Connect with us
Friday,24-April-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

چیمبور میں پولس پرحملہ کرنے کی بی جے پی ذمہ دار، حملے کی مذمت : این سی پی

Published

on

ممبئی : چیمبور میں پولس پر اچانک حملہ کرنے سے پولس محکمہ میں تشویش پائی جارہی ہیں۔ 13 اکتوبر کو چیمبور کے ساکن پنچ راما ریٹاڈیا نے تلک نگر لوکل اسٹیشن کے قریب ٹرین سے کود کر خودکشی کرلی تھی۔ پینچ راما ریٹاڈیا ذہنی طور پر بہت ہی پریشان تھے۔ چھ مہینہ قبل پنچ راما کی 17 سالہ نابالغ لڑکی اچانک لاپتہ ہوگئی تھی۔ پنچ راما نے پولس میں شکایت درج کرائی تھی، لیکن پولس نے چھ مہینہ گزر جانے کے بعد بھی سراغ لگانے میں ناکام رہی تھی۔ پنچ راما کو انصاف دلانا تو دور انہیں دھمکایا جانے لگا۔ انصاف ملنے کی امید کھونے والے شخص نے زندگی سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لوکل ٹرین سے کود کر اپنی جان دے دی تھی۔ پنچ راما کے افراد خانہ نے لاش لینے سے انکار کردیا تھا۔ منگل کے روز پینچ راما کی آخری رسومات پوری کی گئی، اور ان کی آخری رسم کے بعد چیمبور پولس پر حملہ کیا گیا۔ اس ضمن میں این سی پی کے قومی ترجمان اور سابق ریاستی وزیر نواب ملک نے کہا کہ ہم پولس پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں، اور بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیمبور کے مقامی لیڈران نے اس حملہ کو انجام دیا ہے، کیونکہ گزشتہ ہفتہ سے ہی عوام کو ورغلانے کا کام بی جے پی کے لیڈران کررہے تھے۔ اپنے فائدے کے لیے بی جے پی کے اراکین کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ نواب ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ پولس حملہ کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونا چاہیے۔ خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینا چاہیے۔ نواب ملک کے بیان کے بعد بی جے پی کی جانب سے کوئی بیان بازی نہیں کی گئی، لیکن پولس پر حملہ کی جانچ کے ساتھ پنچ راما کی خودکشی کی بھی جانچ ہونی چاہیے، تب ہی انصاف ہوسکتا ہے۔ اگر کچھ لوگ پنچ راما کی حمایت اور پولس کی مخالفت کرتے ہیں تو انہیں دونوں معاملات میں بولنا چاہیے۔ کچھ سیاسی افراد صرف پولس کی حمایت میں بات کر رہے ہیں، انہیں پنچ راما کے متعلق بھی بات کرکے معاملہ میں توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ انصاف تو یہ ہے کہ دونوں معاملات کی جانچ ہونی چاہیے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ورلی بی جے پی احتجاجی ریلی معترض خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، ممبئی پولس کی ایکس پر وضاحت، گمراہ کن خبر کے بعد تردید ی بیان

Published

on

ممبئی: پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل نامنظور ہونے کےخلاف ملک بھر اور ممبئی میں احتجاج شروع کیا ہے۔ ممبئی پولس نے یہ واضح کیاہے کہ ورلی بی جے پی کے مورچہ پر معترض پوجا مشرانامی خاتون پر کوئی ایف آئی آردرج نہیں کی گئی ہے سوشل میڈیا پر گمراہ کن پیغامات کے بعد اب ممبئی پولس کے آفیشل سرکاری ایکس پر پولس نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ خاتون پر کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے یہ خاتون ٹریفک سے پریشان تھی جس نے مورچہ کے دوران وزیر گریش مہاجن سے حجت بازی کی تھی اس کے بعد اس کے خلاف کیس درج کرنے کا مطالبہ بھی کئی تنظیموں نے کیا تھا لیکن اب تک پولس نے اس معاملہ میں کیس درج نہیں کیا ہے اس کی تفتیش بھی جاری ہے البتہ ورلی پولس نے اس معاملہ میں غیرقانونی طریقے سے سڑک روک کر اسے جام کرنے کے معاملہ میں آرگنائزر منتظم کےخلاف کیس درج کر لیا ہے اس احتجاجی مظاہرہ کی اجازت منتطم نے حاصل کی تھی جس کے بعد پولس نے شرائط میں خلاف وزری پر یہ کیس درج کیا ہے ۔ سو شل میڈیا پر خاتون پر کیس درج کرنے سے متعلق گمراہ کن افواہ کے بعد پولس نے اس کی تردید کی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناسک کے بعد ممبئی میں جنسی ہراسانی کے کیس کولوجہاد اور کارپوریٹ جہاد بنانے کی سازش،ملزم گرفتار، پولس کا کارپوریٹ جہاد نقطہ سے انکار

Published

on

arrested

ممبئی: ناسک ٹی سی ایس کے بعد اب ممبئی میں جنسی زیادتی کے کیس کو کاپوریٹ اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش شروع ہو گئی ہے یہاں ممبئی کے آگریپاڑہ پولس اسٹیشن پولس نے ایک ١٩ سالہ ٹیلی خاتون کو ہراساں کر نے معاملہ میں اشرف صدیقی نامی ۲۵ سالہ نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس معاملہ میں اب پولس تفتیش کر رہی ہے لیکن متاثرین کے اہل خانہ اسے بھی کارپوریٹ جہاد اور لوجہاد قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں البتہ پولس نے بھی اس سے انکار کیا ہے۔ آگری پارہ پولس میں سیکشن بی این ایس 75، 78(2) اور 70 اور آئی ٹی ایکٹ 2000 کے تحت ایک اشرف کے خلاف ایک بڑی کارپوریٹ کمپنی میں تھرڈ پارٹی ٹیلی کالر کے طور پر کام کرنے والی خاتون ساتھی کارکن کو فحش پیغامات بھیجنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ متاثرہ کے بیان اور پولیس کے مطابق، ملزم نے نہ صرف اسے متعدد بار جنسی تعلقات کے لیے میسج پیغام کیا بلکہ اپنی خواتین ساتھیوں کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے فحش تصاویر بھی ارسال کیں ۔
پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ جب اس نے اشرف کو بتایا کہ وہ ہندو ہے تو اس نے جواب دیا، ’’آج کل ہندو لڑکیاں مسلمانوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ نے اس کے خلاف شکایت درج کروائی ہے پولس نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کردی ہے ساتھ ہی اس کے رشتہ دار وں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ معاملہ لوجہاد کا ہے اس لئے اس میں ایس آئی ٹی تفتیش کی جانی چاہیے اور ساتھ ہی ملزم کے گھر پر بلڈوزر کارروائی کی جانی چاہیے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جذام زیر علاج بزرگ مریضوں کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں کا تقرر کیا جائے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کی اسپتال انتظامیہ کو ہدایت

Published

on

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے اسپتال انتظامیہ کو خصوصی ماہر ڈاکٹروں کو تعینات کرنے کی ہدایت دی تاکہ ایکورتھ میونسپل لیپروسی اسپتال میں طویل عرصے سے زیر علاج بزرگ مریضوں کے جذام کا علاج کیا جائے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما نے آج (24 اپریل 2026) ایکورتھ میونسپل لیپروسی ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے آج اسپتال کی قدیم عمارت کے اندرونی کاموں اور شعبہ داخل مریضوں کے مرمتی کاموں کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے آج کے دورے کے دوران اسپتال کے احاطے میں کنگ ایڈورڈ میموریل (کے ای ایم) اسپتال کے اسٹوڈنٹ ہاسٹل کی عمارت کے کام کا بھی جائزہ لیا۔
ایکورتھ میونسپل کارپوریشن لیپروسی اسپتال کی عمارت 13 ایکڑ کے احاطے میں بنائی گئی ہے۔ یہاں ایک انتظامی عمارت، آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ، ان پیشنٹ ڈپارٹمنٹ، شمشان گھاٹ، ممبئی ڈسٹرکٹ ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن، مہاراشٹر اسٹیٹ ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن وغیرہ کے دفاتر موجود ہیں۔آج کے دورے کے دوران ڈاکٹر وپن شرما نے عملے کی رہائش گاہ، میوزیم کا بھی دورہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیٹھ گو کے 800 طلباء کی گنجائش والے ہاسٹل کی عمارت کے کام کا بھی معائنہ کیا۔ سورج اسپتال کے احاطے میں میڈیکل کالج اور کنگ ایڈورڈ میموریل (کے ای ایم) اسپتال انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو طلباء کی سہولیات کے مطابق بجلی کے کنکشن سے متعلق کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔فی الحال، 55 مریض ایکورتھ میونسپل کارپوریشن لیپروسی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان مریضوں میں سے 30 مرد اور 25 خواتین ہیں۔ ڈاکٹر وپن شرما نے مریضوں کے وارڈ کا دورہ کیا اور مریضوں سے بات چیت کی اور ان کے مسائل کو سمجھا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ بزرگی کی وجہ سے مریضوں کو درپیش جذام کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے۔
ڈاکٹر وپن شرما نے ہیلتھ انفراسٹرکچر فیسیلٹی روم کے ذریعے ہسپتال کے احاطے میں قدیم فن تعمیر سے متعلق کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے شعبہ بیرونی مریضوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔ اس وقت بیرونی مریضوں کے شعبہ میں روزانہ 60 مریض داخل ہوتے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں 1800 سے زائد مریضوں نے شعبہ آؤٹ پیشنٹ میں سہولیات کا فائدہ اٹھایا۔ ان مریضوں میں سے جذام میں مبتلا مریضوں کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹر وپن شرما نے اس موقع پر ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں جانکاری لی۔ اس دورے کے دوران میونسپل کارپوریشن کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر چندرکانت پوار، ایکورتھ میونسپل کارپوریشن لیپروسی اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امیتا پیڈنیکر، اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اویناش کھڈے وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان