Connect with us
Sunday,09-August-2026

سیاست

مہاراشٹر میں جمعہ کی رات ساڑھے 9 بجے سے سنیچر کی صبح 8 بجے تک کیا کچھ ہوا، کس طرح بنی ریاست میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت.

Published

on

SHIV SHARAD AND FARNOVS

(وفا ناہید)
اسمبلی الیکشن کے بعد سے مہاراشٹر میں حکومت بنانے کے تعلق سے سیاسی جنگ چل رہی تھی . چونکہ کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی. لہذا سیاسی جوڑ توڑ چل رہا تھا. شیوشینا بی جے پی میں تال میل نہیں ہورہا تھا اس لئے شیوشینا نے این سی پی اور کانگریس سے اتحاد کا فیصلہ کیا. اس سلسلے میں این سی پی کے شرد پوار, شیوشینا کے ادھو ٹھاکرے اور کانگریس کی سونیا گاندھی کے مابین باہمی اختلافات کو پرے رکھ کر حکومت سازی کے لئے تیاری کی جارہی تھی. بتایا جاتا ہے جمعہ 22 نومبر کی رات میں ہوئی مشترکہ میٹنگ میں اجیت پوار شریک تھے. مہاراشٹر میں اس رات سبھی اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اب شیوسینا , این سی پی اور کانگریس کی حکومت بہت جلد بن جائے گی، لیکن سنیچر کی صبح کچھ لوگ نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا۔ رات کی تاریکی میں جو کچھ بھی ہوا وہ کسی ڈرامے سے کم نہیں ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جمعہ کی شب ساڑھے 9 بجے سے ہی بی جے پی نے اپنا ’کام‘ شروع کر دیا تھا . یہاں تک کہ اس کی بھنک بھی کسی کو لگنے نہیں دی تھی , اور تو اور این سی پی سربراہ شرد پوار کو اس کی خبر سنیچر کی صبح تقریباً 6 بجے لگی۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ جمعہ کی رات سے صبح دیویندر فڈنویس کے وزیر اعلیٰ اور این سی پی لیڈر اجیت پوار کے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے تک جو کچھ ہوا۔ اس کی تفصیل ملاحظہ کیجئیے. جمعہ کی شب تقریباً ساڑھے 9 بجے دیویندر فڈنویس مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے پاس حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے پہنچے۔ فڈنویس نے اپنے پاس 173 اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دعویٰ میں دیویندر فڈنویس نے 54 این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے 14 آزاد اراکین اسمبلی و دیگر کی حمایت ملنے کی بات کہی ۔ رات ساڑھے 12 بجے ہی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ریاست میں جمہوری حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف کرنے کے لیے صدر راج ہٹانے کا فیصلہ لیا اور مرکز کو ریاست میں اتحادی حکومت بننے کے حالات سازگار بننے کی جانکاری دیتے ہوئے صدر راج ہٹانے کی سفارش بھیج دی۔ صبح تقریباً ساڑھے 5 بجے کے آس پاس ریاست میں لگا صدر راج ہٹانے کی جانکاری گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو دی گئی۔ صبح تقریباً 6 بجے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے فیصلہ لیا کہ اب فڈنویس حکومت کی حلف برداری کرائی جانی چاہیے ۔ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کے ساتھ ساتھ اجیت پوار کی حلف برداری کے لیے بھی عرضی بھیجی۔ عرضی میں صبح سویرے ہی حلف برداری تقریب منعقد کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 8 بجے گورنر کو بی جے پی کی طرف سے حلف برداری کی عرضی ملنے کے بعد ہی گورنر نے صبح 8 بج کر 7 منٹ پر بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کا حلف دلایا۔ ساتھ میں انھوں نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر اجیت پوار کی بھی حلف برداری کرائی۔
تادم تحریر شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے میڈیا سے کہا ہے کہ اجیت پوار دھوکہ سے این سی پی اراکین اسمبلی کو حلف برداری تقریب میں لے گئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو 8 این سی پی اراکین اسمبلی حلف برداری تقریب میں گئے تھے ان میں سے 5 واپس شرد پوار کے پاس آ گئے ہیں اور اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کر کے دکھائے۔ مہاراشٹر کے سیاسی ڈرامے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کا ایک بیان سامنے آیا ہے انھوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں راتوں رات جو کچھ ہوا وہ سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے ، بینڈ باجہ اور بارات کے بغیر ہی وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے حلف لے لیا۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہوا ہے۔ سب کچھ چھپا کر کیا گیا۔ بے شرمی کی انتہا کو پار کیا گیا۔ صبح ہوئے ’حادثہ‘ کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہے.
شرد پوار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی کانگریس، این سی پی اور شیوسینا ایک ساتھ کھڑے ہیں اور اجیت پوار کے ذریعہ کیے گئے دھوکے سے اس اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ شرد پوار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت اجیت پوار کے ساتھ 11-10 اراکین اسمبلی ہیں اور کچھ اراکین اسمبلی جو ان کے ساتھ تھے، وہ اب ہمارے پاس آ چکے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ اس وقت این سی پی سربراہ شرد پوار اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے ذریعہ مشترکہ پریس کانفرنس ممبئی کے وائی بی چوہان آڈیٹوریم میں جاری ہے۔ اس پریس کانفرنس میں اجیت پوار کے ساتھ دیویندر فڈنویس کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوئے این سی پی لیڈران بھی موجود ہیں اور انھوں نے کہا کہ وہ شرد پوار کے ساتھ ہیں۔ اجیت پوار کا ساتھ چھوڑنے والے این سی پی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انھیں دھوکے سے گورنر ہاؤس لے جایا گیا تھا اور وہ بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شرد پوار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب اکثریت ثابت کرنے کی باری آئے گی تو فڑنویس کی حکومت ناکام ہو جائے گی کیونکہ این سی پی اراکین اسمبلی بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھی پریس کانفرنس سے کہا کہ بی جے پی نے دھوکہ کرتے ہوئے حکومت بنائی ہے اور یہ ناکام ثابت ہوں گے۔

بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ سے منسلک امریکی کاروباری گروپ گرین لینڈ میں غیر منظور شدہ تیل کی کھدائی کے لیے تیار، حکومت نے سخت وارننگ جاری کردی

Published

on

Greenland

نیویارک/نیوک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر جاری دعووں کے درمیان، ایک امریکی تیل کمپنی نے آرکٹک کے اس تزویراتی جزیرے میں تیل کی کھدائی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گرین لینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو ابھی تک ڈرل کی اجازت نہیں ملی ہے۔ ٹیکساس میں قائم گرین لینڈ انرجی نے گرین لینڈ کے مشرقی ساحل سے دور ایک دور افتادہ علاقے جیمسن لینڈ میں تیل کی تلاش کے لیے ضروری سامان پہنچا دیا ہے۔ اس کے بعد گرین لینڈ کی حکومت نے کمپنی کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مستقبل میں کسی بھی لاجسٹک سرگرمی سے پہلے متعلقہ منرل ریسورسز اتھارٹی سے منظوری درکار ہوگی۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 1 ٹریلین ڈالر مالیت کا خام تیل جیمسن لینڈ کے علاقے کے نیچے پڑ سکتا ہے۔ ابتدائی طور پر، کمپنی نے دو کنوؤں کی کھدائی پر تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تاہم، اب یہ کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر صرف ایک کنواں کھودا جائے گا۔ گرین لینڈ نے ماحولیاتی خدشات کی وجہ سے 2021 سے تیل کے نئے لائسنسوں کا اجرا روک دیا ہے۔ تاہم، برطانوی کمپنی 80 مائل پہلے ہی جیمسن لینڈ میں ریسرچ کے حقوق رکھتی ہے۔ گرین لینڈ انرجی اس منصوبے میں اکثریتی حصص حاصل کرنے اور تلاشی مہم کو مالی اعانت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ گرین لینڈ انرجی کے کئی اہلکار مبینہ طور پر ٹرمپ کے سیاسی اور اسٹریٹجک حلقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ کمپنی نے ایک دستاویزی سیریز کے لیے سابق ٹی وی میزبان ڈاکٹر فل، جو کہ ٹرمپ کے مشہور حامی ہیں، کو منسلک کیا ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹرز میں سے ایک امریکی بحریہ کا ایک سابق افسر ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے میزائل ڈیفنس پلان “گولڈن ڈوم” میں شامل ہے۔ تاہم کمپنی کے چیئرمین لیری سویٹس نے واضح کیا ہے کہ تیل کے منصوبے کا گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکا کی کوشش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اس منصوبے سے متعلق کمپنی کی سرگرمیاں کاروبار اور توانائی سے متعلق ہیں۔

تاہم یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے اپنے مطالبے کے بارے میں متواتر بیانات دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ نتیجتاً، امریکی کمپنی کی تیل کی تلاش کی کوششوں نے اقتصادی اور قدرتی وسائل دونوں کے تنازعہ میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ گرین لینڈ کی حکومت کے مطابق، کمپنی کے نمائندے نے جون میں جیمسن لینڈ میں ہونے والی ایک کمیونٹی میٹنگ میں ڈرلنگ کا سامان اتارنے کی اجازت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد، مقامی لوگوں نے ایک بجر کو ساحل کے قریب آتے ہوئے اور تقریباً ایک درجن کنٹینرز کو اتارتے ہوئے دیکھا۔ گرین لینڈ کی حکومت نے کہا کہ اس وقت آلات کو ہٹانے کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ کمپنی کی اجازت کی درخواست ابھی تک جاری ہے۔ تاہم، حکومت نے واضح کیا کہ مزید تمام لاجسٹک سرگرمیوں کے لیے پیشگی منظوری درکار ہوگی۔

کمپنی کے منصوبے کے مطابق، ڈرلنگ کے سامان کے تقریباً 300 کنٹینرز پر مشتمل ایک جہاز 12 ستمبر کو کینیڈا سے روانہ ہونے والا ہے، اور اکتوبر میں کنویں کی کھدائی شروع ہونے والی ہے۔ ماحولیاتی خدشات بھی اس منصوبے کو درپیش ایک اہم مسئلہ ہیں۔ ڈرلنگ کا مجوزہ علاقہ رامسر کنونشن کے تحت آبی زمین کے محفوظ علاقے کے طور پر نامزد کنزرویشن ایریا میں آتا ہے۔ نتیجتاً، گرین لینڈ کی مقامی قیادت کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہے- حساس آرکٹک ماحول کی حفاظت کرتے ہوئے تیل کے ممکنہ ذخائر سے اقتصادی فوائد کا امکان۔

گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے، اور قدرتی وسائل سے متعلق فیصلے منتخب مقامی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ لہٰذا، تیل کی کھدائی کی اجازت دینے کا فیصلہ نہ صرف ایک کاروباری منصوبے کا فیصلہ ہوگا، بلکہ یہ گرین لینڈ کی ماحولیاتی پالیسی اور اس کے وسائل پر مقامی کنٹرول کا امتحان بھی بن سکتا ہے۔ ادھر گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر گرین لینڈ کی حکومت ڈرلنگ کی اجازت نہیں دیتی ہے، تو یہ ریاستہائے متحدہ اور گرین لینڈ کے درمیان موجودہ سیاسی تناؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ اگر اجازت دی جاتی ہے تو، ماحولیاتی خدشات اور گرین لینڈ کے قدرتی وسائل میں بیرونی کمپنیوں کے کردار کے بارے میں سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال میں ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں گی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی ہدایت

Published

on

Lokmanya-Tilak-G.-Hospital

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں مختلف طبی علاج کے خواہشمند مریضوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما لاونگارے نے ہدایت دی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کی مختلف خدمات کے لیے نقد اور ڈیجیٹل ادائیگی دونوں کے اختیارات دستیاب کرائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو ہسپتال کے اندر مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سائن کے لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں فی الحال صلاحیت میں توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔ پراجکتا ورما لاونگارے نے توسیعی کام کی پیشرفت کا ذاتی طور پر معائنہ کرنے کے لیے آج (8 اگست 2026) ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، مختلف وارڈز، ایم آئی سی یو، اور سی سی ٹی وی کنٹرول روم سمیت دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کو فی الحال مختلف طبی خدمات، جیسے ایکس رے، ایم آر آئی اسکین، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کیس پیپرز، اور طبی خدمات کی فیس کے لیے نقد ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ان مقامات پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت کے لیے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ مزید برآں، ہسپتال کے اندر قطاروں کو کم کرنے میں مدد کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک وقف کاؤنٹر قائم کیا جانا چاہیے۔ محترمہ ورما لاونگارے نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے اختیارات شہریوں، مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو زیادہ سہولت فراہم کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے، ڈائرکٹر (میڈیکل ایجوکیشن اینڈ میجر ہاسپٹل) ڈاکٹر شیلیش موہتے اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف نارتھ) مسٹر ارون کشر ساگر سمیت افسران اور عملہ موجود تھا۔

مسز ورما-لاونگرے نے ہسپتال کی مرکزی عمارت (فیز 2اے)، آنکولوجی کی عمارت اور دیگر علاقوں میں جاری کاموں کا معائنہ کیا، جبکہ پروجیکٹ کی حالت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے ترقی پذیر ہسپتال کے اندر شہریوں کے ساتھ ساتھ رہائشی ڈاکٹروں اور عملے کے لیے تفریحی مقامات بنائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال کے داخلی دروازے اور احاطے کے اندر شہریوں کے لیے رکاوٹوں سے پاک واک ویز کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کنٹرول روم میں عملے کو باقاعدگی سے تعینات کیا جائے ہسپتال میں کام کرنے والے عملے کی سی سی ٹی وی کنٹرول روم کے ذریعے نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ ملازمین اپنے مقررہ وقت سے پہلے احاطے سے نکل جائیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ہیڈکوارٹر میں انسانی وسائل کا محکمہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے عملے کی حاضری کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کنٹرول روم سے چلنے والے پبلک ایڈریس سسٹم کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ہسپتال میں صفائی ستھرائی کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے سٹاف کو مخصوص یونیفارم فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ہسپتال کو چوہا اور آوارہ کتوں کی اذیت سے پاک رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) پراجکتا ورما-لاونگارے نے ہدایت دی کہ ہسپتال میں ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو لاگو کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آسام سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی اپیل، اہل خیر و معاونین حضرات زیادہ سے زیادہ تعاون کریں

Published

on

Arshad-Madni

ممبئی : جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی اور معززینِ شہر کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ ریاستی دفتر، امام باڑہ کمپاؤنڈ، ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر حضرت مولانا حلیم اللہ قاسمی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی اور شہر کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ ممبئی کے صابو صدیق مسافر خانہ میں امارت شرعیہ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ارکان مجلس عاملہ اور مدعوئین خصوصی کو دعوت دی گئی تھی، اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ریاستی دفتر میں یہ میٹنگ منعقد کر لی گئی۔

میٹنگ میں آسام میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء آسام کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے جاری راحت رسانی اور امدادی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر آسام کے متاثرین کی فوری اور مؤثر مدد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی نے اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی ضلعی صدور و نظماء اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ دفتر میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے رسیدات الگ کر دی گئی ہیں، آپ حضرات اپنے ساتھ رسید بک بھی لے جائیں۔ ائمہ مساجد سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنی مساجد میں اس کا اعلان فرما کر مخیرین کو اس جانب متوجہ فرمادیں

میٹنگ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد برادرانِ وطن کی ہے، تاہم مصیبت اور آفت کے موقع پر مذہب و ملت سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پر متاثرین کی مدد کرنا ہم سب کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں شرعی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے زکوٰۃ کے بجائےعطیات، للہ اور سود (انٹرسٹ) کی رقم سے تعاون حاصل کریں، تاکہ ضرورت مند اور متاثرہ خاندانوں تک بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔

شرکاءِ میٹنگ نے آسام کے سیلاب متاثرین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر اپنی استطاعت کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ اس میٹنگ میں ریاستی مجلس عاملہ ،مدعوئین خصوصی اور معززین شہر نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔

جمعیۃعلماء مہاراشٹر

Continue Reading
Advertisement

رجحان