Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

علمائے کرام ہمیشہ امن و شانتی کا پیغام دیتے ہیں ، پولس کمشنر سنجۓ بروے کا دو ٹانکی جامعہ قادریہ اشرفیہ میں علماے کرام سے خطاب

Published

on

(ممبئی)
پولس کمشنر سنجۓ بروے, جوائنٹ پولس کمشنر ونۓ کمار چوبے اور ایڈیشنل پولس کمشنر نے آج دو ٹانکی میں جامعہ قادریہ اشرفیہ میں شہر کے علمائے کرام سے ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا معین میاں نے کہا بروز جمعہ آئمہ کرام اپنی مساجد میں ملک میں امن و سلامتی کے لئے دعا کریں۔ جبکہ الحاج سعید نوری نے کہا جب تک این آر سی اور سی اے اے ختم نہیں ہو جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔ عیاں رہے دو ٹانکی چھوٹا سونا پور جامعہ قادریہ اشرفیہ میں علمائے کرام کے ساتھ ممبئی کے پولس کمشنر سنجۓ بروئے نےایک میٹنگ کی۔ اس میں معین میاں نے کہا این آر سی اور سی اے اے کے خلاف پُر امن احتجاج کرنا ہمارا دستوری حق ہے۔ اس سے ہمیں کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا۔ اس لئے جماعت اہلسنت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب تک یہ کالا اور ظالم قانون واپس نہیں لیا جاتا تب تک ہم علمائے اہلسنت احتجاج جاری رکھیں گے۔ یہ احتجاج ہی ہے کہ سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر ررہا ہے۔ برادران وطن کے ہمراہ علمائے کرام کا یہ احتجاج قابل مبارک باد ہے۔ ممبئی میں علمائے کرام نے گرفتاریاں پیش کی ہیں۔ یہ احتجاج پورے عالم تک پہنچ چکا ہے۔ آج سب کی نظریں علمائے کرام پر مرکوز ہیں۔ کیونکہ علمائے کرام اب مسجد کے ممبر سے نکل کر سڑک تک قوم وملت کے لئے سینہ سپر ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا احتجاج انتہائی موثر ثابت ہوا۔ جمعہ کو دعا اور پر امن احتجاج کا بھی اعلان علمائے اہلسنت نے کیا۔ تاکہ ہمارے ملک اور ممبئی میں امن ومان قائم رہے ۔رضا اکیڈمی کے سربراہ جناب الحاج سعید نوری نے بتایا کہ علمائے کرام نے اپنے جمہوری حق احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور جمعہ کو مساجد کے باہر احتجاج کئے جائیں گے۔ علمائے کرام کسی غیر قانونی احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے۔ وہ اپنا پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔ آل انڈیا مساجد کونسل کے صدر مولانا عباس رضوی نے کہا کہ احتجاجی مظاہرہ اس قدر شدید ہے کہ اب سرکار بھی سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ جب تک ہم صد فیصد کامیاب نہیں ہو جاتے احتجاج جاری رہے گا۔ ملک میں فرقہ واریت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ اس احتجاجی مظاہرہ کا مقصد ہی ملک سے کالا قانون کا خاتمہ ہے ۔ممبئی کے پولس کمشنر سنجۓ بروئے نے کہا کہ این آرسی اور سی اے اے سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ دیگر ریاست کے بہ نسبت ممبئی شہر پر امن ہے یہ علمائے کرام کی مرہون منت ہے۔ پولس کمشنر نے اگست کرانتی میدان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں عظیم احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔ جس میں پولس نے بہتر نظم نسق قائم رکھا۔ دہلی یوپی میں تشدد برپا ہوا۔ لیکن ممبئی محفوظ ہے۔ ممبئی پولس زندہ بعد کے نعرہ لگائے گئے ہیں۔ ممبئی میں دونوں فرقوں میں بہتر اور خوشگور تعلقات ہیں۔ آسام میں جو قانون نافذ ہواتھا اس بھی میں واقف ہوں۔ جو بچہ بھارت میں پیدا ہوا وہ ہندوستانی شہری ہوگا وزیر اعلی نے بھی یہ واضح کیا ہے۔ سی اے اے نافذ نہیں ہوگا ۔ طلباء و طالبات پر بھی اسکا اثر نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پاس پیدائشی سند ہوگا۔ جو یہاں کے باشند ہیں انہیں کسی طرح کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ نائجیریائی اور منشیات فروشوں کے لئے ڈٹینشن سینٹر بنایا گیا ہے اسی میں اس کو رکھا جاتا ہے۔مسجدوں میں دعا کیجئے ہندوستان کی امن وسلامتی کے لئے اور سر بلندی کے لئے پرگرام کے آخر میں معین ملت، الحاج سعید نوری اور ابراہیم طائی نے مہمانوں کی گُل پوشی اور شال پوشی کی ۔مفتی سلیم اختر ،حافظ عبد القادر صاحب ،مولانا نور العین صاحب، مولانا ظہیر الدین خان، قاری عطا ء اللہ ،مولانا عبد الجبار،مولانا غلام محی الدین صاحب وغیرہ شامل تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان