Connect with us
Saturday,25-July-2026

قومی خبریں

ماب لنچنگ کے خلاف بے مدت بھوک ہڑتال صرف ۲؍ گھنٹہ میں سِمٹ گئی

Published

on

دھولیہ:تبریز انصاری کے ہجومی تشدد کی واردات کے بعد ہے ہی انصاف آکروش مورچہ نے ماب لنچنگ کے خلاف سخت قانون نافذ کروانے کی حکمتِ عملی پر اپنی ٹیم کے ساتھ مشوراتی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا ۔ انصاف اکروش مورچہ کے انتظامیہ کی خواہش تھی کہ شہر کے دانشوران کے قیمتی مشورہ کے ذریعہ کام کی ابتداء کی جائے گی۔ اس ضمن میں پہلی میٹنگ اے آئی ٹی اسکول بھولا بازار میں منعقد کی گئی ، میٹنگ کی کامیابی کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت سے ہی ہوگئی تھی ۔ تمام حاضرین سے ہجومی تشدد کے خلاف کیا کام کرنا چاہیے جس سے حکومت قانون بنانے کے لیے سوچنے پر مجبور ہوجائے؟ متعدد لوگوں کے مشورہ کے بعد اتفاق رائے کی بنیاد پر بے مدت بھوک ہڑتال کی تجویز کو منظور کرلیا گیا، لیکن سب سے بڑی غلطی پہلی ہی میٹنگ میں تاریخ طے کرنا تھی اور یہ تاریخ ۲؍ مرتبہ ملتوی کی گئی اور تیسری مرتبہ ۱۶؍ جولائی کی گئی ۔ ۱۲؍سے ۱۵؍ اور پھر ۱۶؍ جولائی کو بھوک ہڑتال کی گئی ،۱۶؍ تاریخ سے قبل جو بد نظمی ہوئی ہے اس پر سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے۔ بے مدت بھوک ہڑتال کی باتیں چلائی گئی جب تک حکومت ہجومی تشدد کے خلاف قانون عملی شکل میں بناکر پیش نہیں کردیتی تب تک بھوک ہڑتال جارہی رہے گی۔ بھوک ہڑتال میں مالی تعاون کے نام پر چندہ کیا گیا، سب سے اہم مالیاتی شعبہ غیر ذمہ دار شخص کے سپرد کیا گیا جو لوگوں کے درمیان بھوک ہڑتال میں آنے والے اخراجات کی فہرست بتاکر چندہ حاصل کرتا رہا، عوام کے جذبات سے کھیل کا چندہ اکھٹا کیا جاتا رہا ۔بتایا جارہا تھا کہ دس ہزار عوام پروگرام میں شرکت کریں گی ، حقیقت میں صرف ۲۰۰؍ لوگ ہی موجود تھے۔ عوام سے کہا گیا کہ بے مدت بھوک ہڑتال کی جگہ سی سی ٹی وی کیمرہ ، نیشنل چینل والوں کا کوریج، ویڈیو شوٹنگ کے لیے ڈی ایس ایل آر کیمرہ ، بڑا شامیانہ ، بہترین مائک سسٹم ، بارش سے بچنے کے لیے پلاسٹک کا منڈپ وغیرہ نا جانے کتنے لوازمات کو گنوانے کے بعد روپئے طلب کئے گئے ۔ جبکہ بے مدت بھوک ہڑتال کی ہر ایک شخص نے حمایت کی تھی ، شہرمیں چند مخیر حضرات کو ذمہ داری دے دی جاتی تو ہر چیز کا انتظام آسانی کے ساتھ ہوجاتا ۔ نقدی جمع کرنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی، جہاں خالص سیاسی شخصیات موجود ہوتی ہے وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر نقدرقم حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک شخص نے نمائندہ سے بات چیت کرکے ۴؍ لاکھ کا بجٹ بتایا ، جبکہ دوسرے شخص نے کہا ہم سے ساڑے پانچ لاکھ کا بجٹ بول کر چندہ وصول کیا گیاہے۔ ایدوکیٹ زبیر شیخ نے اے آئی ٹی اسکول میںدو سال قبل تعلیمی موضوع ایم پی ایس سی اور یو پی ایس سی کے تیاری کے عنوان پر پروگرام کا انعقاد کیا تھا جس میں شہر کے تمام مسلم کارپوریٹرس سمیت سیاسی لیڈران کو مدعو کیا گیا تھا لیکن صرف سماجی خدمتگار زاہد کرانہ والے کے علاوہ کوئی بھی تعلیمی نسبت کے پروگرام میں حاضرنہیں تھا۔ انصاف آکروش مورچہ میں انتظامیہ کے اہم اراکین کام کرتے ہیں لیکن بن بُلائے سیاسی لیڈران پہنچ جاتے ہیں ۔ ۱۶؍ جولائی کو ہوا یوں کہ کارپوریٹرس و دیگر لیڈران اپنے اپنے چمچوں کے ساتھ بھوک ہڑتال کی جگہ پہنچ کر فوٹو شیشن جاری کردیئے گویا پروگرام انہوں نے ہی منعقد کیا ہو ۔ واٹس اور فیس بُک پر ایک ہی پروگرام کی سیاسی لیڈران کی الگ الگ تصاویر آنے لگی ۔عوام نے سوچا آج کا پہلا دن ہے پورا دن بھوکا پیاسا رہ کر پروگرام میں بیٹھے گے لیکن اچانک ۲؍ گھنٹہ میں اسٹیج سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ہماری بھوک ہڑتال کا پروگرام ختم کیا جارہا ہے۔ کیونکہ سرکاری افسران خود میمورنڈم لینے ہمارے پاس چل کر آرہے ہیں اس طرح کا بیان دے کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ افسران تو دفتر سے نکل کر پروگرام کی جگہ پر آگئے اور میمورنڈم لے کر چلے گئے لیکن کسی کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کس کے دباؤ میں آکر بے مدت بھوک ہڑتال کو ختم کیا جارہا ہے؟ اخبار کے نمائندہ نے ایک ذمہ دار سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ شہر کا ماحول خراب نہ ہو اس لیے ہم نے جلد ہی پروگرام کو ختم کردیا۔ جبکہ بھوک ہڑتال شروع ہونے سے قبل چند ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ بھوک ہڑتال میں خاموشی سے ایک جگہ بیٹھا جائے گا، کسی بھی طرح کی نعرہ بازی نہیں کی جائے گی تو سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ ایک طرف خاموشی سے بیٹھنے میں ماحول کیوں خراب ہوگا؟ اور پولس انتظامیہ کوعوامی پیسوں سے کس کام کی تنخواہ دی جاتی ہے؟ تو یہ کام تو پولس محکمہ کا ہوا، یہ بات بھی کی گئی کہ حکومت نے ہماری باتوں کو سنا تو ہمارا بھی کام ہے حکومت کا سپورٹ کرنا۔ یہ بھوک ہڑتال تو حکومت کے خلاف ہی تھی تاکہ قانون بنایا جائے اچانک آخری دن انتظامیہ کے ذمہ داران کیوں حکومت کے حمایت میں آگئے ؟ کیا حکومت نے ان کے مطالبات کو منظور کرکے قانون نافذ کردیا تھا؟ پھر کہا جانے لگا ہماری جنگ جاری رہے گی ، جب جنگ شروع ہی نہیں ہوئی تو جاری کیسے رہ سکتی ہے؟مزید کیا گیا کہ ہم آزاد میدان میںبے مدت دھرنا آندولن کریں گے جب مقام پر رہ کر یہ کام کرنے میں ناکام ہوگئے تو ۳۵۰؍ کلو میٹر دور جاکر کیسے دھرنا آندولن کرسکتے ہو؟سیاسی لیڈران نہیں چاہتے تھے کہ یہ بھوک ہڑتال مزید دنوں تک جاری رہ سکے کیونکہ ان کاآقا و قائد پروگرام میں شرکت کرنے سے گزیرکریںگے۔

سیاست

اپوزیشن لیڈروں نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت کی بڑی فتح ہے۔

Published

on

Dharmendra Pradhan

نئی دہلی : دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کو وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے پر اپوزیشن رہنماؤں نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ آر جے ڈی کے ایم پی منوج جھا نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا، ” نوجوانوں کے جوش کی وجہ سے دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ جمہوریت میں طلباء نے دوبارہ احتساب کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب سے بھرا ایک بہتر نظام بنایا جانا چاہیے۔ قوم سے محبت کی وجہ سے لوگ مختلف شہروں میں احتجاج کرتے رہے۔ احتجاج کرنے والوں کے جذبے کو سلام”۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، “دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پوری قوم کو مبارکباد۔ جمہوریت کی بڑی جیت۔” انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جدوجہد کا نتیجہ نکلا، اور دھرمیندر پردھان کو آخر کار استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ لوگ محسوس کرنے لگے تھے کہ حکومتیں نہیں سن رہی ہیں۔ اتنی بڑی جدوجہد کے بعد حکومت کو جھکنا پڑا۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اسے عوام کی بات سننی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت این ای ای ٹی سسٹم کو بہتر کرے گی تاکہ بچوں کو خودکشی نہ کرنی پڑے۔ پنجاب کے وزیر ہرپال سنگھ چیمہ نے کہا، “ملک کے نوجوانوں نے ایک زبردست تحریک چلائی کیونکہ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت آئی ہے، پیپر لیک ہو رہے ہیں، امتحانی پرچے بیچے جا رہے ہیں، اور طلباء کے مستقبل سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر کے طلباء نے متحد ہو کر ایک زبردست جدوجہد کی، اپنی آواز بلند کی، اور احتجاج کیا۔”

ہرپال سنگھ چیمہ نے مزید کہا، “کئی دنوں تک بھارتیہ جنتا پارٹی نے تحریک کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن ملک کے نوجوان متحد رہے، آج ملک کے متکبر حکمرانوں، متکبر بھارتیہ جنتا پارٹی کو جھکنا پڑا ہے۔ دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ یہ ہمارے طلباء اور ملک کے مستقبل کی بہت بڑی فتح ہے۔” کانگریس لیڈر حسین دلوائی نے کہا، “یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ میں کہوں گا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی دباؤ سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ عوام کی توجہ میں آیا ہے۔ سیاست میں لیڈروں کو ہمیشہ عوام سے جڑے رہنا چاہیے اور ان کی باتوں کو سننا چاہیے۔” ٹی ایم سی ایم ایل اے کنال گھوش نے کہا، “یہ پہلے ہونا چاہیے تھا۔ اس میں اتنا وقت کیوں لگا؟ یہ پہلے ہونا چاہیے تھا۔ پورا ملک اس کا مطالبہ کر رہا تھا۔ بی جے پی ان کی حفاظت کر رہی تھی۔”

آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد راشدی نے کہا، “یہ بہت عجیب صورتحال ہے، سینکڑوں بچے زخمی ہوئے ہیں، بہت سے مارے گئے ہیں، بچوں پر لاٹھی چارج کیا گیا ہے، ان کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے ہیں، کیا آج ضمیر بیدار ہوا ہے؟ اگر یہ 15-20 دن پہلے ہوتا تو بہت اچھا ہوتا۔ یہ وہی دھرمیندرک پردھان ہے جس نے کانگریس کے ایک اخبار پر احتجاج کے دوران دھرمیندرک پردھان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ایک ٹوٹا ہوا سر اور ایک ٹوٹا ہوا بازو آج اس کی یادداشت کھو چکا ہے کہ بچے کیا سوچتے ہیں۔” ساجد راشدی کا مزید کہنا تھا کہ “بچے کیا چاہتے ہیں، حکومت نے اپنے لیے کرو یا مرو کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے، سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم اس پر راضی ہوں گے یا نہیں، یہ بہت بڑی بات ہے، اگر وزیر اعظم راضی ہو جائیں تو یہ حکومت کے لیے اچھا ہو گا، لیکن اس تحریک کے پیچھے اپوزیشن جماعتیں اسے مرنے نہیں دیں گی، وہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے، صرف حکومت کی سرنگونی ہو گی۔”

Continue Reading

سیاست

جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کا حکم

Published

on

CM-VD-Sathesan

ترواننت پورم : کیرالہ کے وزیر اعلی وی ڈی ستھیسن نے سی پی آئی (ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر صحت پی کے کے خلاف سوشل میڈیا پر شروع کی گئی مبینہ جھوٹی پروپیگنڈہ مہم کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ سریماتھی۔ سری ماتھی نے جھوٹی خبریں پھیلا کر انہیں بدنام کرنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو باضابطہ شکایت پیش کی۔ شکایت میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا اور کچھ آن لائن پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے کیے گئے کہ اس نے دھوکہ دہی سے ایم ایل اے فیملی پنشن حاصل کی ہے۔ شکایت موصول ہونے پر چیف منسٹر نے اسے ریاستی وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا کو بھیج دیا اور انہیں اس معاملے میں فوری اور مناسب قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ حکومتی مداخلت کے بعد، تحقیقات سے پتہ چلا کہ نام میں مماثلت کی وجہ سے معاملہ غلط فہمی کا شکار تھا۔

زیر بحث پنشن سی پی آئی (ایم) لیڈر پی کے کو نہیں ملی۔ سریماتھی، لیکن پی کے سری ماتھی، آزادی پسند رہنما اور کانگریس لیڈر پی آر کرشنن کی آنجہانی بیوی۔ پی آر کرشنن نے سابق ٹراوانکور-کوچین اسمبلی حلقہ اور بعد میں کنم کلم اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پی کے سریماتھی، اے کے ایم میں ایک ریٹائرڈ ٹیچر۔ تھریسور کے پوچٹی میں ہائر سیکنڈری اسکول نے 1993 میں اپنے شوہر کی موت کے بعد اسمبلی کی فیملی پنشن حاصل کرنا شروع کی تھی۔ یہ پنشن فروری 2020 میں ان کی موت کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ اس کے بیٹے اجیت (پرنٹیکس اجیت) نے واضح کیا کہ پچھلے چھ سالوں سے کسی کو بھی یہ پنشن نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کا نام غیر ضروری طور پر تنازعہ میں گھسیٹا گیا، اور یہ کہ سی پی آئی (ایم) لیڈر کو یا تو ناموں کی مماثلت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا یا جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔

آر ٹی آئی کا جواب مسخ کیا گیا۔

سابق ایم ایل ایز کی پنشن سے متعلق آر ٹی آئی کے جواب کے شائع ہونے کے بعد یہ تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ دستاویز میں فیملی پنشن کو ایک طرف “پی کے سریماتھی، پی آر کرشنن کی بیوی” کے طور پر درج کیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف پی کے کی پنشن سے متعلق علیحدہ معلومات درج ہیں۔ سریماتھی، سابق کنور ایم ایل اے اور سابق وزیر۔

الزام ہے کہ ان دو الگ الگ اندراجات کو ملا کر ایسا ظاہر کیا گیا کہ جیسے یہ ایک ہی شخص ہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایک جعلی مہم چلائی گئی۔

جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی کے شریمتی جذباتی ہو گئیں اور کہا کہ انہیں بغیر کسی قصور کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جمعہ کو انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹے الزامات لگانے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی اور ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کریں گی۔

اس نے کہا، “جھوٹی خبریں پھیلانے والے بہت سے لوگوں نے مجھے فون کیا۔ کچھ نے میرے قدموں پر گر کر معافی مانگنے کی پیشکش بھی کی۔”

شریمتی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے کئی لیڈروں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور اس معاملے میں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

سخت کارروائی اور ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے بعد یہ معاملہ اب صرف فرضی خبریں پھیلانے تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ اسے ریاست میں فرضی خبروں سے نمٹنے میں حکومت کی سنجیدگی کے امتحان کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

Continue Reading

سیاست

دہلی پولیس نے این ایس اے سے متعلق رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمول کا انتظامی عمل ہے۔

Published

on

Delhi-Protest

نئی دہلی : این ای ای ٹی پیپر لیک کو لے کر قومی راجدھانی میں جاری احتجاج کے درمیان، دہلی پولیس نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) پر اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ اسے این ایس اے کے تحت مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کوئی نیا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ یہ حکم ایک معمول کے انتظامی عمل کا حصہ ہے جو برسوں سے جاری ہے، اور ہر تین ماہ بعد اس کی تجدید کی جاتی ہے۔ 15 جولائی کو، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) 1980 کی دفعہ 3(3) کے تحت ایک حکم جاری کیا۔ اس حکم کے مطابق، دہلی پولیس کمشنر کو این ایس اے کے تحت 19 جولائی سے 18 اکتوبر تک حاصل اختیارات کا استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس مدت کے دوران، اگر قومی سلامتی یا امن عامہ کے مفاد میں ضروری سمجھا جاتا ہے، تو دہلی پولیس کمشنر این ایس اے کی دفعہ 3(2) کے تحت کسی فرد کے خلاف احتیاطی حراست کا حکم جاری کر سکتا ہے۔ تاہم دہلی پولیس نے واضح کیا کہ یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے۔ حکام کے مطابق یہ انتظام کافی عرصے سے جاری ہے اور ہر تین ماہ بعد اس میں توسیع کی جاتی ہے۔

دہلی پولیس کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس نے اطلاع دی ہے کہ سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے دہلی پولیس کمشنر کو این ایس اے کے تحت حراست کے خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ پولیس نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجدید کا حکم 7 جولائی 2026 کو 19 جولائی سے 18 اکتوبر 2026 تک کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ یہ حکم چیف جسٹس کے احتجاج شروع ہونے سے پہلے جاری کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ جاری احتجاج کے پیش نظر کوئی خصوصی درخواست یا علیحدہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان