Connect with us
Wednesday,01-April-2026

سیاست

بجٹ کا ہدف حقائق سے دور: کانگریسی لیڈر ششی تھرور

Published

on

اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مالی سال 2019-20 کے عام بجٹ کو’ہنگ بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس میں جو ہدف مقرر کئے گئے ہیں وہ حقیقت سے پرے ہیں اور معیشت کے عوامل کے موجودہ حالات کے پیش نظر انہیں حاصل کرنا ممکن نہیں نظر آتا۔
کانگریس کے ششی تھرور نے لوک سبھا میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ’ہاتھی‘ کی تشبیہ کا استعمال کیا تھا۔ اصل میں موجودہ حکومت سست چال میں چلنے والا ایک ہاتھی ہی ہے۔ ہم نے توانائی ست بھرپور ، تیزی سے معیشت میں اضافہ کرنے والا بجٹ کی توقع کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک معلق بجٹ ہے جونہ اس طرف ہے نہ اس طرف ۔بجٹ تقریر میں الاٹمنٹ تک کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ حیرت انگیز طور پر، کہیں بھی جی ڈی پی کا کوئی ذکرتک نہیں تھا۔ صرف ملک کو 50 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کی بات کہی گئی ہے ، معیشت کی اصل تصویر اس سے بالکل مختلف ہے‘‘۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔ شعرو شاعری سے بھرپور اپنی تقریر میں مسٹر تھرور نے کہا کہ معیشت کو تیزرفتار دینے والے عوامل میں سستی ہے۔ مختلف ذرائع کے اعداد و شمار کا اشتراک کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سہ ماہی میں سرمایہ کاری 81 فی صد کم ہوگئی تھی۔ 26.1 فیصد منصوبے زیرالتوا ہیں۔ مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 20.6 فیصد کمی ہوئی جو 18 سال کی سب سے بڑی گراوٹ ہے ۔ ایف ایم سی جی کے سیکٹر میں دو فیصد کمی درج کی گئی ہے اور جون میں سروس سیکٹرکا نکئی کی طرف سے جاری انڈیکس کم ہوکر 49.2 رہ گیا ہے۔ انڈیکس میں 50 استحکام اور اس سے نیچے کا عدد گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
کانگریس کے رکن نے کہا کہ اس قسم کے بجٹ کے لئے وزیر مالیات کو مکمل طور پرقصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ گزشتہ پانچ سال کی مودی حکومت کے دور کی وراثت انہیں ملی ہے جس میں نوٹ کی منسوخی ہوئی، جی ایس ٹی کو غلط طریقے سے لاگو کیا گیا اور بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی سے کئی کمپنیاں بند ہوگئیں اور بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے تھے۔
پٹرول-ڈیزل پر دو دو روپے فی لیٹر کر بڑھانے کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی ٹیکسیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی پہلے ہی پٹرول ڈیزل کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ قیمت دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مالی سال 2015-16 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مالی سال 2019-20 تک تمام کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد کر دیا جائے گا، لیکن اس بجٹ میں صرف 400 کروڑ روپے تک کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں ہی اس کے دائرے میں لائی گئی ہیں۔
مسٹر تھرور نے کہا کہ اس بجٹ میں دیہی ہندوستان کو بہت کم دیا ہے۔ دراصل، گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اس کے ساتھ سوتیلے سلوک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی ترقیات کی وزارت کے بجٹ میں جو اضافہ نظر ٖٖآرہا ہے دراصل وہ وزیر اعظم کسان سمان فنڈ کے لئے مختص 75،000 کروڑ روپے کی رقم کی وجہ سے ہے اور اسے ہٹا دینے پر وزارت کا بجٹ کم ہو ا ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی ساختیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
وزیر اعظم کسان سمان منصوبہ کے تحت ہر سال چھ ہزار روپے سالانہ رقم مختص کرنے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ’’ وزیر اعظم کسان سمان فنڈ کے پیچھے ان کا اصل مسئلہ کی سوچ کبھی تھی نہیں اس کا مقصداتنا پیسہ دینا تھا تاکہ کسانوں کے ووٹوں کو حاصل کیا جا سکے‘‘۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ پانچ سال پہلے، مودی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سال 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرے گی لیکن حقیقت میں اس کی پانچ سالہ مدت کے دوران، کسانوں کی آمدنی بڑھنے کے بھائےاس میں کمی آئی ہے۔
مسٹر تھرور نے کہا کہ صرف فصل انشورنس کمپنیاں فصل انشورنس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔کسان جتنا پریمیم کمپنیوں کو ادا کر رہے ہیں ،انشورنس کمپنیوں طرف سے پیش کردہ معاوضہ کی رقم پریمیم سے بھی کم ہے۔ گزشتہ سال خریف فصلوں سے متعلق 12،867 کروڑ روپے کے دعوی کئے گئے تھے جن میں 40 فیصد ادائیگی اب تک نہیں کی گئی ہے، جبکہ قوانین کے مطابق دو ماہ کے اندر ادائیگی کی جانی چاہئے۔
مسٹر تھرور نے تعلیم، دفاع، ماحول، صحت اور سیاحت پر مختص بجٹ بہت کم اضافہ کے لئے حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جب فوج کو سامان، ہتھیار اور گولہ بارودی سامان کی خریداری کی سخت ضرورت ہے تو اس وقت دفاعی بجٹ میں بیحدمعمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ ماحولیات کی وزارت کے لئے مختص بجٹ گجرات میں سردار پٹیل کے مجسمہ لگانے میں خرچ کردہ رقم سے بھی کم ہے۔

بین الاقوامی خبریں

کیا 77 سال بعد امریکہ نیٹو سے نکل جائے گا؟ ٹرمپ نے فوجی اتحاد کو ‘کاغذی شیر’ قرار دیا، جس سے یورپ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

Published

on

Trump

واشنگٹن : برطانیہ کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان نیٹو اتحادیوں کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی حمایت میں ناکامی کے بعد دیا ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے یورپی ممالک میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ نیٹو اصل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سوویت جارحیت سے بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکہ نیٹو کا سب سے طاقتور رکن ہے۔ لہذا، نیٹو سے امریکی انخلاء فوجی اتحاد کو منتشر کر سکتا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا اس دفاعی معاہدے سے دستبردار ہونا اب ’نظر ثانی سے بالاتر‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے نیٹو کی ساکھ پر شک کرتے رہے ہیں۔ اخبار کی طرف سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تنازعہ کے بعد اتحاد میں امریکہ کی رکنیت پر دوبارہ غور کریں گے، تو ٹرمپ نے کہا، “اوہ ہاں، میں کہوں گا کہ یہ نظر ثانی سے بالاتر ہے۔”

نیٹو میں امریکہ کا کردار کیا ہے؟
امریکہ نیٹو فوجی اتحاد کا سب سے نمایاں اور طاقتور رکن ہے۔ 1949 میں قائم کیا گیا، یہ شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک سیکورٹی اتحاد ہے۔
نیٹو کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ امریکہ دیتا ہے۔ مزید برآں، امریکہ یورپ کی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امریکہ نیٹو کا بانی رکن ہے اور اس کے فوجی اتحاد کی قیادت کرتا ہے لیکن وہ ایران کی جنگ میں نیٹو ممالک کی بے عملی سے ناراض ہے۔
نیٹو سے امریکی انخلاء سے اتحاد کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ نیٹو کے آرٹیکل 5 کے تحت، جس میں کہا گیا ہے کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ ہے، امریکہ تنہا یورپ کی حفاظت کرتا ہے۔

ٹرمپ نے برطانیہ کے جنگی بحری بیڑے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “میں نیٹو سے کبھی متاثر نہیں ہوا، میں ہمیشہ جانتا تھا کہ وہ کاغذی شیر ہیں، اور ویسے، پوٹن بھی یہ جانتے ہیں”۔ “آپ کے پاس بحریہ بھی نہیں ہے۔ آپ بہت پرانے ہو گئے ہیں، اور آپ کے پاس طیارہ بردار جہاز تھے جو کام بھی نہیں کرتے تھے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی تاریخ میں پہلی بار پراپرٹی ٹیکس نے بلند ترین سنگ میل عبور کیا ہے

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے امسال پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں ریکارڈ توڑ کارکردگی حاصل کی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے تمام سابقہ ​​ریکارڈ توڑتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کردہ 7,341 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 7,610 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس جمع کیا ہے۔ 31 مارچ 2026 کو ایک ہی دن میں 399 کروڑ 74 لاکھ روپے کا ریونیو جمع کرکے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے اس شاندار کامیابی پر ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین کی تہہ دل سے تعریف کی ہے اور ان کے کام کی تعریف کی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ممبئی کے شہریوں کو مختلف شہری خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ان خدمات کے معیار کو بڑھانے اور ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قابل مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، پراپرٹی ٹیکس ایک بہت اہم، مستحکم اور قابل اعتماد آمدنی کا ذریعہ ہے۔ اس پس منظر میں، ایڈیشنل میونسپل کمشنرڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں، اور جوائنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) مسٹر وشواس شنکروار اور ٹیکس اسیسسر اور کلکٹر مسٹر گجانن بیلے کی نگرانی میں، ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کیں۔میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات کے وسیع اور ذمہ دارانہ کام کی کامیابی کے بعد بھی ٹیکسیشن اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ کے تمام افسران اور ملازمین نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے غیر معمولی لگن، مستقل مزاجی اور توقعات سے بڑھ کر کام کیا۔ یہ یقیناً ایک خاص اور انتہائی قابل تعریف معاملہ ہے پراپرٹی ٹیکس کی بروقت ادائیگی کے لیے شہریوں میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کی گئی۔ ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے عام تعطیلات کے ساتھ ساتھ ہفتے کے آخر میں شہری سہولت مراکز کو کھلا رکھا گیا اور آن لائن ادائیگی کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ بڑے نادہندگان پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ماضی کے واجبات کی وصولی کے لیے موثر فالو اپ کیا گیا۔ ان تمام اقدامات نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو مزید موثر اور تیز تر بنایا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا نظرثانی شدہ ہدف روپے مقرر کیا تھا۔ مالی سال 2025 – 26 کے لیے 7,341 کروڑ۔ ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین کی کوششوں اور ممبئی کے شہریوں کے تعاون سے میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2025 – 26 کے لیے یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ تک کے دوران 7,610 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس جمع کیا، یہ کل ہدف کا 20163 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ اضافی جرمانے کی مد میں 301 کروڑ 13 لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے ہیں۔ انتظامی ڈویژن کی کارکردگی پر غور کرتے ہوئے، مالی سال 1 اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 کے دوران کے ایسٹ (719 کروڑ 23 لاکھ روپے)، جی ساؤتھ (670 کروڑ 64 لاکھ روپے)، کے ویسٹ (622 کروڑ 16 لاکھ روپے)، ایچ ایسٹ (577 کروڑ 16 لاکھ روپے) اور ویسٹ (577 کروڑ ایچ آر) نے 5 کروڑ 78 لاکھ روپے حاصل کیے ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کی سب سے زیادہ وصولی ریکارڈ کی گئی۔

مالی سال 2025-26 میں انتظامی ڈویژن کی طرف سے جمع کردہ پراپرٹی ٹیکس
سٹی ڈویژن
1) اے ڈویژن – 270 کروڑ 7 لاکھ روپے
2) بی ڈویژن – 47 کروڑ 31 لاکھ روپے
3) سی ڈویژن – 90 کروڑ 14 لاکھ روپے
4) ڈی ڈویژن – 299 کروڑ 53 لاکھ روپے
5) ای ڈویژن – 150 کروڑ 8 لاکھ روپے
6) ایف ساؤتھ ڈویژن – 165 کروڑ 90 لاکھ روپے
7) ایف نارتھ ڈویژن – 157 کروڑ 76 لاکھ روپے
8) جی ساؤتھ ڈویژن – 670 کروڑ 64 لاکھ روپے
9) جی نارتھ ڈویژن – 251 کروڑ 17 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 2 ہزار 102 کروڑ 60 لاکھ روپے

مغربی مضافات
1) ایچ ایسٹ ڈویژن – 572 کروڑ 78 لاکھ روپے
2) ایچ ویسٹ ڈویژن – 536 کروڑ 55 لاکھ روپے
3) کے ایسٹ ڈویژن – 719 کروڑ 23 لاکھ روپے
4) کے ویسٹ ڈویژن – 622 کروڑ 16 لاکھ روپے
5) پی ساؤتھ ڈویژن – 372 کروڑ 23 لاکھ روپے
6) پی نارتھ ڈویژن – 277 کروڑ 22 لاکھ روپے
7) آر ساؤتھ ڈویژن – 288 کروڑ 81 لاکھ روپے
8) آر سینٹرل ڈویژن – 294 کروڑ 94 لاکھ روپے
9) آر نارتھ ڈویژن – 97 کروڑ 41 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 3,721 کروڑ 33 لاکھ روپے

مشرقی مضافات
1) ایل ڈویژن – 304 کروڑ 57 لاکھ روپے
2) ایم ایسٹ ڈویژن – 113 کروڑ 93 لاکھ روپے
3) ایم ویسٹ ڈویژن – 184 کروڑ 70 لاکھ روپے
4) این ڈویژن – 242 کروڑ 30 لاکھ روپے
5) ایس ڈویژن – 398 کروڑ 47 لاکھ روپے
6) ٹی ڈویژن – 213 کروڑ 44 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 1,457 کروڑ 41 لاکھ روپے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر : ایس آئی آر سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ابوعاصم کی عوام سے اپیل، ایس آئی آر کیلئے وقت درکار

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس آئی آر سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے دستاویزات تیار رکھیں یکم اپریل سے ایس آئی آر کے نفاذ کا اعلان ضرور کیا گیا تھا لیکن ابھی تک ووٹرس میپنگ کا کام مکمل نہیں ہوا ہے اس لئے اس میں مزید وقت درکار ہے اس لئے عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کو لے کر عوام میں کافی تذبذ ب ہے اس لئے ہم نے اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن کے افسر ایس لنگم سے ملاقات کی انہوں نے بتایا کہ 50فیصد ووٹرس میپنگ اب تک مکمل ہوئی ہے کیونکہ یہاں مقامی بی ایم سی اور پریشد کے انتخابات تھے اس لئے الیکشن لسٹ پوری طرح سے مکمل نہیں ہوئی ہے اس کی وجہ سے ابھی ایس آئی آر کیلئے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یس آئی آر کے سروے کے دوران تین مرتبہ بی ایل او اور الیکشن کمیشن کے افسران گھر پر حاضری دیں گے 2000 کے ووٹنگ لسٹ سے متعلق نام تلاش کیا جائے گا اگر اس لسٹ میں نام کی شمولیت نہیں ہے تو آپ کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کے دستاویزات بھی ناموں کے اندراج کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کی ان کے معرفت بھی نشاندہی نہیں ہوتی ہے تو آپ جس گاؤں یعنی بنگال یا یوپی سے ہیں تو وہاں آپ کے آبادی وطن میں ووٹرس لسٹ میں آ پ کا نام تلاش کیا جائے گا اور آپ کے رشتہ داروں کی گواہی اور دستاویزات کی بنیاد پرایس آئی آر میں شامل کیا جاسکتا ہے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمام مرحلہ میں بھی آپ کے نام کی نشاندہی نہیں ہوتی ہے تو 11دستاویزات درکار ہے جس میں جائیداد سے لے کر دیگر دستاویزات شامل ہے اگر یہ دستاویزات پیش کئے جاتے ہیں تو ایس آئی آر میں شمولیت ممکن ہوگی اس کے ساتھ ہی تین مرتبہ جب بی ایل او آپ کے مکان پر حاضری دیتا ہے تو آپ ایک مرتبہ بھی اسے میسر نہیں آتے تو تین مرتبہ کے بعد آپ کے گھر پر نوٹس بھی دی جائے گی اس کے ساتھ ہی آپ کے پڑوسیوں سے متعلق بھی اس سے متعلق باز پرس کی جائے گی اور پھر کوئی کارروائی میں پیش رفت ہوگی اس لئے بی ایل او سے ملاقات کرنا ضروری ہے انہیں جو دستاویز ات کی ضرورت ہے وہ دستاویزات تیار رکھیں اس کام کی تکمیل کیلئے کئی تنظیمیں کوشاں ہے اسی طرح مانخورد شیواجی نگر میں عوام کی رہنمائی کیلئے ہم نے بھی نظم کیا ہے اور یہاں بھی ووٹرلسٹ سے ناموں کی تلاش اور ایس آئی آر سے متعلق دستاویزات کی تیاری میں مدد کی جارہی ہے سماجوادی کارکنان کے دفاتر میں بھی یہ کام تیزی سے جاری ہے انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایس آئی آر کا عمل جاری نہیں ہوگا جیسے ہی یہ عمل شروع ہوگا مطلع کیا جائے گا لیکن عوام کو بیداری رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے دستاویزات سے متعلق وہ مستعد رہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان