پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے تو یہ میونسپل کارپوریشن کے اندر مختلف پارٹیوں کی عددی طاقت کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ووٹرز کے مینڈیٹ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے باوجود، امیدوار خود کو عدالتی جانچ پڑتال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ممبئی میونسپل کارپوریشن میں تمام پارٹیوں کے کارپوریٹروں کے انتخاب کو لے کر ایک قانونی چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایپل موبائل اور اس کے پارٹس فروخت کرنے والی گینگ بے نقاب، چوری شدہ ۶۴ موبائل برآمد، چار گرفتار مزید تفتیش جاری

Published

on

Mobile-chor

ممبئی : ریاست کے مختلف اضلاع سے اور دوسری ریاستوں سے چوری کیے گئے ایپل موبائل خرید کر ان کا ایپل آئی ڈی ریموو کرکے موبائل بیرون ریاست و بیرون ملک فروخت کرنے والی اور چوری کے موبائل کے پارٹس الگ الگ کرکے فروخت کرنے والے گروہ کو ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن نے بے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن، ممبئی میں ایپل موبائل چوری کا مقدمہ سال 2026 میں درج کیا گیا تھا۔ موبائل چوری کے مقدمے میں کی گئی تکنیکی جانچ سے چوری کے موبائل میں ایک سم کارڈ کا استعمال ہوا تھا۔ اس پر کی گئی گہری تکنیکی جانچ میں چوری کے موبائل میں سم کارڈ استعمال کرنے والے ملزم کی تلاش کر اس سے چوری کے 21 ایپل موبائل اور 12 سم کارڈز برآمد کیے گئے۔ اس پر مقدمے میں کی گئی مزید جانچ میں ریاست کے مختلف اضلاع سے اور دوسری ریاستوں سے چوری کیے گئے ایپل موبائل خرید کر ان کا ایپل آئی ڈی ریموو کرکے انہیں دوسری ریاستوں اور بیرون ملک میں فروخت کرنے والی اور ایپل آئی ڈی ریموو نہ ہونے پر چوری کے موبائل کے تمام پارٹس الگ الگ کر کے انہیں مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت کرنے والے گینگ کے 04 ملزمان کو گرفتار کیا۔ ان سے چوری کے کل 64 ایپل کے موبائل اور 20 چوری کے موبائل کے الگ الگ کیے ہوئے مڈل باڈی، ڈسپلے، بیٹری، مدر بورڈ، لاجک بورڈ ایسے کل 44,78,400/- روپے قیمت کا مقدمے کا مال برآمد کیا اور چوری کے موبائل برآمد کر کے ان میں سے تلنگانہ – 11، دہلی – 3، مہاراشٹر/ممبئی – 19، کرناٹک – 2، راجستھان – 1، تمل ناڈو – 1، اتراکھنڈ – 1 یہاں کے مقدمات کا انکشاف ہوا۔ مذکورہ کارروائی شیلیش بلکوڈے، ایڈیشنل پولیس کمشنر، جنوبی علاقائی ڈیپارٹمنٹ، ممبئی، منیش کلوا نیا، پولیس ڈپٹی کمشنر، جنوبی ممبئی، نیلیش باگلے، اسسٹنٹ پولیس کمشنر، آزاد میدان ڈیپارٹمنٹ، ممبئی کی رہنمائی میں انل مولے، سینئر پولیس انسپکٹر، فرید خان، پولیس انسپکٹر (کرائم)، ماتا رمابائی امبیڈکر مارگ پولیس اسٹیشن کے قیادت میں سب انسپکٹر سشیل کمار ونجاری، سب انسپکٹر جالندر لیمبھے، پولیس سب انسپکٹر راجو سالونکھے، پولیس سب انسپکٹر امول چورے کی ٹیم نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مراٹھا ریزرویشن منوج جارنگے پاٹل کی سرکار کو وارننگ… ممبئی مارچ کے دوران ایک بھی نوجوان کا خون بہا تو 10 منٹ میں مہاراشٹر بند ہونا چاہئے

Published

on

ممبئی : مراٹھا ریزروریشن کو لے کر منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال کو 10 روز مکمل ہوچکے ہیں۔ سرکار جان بوجھ کر مراٹھا ریزرویشن کے مسئلہ کو نظر انداز کر کے لاپروائی اور غفلت سے کام لے رہی ہیں۔ یہ سنگین الزام منوج جارنگے پاٹل نے عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراٹھوں میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ اس لئے منوج جارنگے پاٹل نے انروالی سرٹی میں جمع ہونے کی مراٹھوں سے اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ممبئی کی جانب ایک بھی نوجوان کا ایک خون بہا تو 10 منٹ میں مہاراشٹر بند ہونا چاہئے۔ منوج جارنگے پاٹل نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو 12 ستمبر کو ممبئی کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ 12 ستمبر تک مراٹھا سماج نے سرکار کو الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تمام وزراء سے گفت و شنید ہوچکی ہے۔ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس مسئلہ کا کوئی تشفی بخش حل نہیں ہوا ہے۔ منوج جارنگے پاٹل نے کہا کہ 12 ستمبر کو اگر 10 افراد بھی موجود رہے تو وہ ممبئی کا رخ کریں گے۔ پاٹل نے شندے اور فڑنویس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دونوں کو ساز باز میں ملوث قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں اگر ایک بھی نوجوان کا خون بہا تو 10 منٹ میں مہاراشٹر بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دشوار گزار حالات میں بھی ثابت قدم رہنا چاہئے, کیونکہ اگر بھیڑ بھاڑ میں بھگڈر ہوئی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں, اس لئے نوجوانوں کو ثابت قدم رہ کر ہر حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ سرکار کا گیم تو بجانا ہوگا, سرکار پوری طرح سے بے حس ہوچکی ہے۔ اس لئے وہ لاپروائی اور اس مسئلہ سے چشم پوشی کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان