Connect with us
Sunday,02-August-2026

مہاراشٹر

مالیگائوں بم دھماکہ کی سماعت بند کمرے میں کئے جانے کی این آئی اے کی گذارش

Published

on

ممبئی:مالیگائوں ۲۰۰۸؍بم دھماکہ معاملے کی سماعت بند کمرے میں کیئے جانے کی قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی عرضداشت کی بم دھماکہ متاثرین اور میڈیا کے نمائندوں نے مخالفت کی اور خصوصی عدالت میں این آئی اے کی عرضداشت مسترد کیئے جانے کے تعلق سے علیحدہ علیحدہ عرضداشتیں داخل کیں جسے عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرلیا۔قومی تفتیشی ایجنسی کے وکیل اویناس رسال نے خصوصی عدالت میں ایک عرض داشت داخل کرتے ہوئے معاملے کی سماعت بند کمرے میں یعنی کے In-Camera کیئے جانے کی گذارش کی جس میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کے تحفظ کے مد نظر وہ عدالت سے گذارش کرتے ہیں کہ معاملے کی سماعت کے دوران میڈیا اور دیگر افراد کو عدالت سے باہر رکھا جائے جن کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔عدالت نے قومی تفتیشی ایجنسی کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو ئے ملزمین بالخصوص سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہیت و دیگر کو حکم دیاکہ این آئی اے کی عرض داشت پر اپنا جواب داخل کریں تاکہ اس پر سماعت کی جاسکےاسی درمیان بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل شاہد ندیم نے بم دھماکہ متاثرین کی جا نب سے عدالت میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے عدالت سے این آئی اے کی عرضداشت کو مسترد کیئے جانے کی گذارش کی ۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ انہیں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پتہ چلا کہ قومی تفتیشی ایجنسی نے اس معاملے کی سماعت بند کمرے میں کیئے جانے کی عدالت سے گذارش کی ہے جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں کیونکہ میڈیا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعہ بم دھماکہ متاثر ین اور دنیا بھر کے انصاف پسند عوام مقدمہ کے تعلق سے جانکاری حاصل کرپاتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو مزیدکہا کہ یہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ اس اہم معاملے کی سماعت جس پر پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اوپن کورٹ میں ہونا چاہئے۔متاثرین کی جانب سے این آئی اے کے اقدام کی مخالفت کرنے والی عرضداشت کو عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرلیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق آج خصوصی این آئی اے عدالت میں این آئی اے کی جانب سے داخل کردہ متذکرہ عرضداشت کی مخالفت میں نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے گیارہ نمائندوں نے ایک عرضداشت داخل کی اور این آئی اے کی بند کمرے میں سماعت کیئے جانے کی مخالفت کی، میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے سینئرایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے میڈیا نمائندوں کی عرضداشت کو بھی سماعت کے لیئے قبول کرلیا۔خصوصی جج ونوڈ پڈالکر نے این آئی اے، ملزمین ، متاثرین اور میڈیا کے نمائندوں کی عرضداشتوں کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کردی، امید ہیکہ کل عدالت اس اہم عرضداشت پر سماعت کیئے جانے کے لیئے وقت متعین کریگی۔جمعیۃعلماء مہاراشٹر۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کوہ نور عمارت سانحہ متاثرین کی فوری مالی امداد، بحالی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے، اور ریلیف اور بحالی کے وزیرمکرند جی جادھو کو ایک خط ارسال کرانہوں نے بھیونڈی شہر کے بالاجی نگر علاقے میں چار منزلہ کوہ نور عمارت کے گرنے کے المناک اور سنگین واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کی ہے۔خط کے ذریعے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اہم مطالبات اور مسائل پیش کئے ہیں جس میں انتظامی لاپرواہی پر سوال بھی اٹھایا ہے

بھیونڈی نظام پور سٹی میونسپل کارپوریشن نے پہلے اس عمارت کو ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا تھا اور نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ مکینوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ انتظامی تاخیر اور لاپرواہی کے باعث جانیں ضائع ہوئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی فوری امداد کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت حادثے میں جان گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرے اور تمام زخمیوں کو سرکاری خرچ پر بہترین طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انتہائی خطرناک عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کیوں سے متعلق اعظمی نے کہا کہ بھیونڈی شہر میں تمام خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتوں کا ‘سٹرکچرل آڈٹ’ فوری طور پر کیا جانا چاہیے، اور ان کے رہائشیوں کی عارضی اور مستقل بحالی کے انتظامات بلا تاخیر کیے جانے چاہئیں۔قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بڑے حادثے اور اس سے منسلک غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جلد از جلد بھیونڈی میں متاثرہ خاندانوں تک انصاف اور راحت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان