Connect with us
Monday,22-June-2026

سیاست

مہاراشٹر میں جمعہ کی رات ساڑھے 9 بجے سے سنیچر کی صبح 8 بجے تک کیا کچھ ہوا، کس طرح بنی ریاست میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت.

Published

on

SHIV SHARAD AND FARNOVS

(وفا ناہید)
اسمبلی الیکشن کے بعد سے مہاراشٹر میں حکومت بنانے کے تعلق سے سیاسی جنگ چل رہی تھی . چونکہ کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی. لہذا سیاسی جوڑ توڑ چل رہا تھا. شیوشینا بی جے پی میں تال میل نہیں ہورہا تھا اس لئے شیوشینا نے این سی پی اور کانگریس سے اتحاد کا فیصلہ کیا. اس سلسلے میں این سی پی کے شرد پوار, شیوشینا کے ادھو ٹھاکرے اور کانگریس کی سونیا گاندھی کے مابین باہمی اختلافات کو پرے رکھ کر حکومت سازی کے لئے تیاری کی جارہی تھی. بتایا جاتا ہے جمعہ 22 نومبر کی رات میں ہوئی مشترکہ میٹنگ میں اجیت پوار شریک تھے. مہاراشٹر میں اس رات سبھی اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اب شیوسینا , این سی پی اور کانگریس کی حکومت بہت جلد بن جائے گی، لیکن سنیچر کی صبح کچھ لوگ نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا۔ رات کی تاریکی میں جو کچھ بھی ہوا وہ کسی ڈرامے سے کم نہیں ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جمعہ کی شب ساڑھے 9 بجے سے ہی بی جے پی نے اپنا ’کام‘ شروع کر دیا تھا . یہاں تک کہ اس کی بھنک بھی کسی کو لگنے نہیں دی تھی , اور تو اور این سی پی سربراہ شرد پوار کو اس کی خبر سنیچر کی صبح تقریباً 6 بجے لگی۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ جمعہ کی رات سے صبح دیویندر فڈنویس کے وزیر اعلیٰ اور این سی پی لیڈر اجیت پوار کے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے تک جو کچھ ہوا۔ اس کی تفصیل ملاحظہ کیجئیے. جمعہ کی شب تقریباً ساڑھے 9 بجے دیویندر فڈنویس مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے پاس حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے پہنچے۔ فڈنویس نے اپنے پاس 173 اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دعویٰ میں دیویندر فڈنویس نے 54 این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے 14 آزاد اراکین اسمبلی و دیگر کی حمایت ملنے کی بات کہی ۔ رات ساڑھے 12 بجے ہی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ریاست میں جمہوری حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف کرنے کے لیے صدر راج ہٹانے کا فیصلہ لیا اور مرکز کو ریاست میں اتحادی حکومت بننے کے حالات سازگار بننے کی جانکاری دیتے ہوئے صدر راج ہٹانے کی سفارش بھیج دی۔ صبح تقریباً ساڑھے 5 بجے کے آس پاس ریاست میں لگا صدر راج ہٹانے کی جانکاری گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو دی گئی۔ صبح تقریباً 6 بجے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے فیصلہ لیا کہ اب فڈنویس حکومت کی حلف برداری کرائی جانی چاہیے ۔ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کے ساتھ ساتھ اجیت پوار کی حلف برداری کے لیے بھی عرضی بھیجی۔ عرضی میں صبح سویرے ہی حلف برداری تقریب منعقد کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 8 بجے گورنر کو بی جے پی کی طرف سے حلف برداری کی عرضی ملنے کے بعد ہی گورنر نے صبح 8 بج کر 7 منٹ پر بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کا حلف دلایا۔ ساتھ میں انھوں نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر اجیت پوار کی بھی حلف برداری کرائی۔
تادم تحریر شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے میڈیا سے کہا ہے کہ اجیت پوار دھوکہ سے این سی پی اراکین اسمبلی کو حلف برداری تقریب میں لے گئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو 8 این سی پی اراکین اسمبلی حلف برداری تقریب میں گئے تھے ان میں سے 5 واپس شرد پوار کے پاس آ گئے ہیں اور اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کر کے دکھائے۔ مہاراشٹر کے سیاسی ڈرامے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کا ایک بیان سامنے آیا ہے انھوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں راتوں رات جو کچھ ہوا وہ سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے ، بینڈ باجہ اور بارات کے بغیر ہی وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے حلف لے لیا۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہوا ہے۔ سب کچھ چھپا کر کیا گیا۔ بے شرمی کی انتہا کو پار کیا گیا۔ صبح ہوئے ’حادثہ‘ کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہے.
شرد پوار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی کانگریس، این سی پی اور شیوسینا ایک ساتھ کھڑے ہیں اور اجیت پوار کے ذریعہ کیے گئے دھوکے سے اس اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ شرد پوار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت اجیت پوار کے ساتھ 11-10 اراکین اسمبلی ہیں اور کچھ اراکین اسمبلی جو ان کے ساتھ تھے، وہ اب ہمارے پاس آ چکے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ اس وقت این سی پی سربراہ شرد پوار اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے ذریعہ مشترکہ پریس کانفرنس ممبئی کے وائی بی چوہان آڈیٹوریم میں جاری ہے۔ اس پریس کانفرنس میں اجیت پوار کے ساتھ دیویندر فڈنویس کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوئے این سی پی لیڈران بھی موجود ہیں اور انھوں نے کہا کہ وہ شرد پوار کے ساتھ ہیں۔ اجیت پوار کا ساتھ چھوڑنے والے این سی پی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انھیں دھوکے سے گورنر ہاؤس لے جایا گیا تھا اور وہ بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شرد پوار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب اکثریت ثابت کرنے کی باری آئے گی تو فڑنویس کی حکومت ناکام ہو جائے گی کیونکہ این سی پی اراکین اسمبلی بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھی پریس کانفرنس سے کہا کہ بی جے پی نے دھوکہ کرتے ہوئے حکومت بنائی ہے اور یہ ناکام ثابت ہوں گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

سیاست

ایکناتھ شندے کا دھڑا ہی اصل شیوسینا ہے، یو بی ٹی ممبران پارلیمنٹ کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے: شائنا این سی

Published

on

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، اور حالیہ سیاسی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں وہی شیوسینا ہی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایم پی سنجے راوت پر بھی سخت حملہ کیا۔

شائنا این سی نے پیر کو آئی اے این ایس کو بتایا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ صرف ایک شیو سینا ہے، اور وہ شیوسینا ہے جس کی قیادت ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ پارٹی کی طاقت اس وقت ظاہر ہوئی جب 40 ایم ایل اے ایکناتھ شندے کے ساتھ اسمبلی میں شامل ہوئے اور بعد کے انتخابات میں شیوسینا کی شاندار کارکردگی نے ایکناتھ شندے کی قیادت میں اپنی عوامی حمایت کو بھی ثابت کیا۔

ادھو ٹھاکرے کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کا نظریہ کہاں تھا جب انہوں نے 2019 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کے لیے اس وقت ٹھاکرے کے نظریے کو نظر انداز کیا گیا تھا، اور اب نظریہ کی بات کی جا رہی ہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے ممبران پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کے امکان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شینا این سی نے کہا کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی یا ایم ایل ایز دوسرے گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو آئین اور انسداد انحراف قانون کے تحت انضمام کا انتظام ہے۔ یو بی ٹی کی قیادت کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے ایم پی، ایم ایل اے اور کونسلر پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ جب کارکنوں اور عوامی نمائندوں کا احترام نہیں کیا جاتا، اور بات چیت کی جگہ الزامات اور گالی گلوچ سے لے لی جاتی ہے، تو لوگ فطری طور پر دوسرے آپشنز تلاش کرتے ہیں۔

شائنا این سی نے سنجے راوت کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ بھگوان رام کے آشیرواد سے اقتدار میں آنے والی بی جے پی اب رام کی لعنت سے بے دخل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راوت مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ان کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ راوت کا واحد مقصد ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے، اور ان کے بیانات سیاسی سنجیدگی سے عاری ہیں۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے منحرف ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں کا دورہ کریں گے۔

Published

on

ممبئی ، شیو سینا-یو بی ٹی پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے 27 سے 29 جون تک ان حلقوں کا ایک وسیع دورہ کریں گے جہاں سے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں چلے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سامنا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سنجے راوت کے ذریعہ جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق، یہ دورہ ریاست کے کئی اہم اضلاع کا احاطہ کرے گا، اور پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کو ہر مقام کے لیے مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

یہ دورہ چھ ممبران پارلیمنٹ – اومراجے نمبالکر (دھراشیو)، سنجے پاٹل (ملوند نارتھ ایسٹ)، سنجے جادھو (پربھنی)، سنجے دیشمکھ (یوتمال)، ناگیش پاٹل اشتیکر (ہنگولی)، اور بھاؤصاحب وکچورے (شرڈی) کے کچھ ہی دن بعد ہوا ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے بغاوت کرتے ہوئے حقیقت میں شمولیت کا اشارہ کیا۔ ٹھاکرے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ان حلقوں کا دورہ کریں گے اور عوامی طور پر ان ووٹروں سے معافی مانگیں گے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے دوران اب منحرف ہونے والے ایم پیز کو ووٹ دیا تھا۔

ٹھاکرے 27 جون کو یوتمال میں اپنا دورہ شروع کریں گے، جہاں سینئر لیڈر بشمول ایم پی اروند ساونت، ایم ایل اے سنجے ڈیرکر، رابطہ سربراہ راجندر گائیکواڑ، اور ضلعی سربراہان پروین شندے، کشور انگلے، اور سنجے نکھادے تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد وہ واشم جائیں گے۔ ایم پی ساونت، ایم ایل اے ڈیرکر، رابطہ سربراہ دلیپ جادھو اور ضلع سربراہ بالاجی وانکھیڈے کوآرڈینیشن سنبھال رہے ہیں۔ پارٹی سربراہ دوپہر میں ہنگولی جائیں گے۔ ایم ایل سی اور اپوزیشن کے سابق لیڈر امباداس دانوے، رابطہ سربراہ ببن راؤ تھوراٹ، اور ضلعی سربراہ سندیش دیشمکھ، اجے پاٹل، اور گوپو ساونت وہاں ذمہ داریوں کی قیادت کریں گے۔ پارٹی سربراہ رات پربھنی میں گزاریں گے۔

دورے کا دوسرا مرحلہ 28 جون کو پربھنی شہر کے دورے سے شروع ہوگا۔ ایم ایل سی دانوے، ایم ایل اے راہول پاٹل، رابطہ سربراہ پردیپ کمار کھوپڑے، اور ضلع سربراہ ڈاکٹر وویک ناوندر مقامی انتظامات کو سنبھالیں گے۔ ٹھاکرے دوپہر میں دھاراشیو کے لیے روانہ ہوں گے۔ دانوے، ایم ایل اے کیلاش پاٹل، اور رابطہ سربراہ سنیل کٹمور انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دن کا اختتام چھترپتی سمبھاجی نگر میں رات بھر قیام کے ساتھ ہوگا۔ دورے کے آخری دن، 29 جون، ٹھاکرے مقدس شہر شرڈی کا دورہ کریں گے۔ راؤت، رابطہ سربراہ اور ایم ایل سی سنیل شندے، ضلعی سربراہ سچن کوٹے، اور جگدیش چودھری کو اس مرحلے کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔

پارٹی سربراہ ممبئی روانہ ہوں گے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پورے دورے کا منصوبہ پورے مہاراشٹر میں پارٹی کارکنوں کو متحد کرنے اور اہم سیاسی اتحادوں سے پہلے نچلی سطح پر تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے، متحدہ شیوسینا کے 60 ویں یوم تاسیس پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے گزشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ اگر ان کے لیڈران منحرف اراکین اسمبلی کے ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ مانتے ہیں، تو وہ شیو سینا-یو بی ٹی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان