Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

جرم

شیوسینا وبھاگ پرمکھ پر فائرنگ کے الزام میں مزید دو ملزمین گرفتار، گینگسٹر پرساد پجاری کی ہدائت پر ملزمین نے انجام دی واردات

Published

on

(ممبئی)
وکھرولی ایسٹ ٹیگور نگر علاقے میں 19 دسمبر کو وکھرولی علاقے میں شیوسینا نائب وبھاگ پرمکھ چندرشیکھر جادھو پر شوٹروں نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔ جبکہ موقع پر موجود لوگوں نے ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ دوسری طرف واردات کی سنگینی کے مدنظر کرائم برانچ کے ہفتہ وصولی مخالف دستہ (AEC) کو تفتیش کی زمداری دی گئی۔ انچارج پولس انسپکٹر اجئے ساونت اور اسٹاف نے حراست میں لئے گئے ملزم سے باریک بینی سے پوچھ تاچھ کیا۔ دوران تفتیش ملزم نے چونکانے والی جانکاری دی ۔ ملزم نے بتایا بیرون ملک میں روپوش گینگسٹر پرساد پجاری نے چندرشیکھر جادھو پر فائرنگ کیلئے کہا تھا۔ اس کے علاوہ کرائم برانچ کو معلوم ہوا کہ گرفتار ملزم نے اپنا نام و پتہ بھی غلط بتایا ہے۔ کرائم برانچ نے بتایا واردات میں استعمال اعشاریہ 32 کی ریوالور کانپور آرڈیننس فیکٹری میں بنائے جانے کی بات سامنے آئی؟ کرائم برانچ نے مذکورہ ریوالور فروخت کرنے والے ڈیلر اور پھر لائسنس ہولڈر کی تفصیلات حاصل کی۔ کرائم برانچ کے ہفتہ وصولی مخالف دستہ نے ٹیکنیکل طریقے سے تفتیش شروع کی۔ نیز اعلی حکام نے کرائم برانچ کی تین مختلف ٹیم بنایا۔ کرائم برانچ کی ایک ٹیم مدھیہ پردیش پہنچی اور ملزم کرشن دھر سنگھ کو حراست میں لیا۔ جبکہ دوسری ٹیم نے ضلع تھانے میں آنند پھڈترے نامی شخص کو اٹھایا۔ دونوں ملزمین نے پولس کو بتایا کہ بیرون ملک میں روپوش گینگسٹر پرساد پجاری کے کہنے پر ان لوگوں نے چندرشیکھر جادھو پر فائرنگ کی تھی۔ جبکہ جائے واردات پر گرفتار ملزم کا نام ساگر مشرا ہے۔ نیز ملزم نے خود کی شناخت پوشیدہ رکھنے کے مقصد سے اپنا نام غلط بتایا تھا۔ دونوں ملزمین نے مزید بتایا تھانے میں رہنے والے آنند پھڈترے نے جائے واردات تک جانے کیلئے بغیر نمبر پلیٹ والی موٹرسائیکل فراہم کی تھی۔ کرائم برانچ نے کہا ملزم کرشن دھر سنگھ کو مدھیہ پردیش کے ریوا سے حراست میں لیا گیا۔ جبکہ آنند پھڈترے کو تھانے ضلع سے گرفتار کیا گیا ہے۔ کرائم برانچ نے گرفتار دونوں ملزمین کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔ جہاں سماعت کے بعد عدالت نے ملزمین کو یکم جنوری تک پولس ریمانڈ میں بھیج دیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران کرائم برانچ کو معلوم ہوا کہ گینگسٹر پرساد پجاری نے عوام کو دہشت زدہ کرنے کیلئے شوٹروں کے ذریعے فائرنگ کرائی ہے۔ عیاں رہے 19 دسمبر کو صبح سات بجے حملہ آوروں نے شیوسینا کے نائب وبھاگ پرمکھ چندرشیکھر کیشو جادھو(55) پر اندھا دھند فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔ جبکہ سائ مندر کے قریب لوگوں نے تعاقب کرکے ایک حملہ آور کو پکڑ لیا تھا۔ نیز پبلک کی پٹائی سے حملہ آور کو بھی چوٹیں آئیں تھیں۔ مارپیٹ میں زخمی ہونے کی وجہ سے ملزم کو بھی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس معاملے وکھرولی پولس نے دفعات 307/34 نیز آرمس ایکٹ 3/25 کے تحت ایف آئی آر درج کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے چندرشیکھر جادھو ٹیگور نگر، ہیرمب بلڈنگ میں رہتے ہیں اور وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ سائ بابا مندر میں پوجا کیلئے گئے تھے۔ نیز جب وہ مندر سے باہر نکلے تو ملزمین نے 3 راونڈ فائرنگ کردیا۔ جس میں ایک گولی چندرشیکھر جادھو کو لگی تھی۔ قارئین کو معلوم ہو کہ ابتدا میں حراست میں لئے گئے ملزم نے اپنا فرضی نام ابھئے سنگھ(22) بتایا تھا۔ لیکن سخت تفتیش کے بعد کرائم برانچ کو معلوم ہوا کہ ملزم کا نام ساگر مشرا ہے۔ نیز ساگر مشرا نے ہی چندرشیکھر جادھو پر فائرنگ کی تھی۔ جوائنٹ پولس کمشنر کرائم سنتوش رستوگی، ڈی سی پی شاہ جی اومپ، اے سی پی نیتاجی بھوپلے کی نگرانی میں اے ای سیل کے انچارج پولس انسپکٹر اجئے ساونت اور اسٹاف نے ملزمین کو گرفتار کرنے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گرفتار ملزمین سے کرائم برانچ باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان