Connect with us
Wednesday,10-June-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

آر بی آئی نے پی ایم سی بینک اکاؤنٹ ہولڈر کی رقم نکالنے کی حد 40 ہزار روپے کی

Published

on

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے پنجاب اینڈ مہاراشٹر کوآپریٹو بینک (پی ایم سی) سے چھے مہینے میں رقم نکالنے کی حد بڑھاکر 40 ہزار روپے کر دی ہے۔ ابھی یہ حد 25000 روپے تھی۔ پی ایم سی بینک میں مالی بدانتظامی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سینٹرل بینک نے اس بینک کے صارفین کے لئے نقدی نکالنے کی حد طے کرنے کے ساتھ ہی بینک پر کئی طرح کی دیگر پابندیاں لگا دی ہیں۔ سینٹرل بینک کے ذریعے 23 ستمبر کو بینک پر لگائی گئی پابندی کے بعد یہ تیسرا موقع ہے جب ریگولیٹر نے نکاسی کی حد بڑھائی ہے۔ سب سے پہلے نکاسی حد 1000 روپے طے کی گئی تھی۔ اس کو لے کر مختلف طبقوں نے کافی تنقید کی تھی۔ اس کے بعد 26 ستمبر کو نکاسی کی حد بڑھاکر 10000 روپے فی کھاتا کردی گئی تھی۔ بینک کے کام میں بدانتظامیاں اور ریئل اسٹیٹ کمپنی ایچ ڈی آئی ایل کو دیے گئے قرض کے بارے میں صحیح جانکاری نہیں دینے کو لے کراس پر ریگولیٹری پابندی لگا دی گئی تھی۔ بینک نے ایچ ڈی آئی ایل کو اپنے کل قرض 8880 کروڑ روپے میں سے 6500 کروڑ روپے کا قرض دیا تھا۔ یہ اس کے کل قرض کا تقریباً 73 فیصد ہے۔ پورا قرض پچھلے دو-تین سال سے این پی اے بنا ہوا ہے۔ بینک پر لگائی گئی پابندیوں میں قرض دینا اور نیا جمع منظور کرنے پر پابندی شامل ہیں۔ ساتھ ہی بینک انتظامیہ کو ہٹاکر اس کی جگہ آر بی آئی کے سابق افسر کو بینک کا ایڈمنسٹریٹر بنایا گیا۔ اس سے پہلے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سوموار کو کہا کہ حکومت پی ایم سی بینک معاملے سے جڑے واقعات پر باریکی سے نظر رکھے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر نے بھروسہ دیا ہے کہ پی ایم سی بینک کے صارفین کے مفادات کی حفاظت کی جائے ‌گی۔ پبلک سیکٹر کے بینک کے چیف کے ساتھ میٹنگ کے بعد میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا، ‘آر بی آئی گورنر نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ صارفین کے مفاد کو دھیان میں رکھیں‌ گے اور جلد سے جلد ان کی دقتیں دور کرنے کی کوشش کی جائے‌ گی۔ میں نے آج دوپہر آر بی آئی گورنر کے ساتھ چرچہ کی تھی اور میں اس کی باریکی سے نگرانی کر رہی ہوں۔’ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت جمع پر گارنٹی کی حد کو ایک لاکھ روپے سے بڑھانے پر غور کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کو پارلیمنٹ کے ذریعے سے کیا جائے‌ گا۔ ڈپازٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈی آئی سی جی سی) بینک کھاتے میں جمع صارفین کی رقم کا زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے کا بیمہ کرتی ہے۔ اس میں اصل اور سود دونوں رقم شامل ہے۔ کسی وجہ سے بینک کا کام بند ہونے کی حالت میں جامع کرنے والے کو بیمہ کمپنی اس رقم کی ادائیگی کرتی ہے۔ سیتا رمن نے کہا کہ انہوں نے آر بی آئی گورنر کے ساتھ اس بات پر صلاح مشورہ کیا کہ، کیا ایک لاکھ روپے کی جمع گارنٹی کو فوراً جاری کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ، گورنر نے مطلع کیا ہے کہ بینک بند ہونے کے بعد ہی جمع گارنٹی جاری کی جاسکتی ہے۔ ممبئی کی ایک عدالت نے پی ایم سی بینک گھوٹالے معاملے میں سوموار کو ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (ایچ ڈی آئی ایل) کے چیئر مین اور منیجنگ ڈائریکٹر راکیش کمار وادھون اور ان کے بیٹے سارنگ وادھاون اور بینک کے سابق چیئر مین وریام سنگھ کی پولیس حراست 16 اکتوبر تک بڑھا دی۔ سیکڑوں کی تعداد میں جمع کرنے والے اس معاملے کو ‘سفید پوش جرم’ ٹھہراتے ہوئے عدالت کے باہر مظاہرہ کررہے ہیں۔ وہ ملزمین کے خلاف سخت کارروائی اور اپنے پیسے جلد سے جلد واپس دلائے جانے کی مانگ‌ کر رہے ہیں۔ پنجاب اینڈ مہاراشٹر کوآپریٹو (پی ایم سی) بینک معاملے میں پولیس نے تینوں ملزمین کو سوموار کو مہانگر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ معاملے کی جانچ‌ کر رہی ممبئی پولیس کی اکانومک کرائم برانچ نے تینوں کی حراست کی مانگ کی۔ مجسٹریٹ ایس جی شیخ نے پولیس کی حراست کی عرضی پر غور کرتے ہوئے تینوں کی حراست 16 اکتوبر تک کے لئے بڑھا دی ہے۔ پی ایم سی بینک میں 4355 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں شامل ہونے کے الزام میں وادھون اور ان کے بیٹے کو تین اکتوبر اور سنگھ کو پانچ اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی نے سوموار کو کہا کہ اس نے پی ایم سی بینک منی لانڈرنگ معاملے میں 3830 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی ہے اور پہچان کی ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے کہا کہ وہ ‘ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ’ (ایچ ڈی آئی ایل)، اس کے پروموٹرس، پنجاب اینڈ مہاراشٹر کوآپریٹو (پی ایم سی) بینک کے افسروں اور دیگر کی کئی جائیدادوں کا تجزیہ کر رہی ہے۔ پہچان کی گئی جائیدادوں کو جلد ہی منی لانڈرنگ روک تھام قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت قرق کیا جائے‌ گا۔ ای ڈی نے ایک بیان میں بتایا کہ جرم سے متعلق باقی پیسے کا پتہ لگانے کے لئے جانچ جاری ہے۔ ای ڈی کا معاملہ ممبئی پولیس کی اکانومک آفینس ونگ (ای او ڈبلیو) کی طرف سے دائر ایف آئی آر پر مبنی ہے۔ مرکزی ایجنسی نے اس مہینے کے شروع میں اس معاملے میں چھاپے ماری کی تھی۔

سیاست

وزیراعظم نریندر مودی کی کارگزاریوں کی ستائش، نائب وزیر اعلی شندے کی این ڈی اے میٹنگ میں وزیراعظم مودی کو مبارکباد

Published

on

Modi-Shinde

شیوسینا کے سربراہ اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے نئی دہلی میں منعقدہ این ڈی اے میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں ایک تہنیتی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 4398 دنوں تک ملک کی قیادت کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے اور ان کی قیادت میں ہندوستان تیزی سے سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی ملک کی خدمت کے 12 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ‘وکاسیت بھارت’ کی قرارداد کے ذریعے اگلے 21 سالوں کے لیے ملک کی ترقی کے لیے ایک واضح وژن پیش کیا ہے، جو ان کے وژن اور ملک کے لیے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ بنایا ہے اور سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے نہ صرف ایک ریکارڈ بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گئی ہے اور ملک اقتصادی سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مودی نے دنیا کے مقبول ترین لیڈروں میں اپنی شناخت بنائی ہے اور کئی ممالک نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ شندے نے بھی وزیر اعظم مودی کی اچھی صحت، لمبی عمر اور ملک کی مسلسل خدمت کی خواہش کی۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مہاراشٹر اور ملک نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کوسٹل روڈ، وادھوان بندرگاہ اور نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسے اہم پروجیکٹوں کے لیے بھاری مالی امداد دی ہے۔ شندے نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مہاراشٹر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری موصول ہوئی جس سے ریاست کی ترقی میں تیزی آئی۔ انہوں نے مراٹھی زبان کی کلاسیکی زبان کی حیثیت، جن دھن یوجنا، خواتین کو بااختیار بنانے اور غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو وزیر اعظم مودی کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، آرٹیکل 370 کو ہٹانے اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں نے وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت کو ثابت کر دیا ہے۔ ثقافتی ورثے کی ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شندے نے غریبوں کی فلاح و بہبود اور قوم کی تعمیر میں ان کے تعاون کے لیے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم مودی سے گھریلو مراسم – ایکناتھ شنڈے
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ شیوسینا این ڈی اے میں بی جے پی کی سب سے پرانی اور قابل اعتماد اتحادی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف سیاسی لیڈر بلکہ خاندان کے سربراہ کے طور پر کام کیا ہے۔ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ذاتی طور پر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے کئی بار اپنی صحت اور آواز پر تشویش کا اظہار کیا۔ شندے نے کہا کہ جب ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے ‘آپریشن سندھور’ کے سلسلے میں بیرون ملک ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی، تب بھی وزیر اعظم نے ان کے بارے میں گہری معلومات لی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو چھوٹےرودرانش سے خاص لگاؤ ​​ہے۔

شیو سینا نے خود کو خود غرض سیاست کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے این ڈی اے سے الگ کر لیا :
نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اقتدار اور خود غرضی کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا جسے ہندو دل کے شہنشاہ بالا صاحب ٹھاکرے نے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا نے کچھ وقت کے لیے خود کو این ڈی اے سے دور کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا نے بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات اور ہندوتوا کے نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے این ڈی اے میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ عوام کی مرضی کے مطابق مہاراشٹر میں مخلوط حکومت قائم ہوئی اور آج شیوسینا اور این ڈی اے کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط اور اٹوٹ ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دادر میں عوامی پارکنگ لاٹس کو بااختیار بنانے کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن کا خصوصی پائلٹ تجربہ، اسے ممبئی میں ہر جگہ نافذ کیا جائے گا

Published

on

Parking

ممبئی : عوامی پارکنگ لاٹوں کے استعمال کو بڑھانے اور ٹریفک کو ہموار بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے دادر ویسٹ میں جگن ناتھ ساونت مارگ پر پبلک پارکنگ لاٹ کو ‘ماڈل پارکنگ لاٹ’ کے طور پر تیار کرنے کی پہل کی ہے۔ اس پارکنگ میں صفائی مہم چلائی گئی ہے، اضافی لائٹنگ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ خواتین ڈرائیوروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کو ماہانہ پاس فیس میں 50 فیصد رعایت دی گئی ہے اور پہلے مرحلے میں 400 رعایتی پاس دئیے جائیں گے۔ اس کے بعد، ڈیمانڈ آنے کے بعد اس پر الگ سے غور کیا جائے گا۔ سڑکوں پر سرخ سیاہ پٹیاں پینٹ کی جا رہی ہیں تاکہ واضح طور پر ‘نو پارکنگ’ والے علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ نیز، یکساں تاریخوں کے مطابق پارکنگ کے انتظامات کے لیے سرخ اور سفید پٹیاں کھینچی جارہی ہیں۔ پارکنگ کی معلومات کو آسانی سے دستیاب کرنے کے لیے دشاتمک نشانیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر اس اقدام کو شہریوں کی طرف سے اچھا رسپانس ملتا ہے تو اس پائلٹ تجربہ کو شہر کے دیگر پبلک پارکنگ لاٹس پر بھی لاگو کیا جائے گا۔

ممبئی میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پس منظر میں، ممبئی میونسپل کارپوریشن پارکنگ کے انتظام کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کو نافذ کر رہی ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مجاز اور محفوظ پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پورے شہر میں پارکنگ کی سہولیات تیار کی ہیں۔ مختلف مقامات پر میونسپل کارپوریشن کو منتقل کیے گئے کل 37 پارکنگ لاٹس میں سے کل 30,135 گاڑیاں پارکنگ کے لیے دستیاب ہیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں جگناتھ ساونت مارگ کی پارکنگ لاٹ میں ایک ’ماڈل پارکنگ‘ پہل کو لاگو کیا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹ) ابھیجیت بنگر نے کہا کہ موٹرسائیکلوں کی سہولت کے لیے جگناتھ ساونت مارگ پارکنگ لاٹ میں 1,000 تین پہیہ اور چار پہیہ اور 12 دو پہیہ گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا انتظام ہے۔ کوتوال گارڈن کے سامنے کا علاقہ، کبوترخانہ، گنیش پیٹھ گلی اور ٹی آر ساونت مارگ سے بال گووند داس مارگ تک کے علاقے کو پہلے ہی ‘نو پارکنگ’ ایریا قرار دیا جا چکا ہے۔ فی الحال، اس علاقے میں 200 سے زیادہ ‘نو پارکنگ’ کے بورڈ لگائے گئے ہیں اور مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ ‘ماڈل پارکنگ’ اقدام کے تحت، سڑکوں پر کرب پتھروں کو گہرے سرخ اور سیاہ پٹیوں سے پینٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ‘نو پارکنگ’ والے علاقوں کو زیادہ واضح طور پر ظاہر کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں طاق اور جفت تاریخوں کے مطابق پارکنگ کے لیے سرخ اور سفید پٹیوں کی پینٹنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پارکنگ کی جگہوں کی دستیابی کی نشاندہی کرنے والے دشاتمک نشانوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

پارکنگ کو مزید پرکشش اور محفوظ بنانے کے لیے صفائی مہم چلائی گئی ہے۔ اضافی ٹیوب لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کو پارکنگ لاٹ استعمال کرنے کی ترغیب کے طور پر ماہانہ پاسز پر 50 فیصد رعایت دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اس طرح کی چھوٹ کے ساتھ کل 400 پاس دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ڈیمانڈ آنے کے بعد الگ سے غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسٹر بنگر نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن والیٹ پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) بنگر نے مزید کہا کہ ان تمام اقدامات کے ایک حصے کے طور پر، شہریوں کو نوٹ کرنا چاہیے کہ 1 جولائی 2026 سے ٹریفک پولیس کی جانب سے احتیاطی اور تعزیری کارروائی کی جائے گی، اگر گاڑیاں ‘نو پارکنگ’ ایریا یا جگن ناتھ ساونت مارگ کے آس پاس کے دیگر مقامات پر کھڑی پائی جاتی ہیں۔ اگر اس اقدام کو مقامی شہریوں کی طرف سے مثبت جواب ملتا ہے تو میونسپل کارپوریشن کو ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کو نافذ کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ نیز، بنگر نے امید ظاہر کی کہ اس سے ٹریفک کی بھیڑ کے مسئلے میں کچھ راحت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بی ایم سی سمیت وزیر اعلی کا دفتر اڑانے کی دھمکی… ‘میں دھمکیوں سے نہیں ڈرتی یہ سازشی عمل کا حصہ’ : مئیر ریتو تاوڑے

Published

on

Mayor Ritu Tawde

ممبئی : ممبئی کی میئر کو ان کی کار اور دفتر کو پر بم سے اڑانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد سنسنی پھیل گئی اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ای میل میں سی ایم آفس، میئر آفس اور بی ایس ای آفس کا بھی ذکر تھا۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور دھمکی موصول ہونے کے بعد شناخت کے لیے پولس نے تفتیش شروع کردی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے پر مئیر ریتو تاوڑے نے کہا کہ ممبئی آج (10 جون، 2026) صبح تقریباً نو بیس (9:20) پر، مجھے ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔ اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن کے ایمرجنسی مینجمنٹ سیل اور پھر پولیس انتظامیہ نے فوری طور پر مطلع کیا تاہم عوام کے کاموں اور اہم اجلاس میں تاخیر نہ ہونے کے لیے جو پہلے سے طے شدہ تھے، میں نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق میونسپل ہیڈ کوارٹر میں میٹنگز میں شرکت کی ایسے سنگین اور حساس معاملات میں پولیس انتظامیہ اور میونسپل ایڈمنسٹریشن سے فوری اور مناسب قانونی کارروائی کی توقع کی جاتی ہے اور اسی ضمن میں کارروائی جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ اپنی سطح پر میری گاڑی، دفتر اور ذاتی سیکورٹی کے حوالے سے مناسب قانونی اور تکنیکی کارروائی کرے گی۔

ذاتی طور پر میں ایسی کسی دھمکی سے نہیں ڈرتی اس سے قبل، بنگلہ دیشی ہاکروں اور دیگر غیر مجاز مقدمات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کچھ عناصر نے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی, لیکن میں ایسے دباؤ کے سامنے کبھی نہیں جھکی اور نہ آئندہ جھکوں گا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ نہ صرف ممبئی بلکہ ریاست کے کچھ دوسرے شہروں کے میئروں کو بھی ایسی ہی دھمکیاں ملی ہیں۔ اس میں سازشی عمل سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم، مجھے ریاست کے محکمہ داخلہ پر پورا بھروسہ ہے، وہ اس پورے معاملے کا پردہ فاش کریں گے اور مناسب سخت کارروائی کریں گے۔ انتظامیہ اور پولیس کا نظام اپنا کام کر رہا ہے اور میں عوامی خدمت کا عزم جاری رکھوں گا۔ اس طرح کے خطرات سے ممبئی کی ترقی اور سلامتی کی رفتار کم نہیں ہوگی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان