Connect with us
Sunday,14-June-2026

قومی خبریں

انجنیئرساجد علی نےکہاکہ سراج الدین قریشی کی قیادت میں اسلامک سنٹر کامیابی کی طرف رواں دواں ہے

Published

on

ENGINEER SAJID ALI.jpg

تمام اراکین سے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کومزید مضبوط بنانے کی اپیل کرتے ہوئے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے سینئر لائف ممبر اوراعلی سرکاری افسر انجینئر ساجد علی نے کہا کہ سراج الدین قریشی کی قیادت میں اسلامک سنٹر کامیابی کی طرف رواں دواں ہے اور ضرور ت اس بات کی ہے کہ اسے کس طر ح ملت کے مفاد کے لئے مزید فعال بنایا جائے۔
مسٹر ساجد علی نے بتایا کہ انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر نے موجودہ مستقبل کے پروگرام میں ان نکات کو بہت اہمیت دی ہے جن میں قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا اور اس کے لئے کام کرنا، عورتوں قانون حقوق پر پر وگرام منعقد کرنا، بین الاقوامی مسابقہ قرآن کریم، بچوں کے لئے کل ہند آسان تحریری مقابلہ، بھارت رتن اور میزائل مین اے پی جے عبدالکلام پر میموریل لیکچر، قران اور سائنس پر پروگرام، میڈیکل کیمپ، قومی اور بین الاقوامی عنوان پر قومی اور بین الاقوامی سیمنار منعقد کرنا، وغیرہ شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ مسلم نوجوانوں کو مختلف شعبہائے حیات میں آگے بڑھانے، نوکری میں مدد دینے مسابقتی امتحان میں بیٹھنے کے لئے اہل بنانے کے لئے کوچنگ کا انتظام کیا ہے۔جن میں آئی آئی ٹی، جے ای ای، نیٹ، سبورڈنیٹ، جوڈیشیل سروس وغیرہ شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامک سنٹر نے سول سروس میں مسلم بچوں کی خاطرخواہ اضافے کے لئے بھی کوشش شروع کردی ہے اور 24طلبہ کا انتخاب ہوا تھا جو اس وقت پچاس کے قریب میں ہے۔ سنٹر کا سول سروس کوچنگ سنٹراسلامک سنٹر کے نائب صدر ایس ایم خاں کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ موجودہ کارپارکنگ کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ آڈیٹوریم کی صلاحیت میں توسیع،اسی کے ساتھ دو منی آڈیٹوریم کی تعمیر جن میں کی صلاحیت بالترتیب 80/120ہوگی گیسٹ روم کو28سے بڑھاکر52کرنا بھی شامل ہے۔
مسٹر ساجد نے کہاکہ اسلامک سنٹر نے اپنے مشن کے تحت قرآن ورکشاپ کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے اور اردو اور عربک کلاسز مسلسل ہورہی ہیں۔ اسی کے ساتھ روزگار سے مسلم نوجوانوں کو جوڑنے کے لئے اسٹاف سلیکشن کمیشن کی کوچنگ بھی ہورہی ہے جس سے درجنوں بچے سرکاری ملازمت حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامک سنٹر میں روزگار میلہ کا انعقاد کیا جاچکا ہے جس میں ایک ہزار بچوں نے حصہ لیا تھا جن میں سے 300 بچوں کا مختلف کَثیر ملکی کمپنیوں میں انتخاب ہوا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے میدان میں کام کرتے ہوئے اسلامک سنٹر نے متعدد صحت کیمپ منعقد کئے ہیں۔
مسٹر ساجد نے کہاکہ اسی کے ساتھ ہندووں اور خاص کر ہندو بچوں کے لئے اسلامک کلچر سے آگاہ کرنے کے لئے متعدد پروگرام کئے گئے ہیں جس سے ان کے ذہن کو صاف کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامک سنٹر کے متعدد پروگراموں، کوچنگ سنٹر اور دیگر پروگراموں کی وجہ سے اب تک 15/16ہزار بچوں کو فائدہ پہنچاہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سنٹر نے قومی یکجہتی کے فروغ، بھائی چارہ کو بڑھاوا دینے اور ہندو مسلم اتحاد کے لئے بہتر کام کر رہا ہے جو اس وقت کی شدید ترین ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان پندرہ برسوں کے دوران پرسنالٹی ڈیولپمنٹ ورکشاپ، میموری ڈیولپمنٹ ورکشاپ کا انعقاد مسلسل کیا جاتا رہا ہے جس سے ہزاروں بچوں کو فائدہ ہوا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

ایم بی بی ایس کی طالبہ سیجل پوار کو 15 دن کی جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا۔

Published

on

نئی دہلی : کے ای ایم اسپتال میں تیسرے سال کی طالبہ سیجل پوار کو ان کے بیان سے متعلق تنازعہ کے بعد 15 دن کی جبری چھٹی پر رکھا گیا ہے۔ کامیڈین پرنیت مورے کے شو میں دیے گئے ایک بیان کے بعد ایم بی بی ایس کی طالبہ سیجل پوار تنازع میں الجھ گئی ہیں، اور اسپتال انتظامیہ نے ان کے بیان کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ہاسٹل اور کالج کیمپس میں داخلہ روک دیا گیا ہے، سات دن میں تحقیقاتی رپورٹ پانچ رکنی کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق کے ای ایم ہسپتال اور میڈیکل کالج کی طالبہ سیجل پوار، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو پر تنازعہ میں گھری ہوئی تھی، کو اس کے اہل خانہ کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والا شخص درحقیقت سیجل پوار ہے اور اس نے جو کہا وہ ناقابل قبول ہے۔ ادارے نے اسے 15 دن کی جبری رخصت پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگلے 15 دنوں تک سیجل پوار کو کے ای ایم ہسپتال کیمپس، میڈیکل کالج اور ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس دوران وہ کسی بھی تعلیمی یا کالج کی دیگر سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گی۔ یہ پورا واقعہ کامیڈین پرنیت مور کے لائیو شو سے شروع ہوا۔ شو کے دوران، پرنیت نے سامعین میں بیٹھی سیجل پوار کے ساتھ میڈیکل کالج کی تعلیم اور اناٹومی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران سیجل پوار نے مبینہ طور پر ایک تبصرہ کیا جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

اس پر الزام ہے کہ اس نے طبی تعلیم میں استعمال ہونے والے عطیہ شدہ اعضاء کا مذاق اڑایا۔ وائرل ویڈیو میں سیجل پوار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اور ان کے کچھ دوست طبی تحقیق اور ڈسیکشن کے لیے عطیہ کیے گئے مردانہ جسم کے پرائیویٹ پارٹس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کے ای ایم ہسپتال انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا۔ ہسپتال کے ڈین ہریش پاٹھک نے کہا کہ سیجل پوار کے اسٹینڈ اپ شو کے دوران دیے گئے بیان سے متعلق تنازعہ کے سلسلے میں مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

AN-32 طیارہ آسام کے جورہاٹ ایئربیس پر گر کر تباہ، پانچ بھارتی فضائیہ کے اہلکار ہلاک (لیڈ)

Published

on

ہفتہ کو آسام کے گوہاٹی میں جورہاٹ ایئر فورس اسٹیشن پر لینڈنگ کے دوران AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر تباہ ہونے سے ہندوستانی فضائیہ کے پانچ اہلکار ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ صبح 10 بجے کے قریب پیش آیا۔ لینڈنگ کے دوران طیارے میں آگ لگ گئی، جس سے ایئر فورس اور ایئرپورٹ کی فائر فائٹنگ ٹیموں نے فوری ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا۔

ہندوستانی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا، “ایک IAF AN-32 طیارہ آج صبح تقریباً 10 بجے آسام کے جورہاٹ میں معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جائے حادثہ پر فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔ IAF تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ ابتدائی نتائج آنے تک قیاس آرائیاں نہ کریں۔”

ایک اور پوسٹ میں، آئی اے ایف نے لکھا، “ہندوستانی فضائیہ کو آسام کے جورہاٹ میں AN-32 طیارے کے حادثے میں اپنے پانچ اہلکاروں کے نقصان سے بہت دکھ ہوا ہے۔ اسکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شوبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنیور ایئر کھیمارام کماوت اور AN-32 ایئرکرافٹ کی قربانی، AN-32 AN-32 ایئرکرافٹ نے ایئر لائن میں قربانی دی ہے۔ ہندوستانی فضائیہ سوگوار خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔”

حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا حکم متوقع ہے۔ تکنیکی ماہرین اور فضائیہ کے اہلکار جائے حادثہ کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔

سوویت نژاد AN-32 ایک جڑواں انجن والا اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو کئی دہائیوں سے ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس نے خاص طور پر شمال مشرقی اور ہمالیہ کے سرحدی علاقوں کے دشوار گزار علاقوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ طیارے پہلے بھی حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ جون 2019 میں، ایک IAF AN-32 طیارہ، جورہاٹ ایئر فورس اسٹیشن سے اروناچل پردیش کے میچوکا کے لیے پرواز کر رہا تھا، لاپتہ ہو گیا تھا۔ ایک وسیع سرچ آپریشن کے بعد طیارے کا ملبہ اروناچل پردیش کے پہاڑی علاقے سے ملا اور جہاز میں سوار تمام 13 اہلکاروں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔

جولائی 2016 میں، ایک اور AN-32 طیارہ، جو چنئی سے پورٹ بلیئر کے لیے اڑ رہا تھا، خلیج بنگال میں لاپتہ ہو گیا۔ طیارے میں 29 افراد سوار تھے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی تلاشی کارروائیوں میں سے ایک کے باوجود، طیارہ کئی سالوں تک لاپتہ رہا، اور جہاز میں سوار تمام افراد کو مردہ تصور کیا گیا۔ طیارے کے ملبے کی شناخت 2024 میں ہوئی تھی۔

Continue Reading

جرم

ممبئی لوکل ٹرین میں سیٹ پر جھگڑا پرتشدد ہو گیا، نوجوان کو چاقو سے وار کر دیا گیا۔ تین ملزمان گرفتار۔

Published

on

ممبئی، مہاراشٹر میں لوکل ٹرین میں ایک نوجوان پر حملہ کے سلسلے میں جی آر پی نے تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس سے کھوپولی جانے والی ٹرین میں پیش آیا۔

کرجت جی آر پی کے ایک افسر نے بتایا کہ چلتی ممبئی لوکل ٹرین میں سیٹ کو لے کر جھگڑا ہوا۔ ایک نوجوان پر پہلے لوگوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا، اور بعد میں ملزموں نے اسے چاقو سے مارا۔ افسر نے بتایا کہ ٹرین ونگانی ریلوے اسٹیشن سے گزری تھی جب نوجوان اور کچھ دوسرے نوجوان سامان کے ڈبے میں ایک سیٹ پر بحث کرنے لگے۔ یہ جھگڑا جسمانی جھگڑے میں بدل گیا۔

افسر نے بتایا کہ ملزم نے نوجوان کے پیٹ میں چھرا گھونپا۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور اس وقت ان کا علاج جاری ہے۔ مقتول کی شناخت ستیش پاٹھک (26) کے طور پر کی گئی ہے جو مسجد بندر، ممبئی کا رہنے والا ہے۔

واقعہ کے بعد کرجت جی آر پی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ملزم کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کو سکین کیا گیا اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد جی آر پی نے ابتدائی طور پر دو ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

ملزمان کی شناخت عمران ادریس انصاری (18) اور کرن کنہیا لال اگروال (22) کے طور پر کی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جی آر پی نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔

تاہم اس وقت ایک نوجوان فرار ہو گیا تھا۔ جی آر پی نے تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔ تاہم جی آر پی تیسرے ملزم کو بھی حراست میں لینے میں کامیاب رہی۔ تیسرا ملزم نابالغ ہے اور اسے جوینائل ہوم میں بھیج دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان