Connect with us
Monday,03-August-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

بجلی محکمہ کی لاپراوہی سے مزدورعوام پریشان

Published

on

bijli

(عطاؤالرحمٰن دھولیہ)
مہاراشٹر کے دھولیہ شہر میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں دہیی علاقوں سے بھی بدترین صورتحال میں زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ دھولیہ شہر کے آزادنگر اور رات رانی ہوٹل کے مشترکہ علاقے میں ڈی پی نمبر ۴۲۴ کے ٹرانسفارمر سے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ڈی پی نمبر ۴۲۴ پر ۲۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر پاور لوڈ ہے جبکہ علاقے کے لوگوں کا استعمال ۳۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر سے بھی زیادہ ہے۔ علاقہ بڑا ہونے کی وجہ سے ۲۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر کی ڈی پی میں خرابی پیدا ہوتی رہتی ہے، کبھی جھمپر ٹوٹ جاتا ہے تو کبھی ایک فیز چلاجاتا ہے اور کبھی ڈیو فیل ہوتا ہے۔ خرابی کو ٹھیک کرنے کے لیےبجلی محکمہ سے ملازمین تاخیر سے آتے ہیں۔ اس طرح ایک مسئلہ کو حل کرنے کے لیے گھنٹوں وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ درزی، پاور لوم مزدور،قیمہ کرنے والے،کمپیوٹر پر کام کرنے والے و دیگر بجلی سے استعمال ہونے والی چیزوں پر منحصر رہنے والے افراد کا کام بند ہوجاتا ہے۔ دونوں علاقوں کے لوگوں نے ممبئ پریس سے رابطہ کرکے اپنی شکایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسائل اتنے زیادہ پیچیدہ ہیں کہ ہم کم وقت میں بیان ہی نہیں کرسکتے۔ البتہ آپ کو بجلی محکمہ کی لاپرواہی کے متعلق چند باتیں بتانا چاہتے ہیں، شکایت کرنے والوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ہم فون پر بجلی محکمہ کو شکایت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ریسیور پر ان کا فون ہی نہیں ہوتا اس لیے کبھی فون ہی نہیں لگتا ہے۔ ہمیں بجلی گھر کے سب اسٹیشن پہنچ کر شکایت کرنا پڑتی ہے ،لیکن وہاں ملازمین ہماری شکایت کو نظر انداز کرکے پہلے لائٹ بل طلب کرتے ہیں، بتانے کے بعد شکایت لی جاتی ہے لیکن گھنٹوں کام نہیں ہوتا ہے بجلی گل ہی رہتی ہے۔ ۲۲ نومبر کو دوپیر ۲ بجے سے بجلی گل ہوئی تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ دو تین گھنٹے بعد ہی بجلی فراہم کی جائے گی ، لیکن دیر رات اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ڈی پی خراب ہوئی ہے اسے تبدیل کرنا پڑے گا صبح تک بجلی فراہم کردی جائے گی۔ جیسے تیسے رات گزارنے کے بعد ۲۳ نومبر کی صبح سے دوپہر ہوگئی لیکن بجلی گل ہی رہی شام پانچ بجے تک بجلی گل ہی رہی تھی ۔ عوام کا غصہ مزید بڑھ گیا جب انہیں علم ہوا کہ ۲۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر کی ڈی پی نکال کر دوبارہ ۲۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر کی ڈی پی لگائی جارہی ہے۔ حالانکہ ۳۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر سے زیادہ کا لوڈ عوام کو درکار ہوتا ہے۔ جب ۲۷ گھنٹہ بجلی روکنا تھا تو کم از کم ۳۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر کی ڈپ پی لگاتے تھے یا ۲۰۰ کلو وولٹ ایمپیئر کی دو ڈی پی لگانا چاہیے تھا۔ پہلے کی طرح کم لوڈ والی ڈی پی سے عوام کی پریشانی میں اضافہ ہی ہوگا۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ڈی پی کے پاور کو بڑھایا جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کوہ نور عمارت سانحہ متاثرین کی فوری مالی امداد، بحالی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے، اور ریلیف اور بحالی کے وزیرمکرند جی جادھو کو ایک خط ارسال کرانہوں نے بھیونڈی شہر کے بالاجی نگر علاقے میں چار منزلہ کوہ نور عمارت کے گرنے کے المناک اور سنگین واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کی ہے۔خط کے ذریعے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اہم مطالبات اور مسائل پیش کئے ہیں جس میں انتظامی لاپرواہی پر سوال بھی اٹھایا ہے

بھیونڈی نظام پور سٹی میونسپل کارپوریشن نے پہلے اس عمارت کو ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا تھا اور نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ مکینوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ انتظامی تاخیر اور لاپرواہی کے باعث جانیں ضائع ہوئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی فوری امداد کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت حادثے میں جان گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرے اور تمام زخمیوں کو سرکاری خرچ پر بہترین طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انتہائی خطرناک عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کیوں سے متعلق اعظمی نے کہا کہ بھیونڈی شہر میں تمام خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتوں کا ‘سٹرکچرل آڈٹ’ فوری طور پر کیا جانا چاہیے، اور ان کے رہائشیوں کی عارضی اور مستقل بحالی کے انتظامات بلا تاخیر کیے جانے چاہئیں۔قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بڑے حادثے اور اس سے منسلک غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جلد از جلد بھیونڈی میں متاثرہ خاندانوں تک انصاف اور راحت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان