سیاست
شہریت ترمیمی بل کولے کر13 دسمبرکو ہوگا ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں منظم احتجاج : مولانا ندیم صدیقی
ممبئی (نامہ نگار )
شہریت ترمیمی بل 2019 جن بنیادوں پرپارلیمنٹ میں منظور کی گئی ہے وہ نہ صرف آئین اور دستور کے خلاف ہے بلکہ ملک کے سیکولر کردار کو ختم کرنے والی ہے،ایک ایسے ملک جہاں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں وہاں مذہبی بنیاد پر تفریق کرنا ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کے خلاف ہے،یہ ایک انتہائی خطرناک بل ہے اس متعصبانہ غیر دستوری بل کی مخالفت میں کھڑا ہونا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔یہ با تیں آ ج یہاں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حا فظ محمد ندیم صدیقی نے جمعیۃ علماء کی جا نب سے آئندہ کل جمعہ کے دن شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں ممبئی سمیت مہا راشٹر بھر میں منعقد ہو نے والے احتجاجی مظاہرہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہیں ہیں۔
دفتر جمعیۃ علماء مہا راشٹر (واقع زین العابدین بلڈنگ بھنڈی بازارممبئی)سے جاری اپنے بیان میں مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ فرقہ پرست حکومت کے یکے بعد دیگر اقلیت مخالف فیصلوں کی وجہ سے مسلمان انتہائی نازک حالات سے دو چار ہیں اور خوف و مایوسی کے عالم میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں، حکومتی اور عدالتی سطح پر صادر ہوئے حالیہ فیصلوں کی وجہ سے ملک کا سیکولر کردار خطرے میں ہے،گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں ”قومی شہریت ترمیمی بل“ جو مذہب کی بنیاد پر منظور کی گئی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے اس میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جبکہ قانونی نقطہ نظر سے تمام افراد چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں انھیں شامل کرنا چاہئیے تھا،شہریت ترمیمی بل میں مسلم سماج کو شامل نہ کرنا ملک کے آئین اور دستور کے خلاف ہے،جس کی بنیاد پر ہمیں یہ بل منظور نہیں ہے اور ہم اس کی سخت مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔
مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے کے ذمہ داروں خصوصا امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری (صدر جمعیۃ علماء ہند) اور قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب(جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند) نے ملک کے دستور اور اس کی روایا ت کے معارض”شہریت ترمیمی بل“2019 (CAB)کے خلاف 13 دسمبر 2019 بروز جمعہ ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرہ کا اعلان اور فیصلہ کیا ہے۔ اس لئے تمام ضلعی، شہری، تعلقوں کے ذمہ داروں سے اپیل ہے کہ 13دسمبر 2019 کو جمعیۃ علماء کی جا نب سے اپنے اپنے علاقوں میں خاموش اور پر امن”احتجاجی مظاہرہ“کا انعقاد کریں،اس موقع پر اپنے ہاتھ میں پلے کارڈ اور بازو میں کالی پٹی ضرور باندھیں،اور کلکٹر،ڈپٹی کلکٹر اور تحصیلدار کو میمورنڈم دیں،انہوں نے عامۃ المسلمین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا امتیاز مذہب و مسلک اس احتجاجی مظاہرہ میں امڈتے سیلاب کی طرح شرکت کریں۔مزید تفصیلات کے لئے مندرجہ ذیل نمبرات پر رابطہ کریں۔جمعیۃآفس نمبر:022.23712323 ٭ مولوی عتیق الرحمن 9930523437 ٭ مولانا سہیل احمد قاسمی: 9167989203 حافظ روح اللہ 913747902
سیاست
دہلی کے بعد مہاراشٹر میں بھی کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج شروع کرنے جا رہی ہے، ابھیجیت دیپک نے معلومات شیئر کیں سوشل میڈیا پر۔

پونے : نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات کے ارد گرد افراتفری کے درمیان، “کاکروچ جنتا پارٹی” مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی نے اب مہاراشٹر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ دہلی میں پارٹی کے ابتدائی احتجاج کے بعد اگلا احتجاج پونے میں ہوگا۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر پہلے احتجاج کے دوران نوجوانوں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے خود احتجاج میں موجود تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ہفتہ کی صبح امریکہ سے ہندوستان واپس آنے کے بعد ہوائی اڈے سے براہ راست پہنچے۔ پچھلے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے، ڈپکے نے خبردار کیا تھا کہ ملک بھر میں کئی مقامات پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں پونے میں دوسرا احتجاج منعقد کیا گیا ہے۔ یہ احتجاج 11 جون کو شام 4 بجے پونے کے ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی کیمپس میں ہوگا، جو تعلیم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کرے گا۔ ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے پارٹی ممبران اور حامیوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ چونکہ ابھیجیت ڈپکے کا تعلق مہاراشٹر سے ہے، اس لیے ریاست میں ان کا پہلا احتجاج خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اتوار کو انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے احتجاج میں 6000 سے 7000 لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے کچھ لوگوں کے ان الزامات کا بھی جواب دیا کہ ٹرن آؤٹ توقع سے کم تھا۔ دریں اثنا، مقامی پولیس نے چند گھنٹے قبل دہلی کے احتجاج کی اجازت دی تھی۔ تاہم، اس بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی گئی ہے کہ آیا پونے میں مجوزہ احتجاج کے لیے پولیس کی اجازت دی گئی ہے۔ پارٹی کے کام کرنے کے انداز کو پہلے بھی کچھ حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ دہلی کے احتجاج کی اجازت آخری وقت میں مانگی گئی تھی۔
سیاست
ای ڈی نے عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجیو اروڑہ کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں دہلی اور یوپی سمیت چھ مقامات پر چھاپے مارے۔

نئی دہلی : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجیو اروڑہ کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ منگل کی صبح ای ڈی نے دہلی، یوپی، پنجاب سمیت اروڑہ کے چھ مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے منگل کی صبح پنجاب کے لدھیانہ اور جالندھر، اتر پردیش کے بریلی، دہلی-نویلا میں کل چھ مقامات پر چھاپے مار کر تلاشی مہم شروع کی۔ تفتیشی ایجنسی جن احاطے کی تلاشی لے رہی ہے ان میں کیس سے متعلق افراد اور تنظیموں کی رہائش گاہیں اور کاروباری دفاتر شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی ہیمپٹن اسکائی ریئلٹی لمیٹڈ سے متعلق مبینہ مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا حصہ ہے۔ ای ڈی کی ٹیمیں نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں بھی دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہیں۔ فی الحال، ای ڈی نے چھاپوں کے بارے میں کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ای ڈی کے چھاپوں کے بارے میں، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، “ای ڈی آج پھر پنجاب میں ہندو تاجروں پر چھاپے مار رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ پنجاب میں چھوٹے ہندو تاجروں کو ہراساں کر رہا ہے۔ میں تمام تاجروں سے اپیل کرتا ہوں- گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوری پنجاب اور ہم سب مل کر پنجاب حکومت کا سامنا کریں گے۔” سنجیو اروڑہ کو مرکزی ایجنسی نے گزشتہ ماہ چندی گڑھ میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک دن کے چھاپے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ وہ اس وقت عدالتی حراست میں ہے۔ اروڑہ پنجاب میں بجلی، صنعت اور تجارت کے وزیر تھے۔ اروڑہ کی گرفتاری کے بعد، وزیر اعلی بھگونت مان کی قیادت میں پنجاب حکومت نے دیگر وزراء کو ان کے قلمدان تفویض کر دیئے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر حکومت کی کابینہ میں دیویندر فڈنویس کا اہم فیصلہ, محروم سابقہ کسانوں کی قرض معافی کو منظوری

ممبئی : ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ آج (9 جون) کو وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقد ہوئی, جس میں بقیہ کسانوں کی قرض معافی کو منظوری دیدی گئی ہے۔ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ کا فیصلہ دیویندر فڑنویس ایکناتھ شندے سنیترا پوار نے کابینہ کی میٹنگ میں بڑا فیصلہ لیا۔ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ کا فیصلہ, ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ آج (9 جون) کو وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کابینہ کے اس اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ (مہاراشٹر حکومت) کابینہ اجلاس میں کسانوں کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ وہ کسان جو پچھلی قرض معافی اسکیم سے محروم تھے, اب انہیں بھی قرض معافی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے لیے تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں, بہت سے کسان 2017 اور 2019 کی قرض معافی میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ ان کسانوں کو قرض معافی کا فائدہ دلانے کے لیے بار بار مطالبہ کیا جا رہا تھا لہذا، آج ریاستی حکومت نے کابینہ کی میٹنگ میں 5 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے لیے ایک اہم فیصلہ لیا ہے, جو 2017 اور 2019 کے قرض معافی سے محروم تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
