Connect with us
Friday,10-April-2026

سیاست

سنجے راوت نے شرد پوار سے دوبارہ ملاقات کی

Published

on

SHARAD PAWAR& SANJAY RAWAT

مہاراشٹر میں حکومت سازی کے سیاسی عدم استحکام کے درمیان ، شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بدھ کے روز نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔مسٹر راوت نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر پوار مہاراشٹرا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر فکرمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے این سی پی صدر سے تفصیلی گفتگو کی۔واضح رہے کہ مہاراشٹر میں موجودہ حکومت کی میعاد 9 نومبر کو ختم ہورہی ہے ، لہذا مدت پوری ہونے سے پہلے ہی حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے سیاسی عدم استحکام کو دور کرنے کے لئے دیر رات ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی شیو سینا کے رہنما نے اس ہفتے کے آخر میں شری بھاگوت کو ایک خط لکھا تھا کہ بی جے پی ’اتحادی مذہب‘ کی پیروی نہیں کررہی ہے ، لہذا آپ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے۔ کسان حقوق کارکن ، کشور تیواری نے تجویز پیش کی کہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کو بھی شامل کیا جائے۔این سی پی کے صدر شردپوار نے بدھ کوایک بار پھر یہ کہاکہ عوام نے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جےپی )اور شیوسینا کو اکثریت دی ہے اس لیے انھیں حکومت تشکیل دینی چاہئے ۔مسٹر پوار نے صحافیوں سے کہاکہ ایسی قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ این سی پی ۔کانگریس ۔شیوسینا ملکر حکومت بنائیں گی لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔انھوں نے کہاکہ بی جے پی اور شیوسینا کا پچھلے 25برسوں سے اتحاد ہے اور انھیں پورا یقین ہے کہ وہ جلد ہی حکومت بنائیں گے ۔ واضح رہے کہ بی جےپی اور شیوسینا کے درمیان حکومت بنانے کے لیے رسہ کشی آج تیرہویں دن بھی جاری ہے ۔مہاراشٹر اسمبلی کی 288سیٹوں کے لیے 21اکتوبر کو انتخابات ہوئے تھے اور ووٹوں گنتی 24اکتوبر کو ہوئی ۔سب سے زیادہ 105سیٹیں بی جےپی کو ،شیو سینا کو 56، این سی پی کو 54اورکانگریس کو 44سیٹیں ملی ہیں ۔جب کہ مہاراشٹر کے مردآہن اور این سی پی رہنما ء شرد پوار نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہم ریاست میں شیوسینا -بی جے۔پی اتحاد کی حکومت تشکیل دئیے جانے کے بعد ہم ایک ذمہ دار اپوزیشن کا رول ادا کریں گے۔پوار آج یہاں وائی بی چوان سینٹر میں ایک پریس کانفرنس نڈے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ مہاراشٹرمیں جلد ہی سیاسی بحران کو ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے بی جے پی -شیو سینا اتحاد کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ مہاراشٹرمیں جلد از جلد تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر حکومت تشکیل دی جائے تاکہ عوام راحت محسوس کریں۔پوار اور سنجے راوت کی ملاقات پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ ان کی ملاقات راجیہ سبھا کی ریاست میں ہونے الیکشن کی بابت تھی۔اور راوت نے ان۔کے روبرو کوئی تجویز پیش نہیں کی ہے۔ شردپوار کا کہنا تھاکہ بی۔ جے ۔پی اور شیوسینا کا 25 سال پرانا اتحاد ہے اور دونوں کو اختلافات ختم کرکے حکومت تشکیل کرنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این سی پی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا من بنالیا ہے ،اور گانگریس ۔این سی پی کی نشست 100 بھی پار نہیں ہورہی ہیں ،اس لیے حکومت بنانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔اس لیے بی جے پی اور شیوسینا کو جلد ازجلد حکومت تشکیل دینا چاہیے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اشوک کھرت کیس نے ریاست بھر میں ہلچل مچا دی، پرتیبھا چاکنکر بھی دائرہ تفتیش میں، نت نئے انکشافات

Published

on

ممبئی : ڈھونگی بابااشوک کھرت کیس ریاست بھر میں بہت مشہور ہےمتاثرہ خاتون نے ناسک کے ایک دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف تشدد کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ اس دوران ایک ایک کر کے اس کے کارنامے سامنے آنے لگے ہیں۔ اس سے بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اب تک اس کے خلاف خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ اس معاملے میں ایک ایس آئی ٹی کا تقرر کیا گیا ہے، اور ایس آئی ٹی اس سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاملے میں روپالی چاکنکر کی بہن پرتیبھا چاکنکر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کو نوٹس بھیجا ہے۔ شرڈی پولس نے دھوکہ باز اشوک کھرات کے معاملے میں پرتیبھا چاکنکر کو آج نوٹس جاری کیا ہے۔ دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف شرڈی میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ جب اس معاملے کی تفتیش جاری تھی، پولیس کو چونکا دینے والی معلومات ملی۔ سمتا پتسنتھا میں کئی اکاؤنٹس ہیں، جو مختلف لوگوں کے نام پر ہیں، لیکن نامزد خود اشوک کھرات ہیں۔ ان کھاتوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی لین دین کی گئی ہے۔ پرتیبھا چاکنکر اور ان کے بیٹے کے بھی سمتا پتسنتھا میں چار کھاتے ہیں۔ ان تمام کھاتہ داروں کے بیانات لینے کا کام جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک 33 کھاتہ داروں نے اپنے بیانات درج کرائے ہیں پرتیبھا چاکنکر کو اب اپنا بیان دینے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کے دو پتوں پر ڈاک کے ذریعے نوٹس بھیجے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے حاضر ہوں۔ اس لیے اب پرتیبھا چاکنکر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اس دوران اشوک کھرات کے ساتھ فوٹو سامنے آنے سے ریاست میں کچھ لیڈروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

Continue Reading

بزنس

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: خام تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ہوا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے باوجود، سرمایہ کار سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں سپلائی میں رکاوٹ کے امکان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 1.13 فیصد اضافے کے ساتھ 97.01 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 1.39 فیصد اضافے کے ساتھ 99.24 ڈالر فی بیرل پر تجارت کر رہا ہے۔ گزشتہ بدھ کو تیل کی قیمت تقریباً 20 فیصد گر گئی، جو کہ 28 فروری سے اس سطح کے آس پاس رہنے کے بعد، $100 فی بیرل سے نیچے گر گئی۔ ہندوستان میں ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر 20 اپریل کی ڈیلیوری کے لیے خام تیل کا مستقبل صبح 11:07 بجے کے قریب 2.43 فیصد بڑھ کر 9,150 روپے فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ ایران جنگ بندی پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور اسرائیل لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے سے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے جنگ بندی کی شرائط پر مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر فوجی ردعمل سامنے آسکتا ہے، حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا جس کے لیے امریکی فوج تیار ہے۔ جمعرات کو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی سرگرمیاں معمول کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم پر چل رہی تھیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہوا۔ مستقبل کی صورت حال کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں قریبی مدت میں بلند رہ سکتی ہیں لیکن اگر جغرافیائی سیاسی تناؤ کم ہوا تو وہ بتدریج مستحکم ہو سکتی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان