Connect with us
Friday,27-March-2026

(جنرل (عام

دوسری بار وزیراعظم بننے والے نریندر مودی

Published

on

دوسری بار ملک کے وزیراعظم بننے والے نریندر دامودر داس مودی کی پیدائش 17 ستمبر 1950ء کو گجرات کے ضلع مہسانہ میں ایک غریب خاندان میں ہوئی تھی۔ وہ والد دامودر داس اور ماں ہیرا بین کی تیسری اولاد ہیں۔
گزر بسر میں تنگی کی وجہ سے وہ اپنے والد دامودر داس کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ والدہ ہیرا بین گزر بسر میں مدد کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔ بچپن میں خود نریندر مودی اپنے والد کے ساتھ ٹرینوں میں چائے بیچا کرتے تھے جیساکہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران مودی کہاکرتے تھے۔ ان کے سوانح نگار کے مطابق بچپن میں ان کے ذہن میں سنیاسی بننے کا بھی خیال آیا تھا اور وہ کچھ دن راماکرشن مشن میں بھی جا کر رہے۔آٹھ سال کی عمر میں انہوں نے آر ایس ایس سے اپنا تعلق وابستہ کیا۔ 1967ء میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور 70 کی دہائی سے پرچارک یا تنظیم کے مبلغ کے طور پر کام کر نا شروع کر دیا۔
کم عمری میں طے شدہ شادی کی وجہ سے انہوں نے ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد گھر چھوڑ دیا اور دو سال تک شہر در شہر گھومتے رہے۔ گجرات لوٹنے سے قبل وہ کئی مذہبی مراکز کی زیارت کر چکے تھے۔ 17 سال کی عمر میں جشودا بین سے ان کی شادی ہوئی لیکن دونوں کی شادی زیادہ دن تک نہیں چلی۔
مودی کا سیاسی سفر 1984ء میں شروع ہوا۔ جب آر ایس ایس نے اپنے چند ارکان کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں بھیجا، ان میں مودی بھی شامل تھے۔ انہوں نے لال کرشن اڈوانی کی سومناتھ – ایودھیا یاترا اور مرلی منوہر جوشی کی کنیاکماری – کشمیر یاترا میں حصہ لیا۔ سنہ 1995ء میں انہوں نے گجرات میں انتخابات کی تشہیر کی ذمہ داری نبھائی تھی۔1971ء میں وہ سنگھ کے مکمل رکن بن گئے۔ ہنگامی صورت حال کے دوران میں انہیں روپوش ہوجانا پڑا۔
وہ 1990میں بی جے پی کے قومی سکریٹری کے طور پر دہلی آئے اور پنجاب‘ہریانہ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں اور شمالی ہندوستان میں بی جے پی کی توسیع کا کام سونپا گیاتھا۔ بی جے پی نے اپنے بل پر ہماچل پردیش میں 1998میں اپنی حکومت بنائی تھی۔ بعد میں مسٹر مودی کو ند آچاریہ کی جگہ پارٹی کا جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ بطور جنرل سکریٹری 1998اور 1999کی بی جے پی کی جیت ان کا اہم کردار تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ میں بھگوان کی مورتی لیجاتے وقت تنازع! دونوں جانب سے نعرہ بازی, کیس درج, حالات پرامن سیکورٹی سخت

Published

on

mumbai police

ممبئی: ممبئی ملاڈ علاقہ میں گزشتہ شب رام بھگوان کی مورتی لیجانے کے دوران اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب جامع مسجد کے پاس کچھ شرپسندوں نے شور شرابہ کیا جس کے بعدیہاں حالات خراب ہوگئے پولیس نے حالات کو قابو میں کرلیا دونوں جانب سے نعرے بازی ہوئی ایک طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر تو دوسری طرف جئے شری رام کا نعرہ لگایا گیا گزشتہ رات جامع مسجد میں عشاء کی نماز جاری تھی اسی دوران بھگوان رام کی مورتی لیجاتے وقت شور شرابہ ہوا تو نمازیوں نے اعتراض کیا اس کے بعد حالات خراب ہوگئے پولیس نے فریقین کو قابو میں کیا اور پھر اب یہاں حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے پولیس نے جامع مسجد سمیت تمام حساس علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی ہے چونکہ شام میں رام نومی کا جلوس نکالا جاتا ہے اور رام نومی جلوس شوبھایاترا میں کسی بھی قسم کی گڑ بڑی نہ ہو اس کو یقینی بنانے کیلئے چپہ چپہ پر فورسیز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے اس معاملہ میں پولیس کو سخت ہدایت جاری کی ہے جبکہ تنازع پیدا کرنے والوں کے خلاف پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ممبئی کے ملاڈ علاقہ میں رام نومی پر تین سال قبل تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس کے بعد اب دوبارہ شرپسند عناصر یہاں ماحول خراب کر نے کی کوشش کر رہے ہیں گزشتہ شب بھی یہاں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اسے ناکام بنا دیا اب حالات پرامن ہے پولیس نے افواہ پھیلانے والوں اور سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیو شیئر کرنے والوں پر بھی کارروائی کا انتباہ دیا ہے اس کے ساتھ ہی پولیس اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ماحول خراب کیا ہے۔ فرقہ وارانہ تنازع کے بعد پولیس نے حساس علاقوں کی نشاندہی کے ساتھ محلہ کمیٹیوں اور امن کمیٹیوں کی میٹنگ بھی منعقد کی تھی۔ ملاڈ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی تنصیب کے ساتھ جلوس کی نگرانی ڈرون سے کی گئی چپہ چپہ پر فورسیز کی موجودگی کے سبب جلوس کے پرامن اختتام کا دعوی بھی پولیس نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کے سیکشن 154 میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے ترمیم، قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں بل منظور

Published

on

ممبئی: قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل نے ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 154 میں ترمیم کو منظوری دی ہے تاکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی جاسکے۔ اس ترمیم سے رہائشی املاک کے مالکان اور کمرشل پراپرٹی مالکان پر ٹیکس کا بوجھ نہیں بڑھے گا۔ جس سے رہائشی اور کمرشل پراپرٹی مالکان کو راحت ملے گی ۔قطعہ اراضی لینڈ ٹیکس کی تشخیص کارپٹ ایریا انڈیکس کو چھوڑ کر کی جائے گی۔ اس سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو تقویت ملے گی جو تعطل کا شکار ہیں اور اس وقت جاری ہیں۔اس بل کی منظوری کے بعد، سال 2010 سے پورے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں تقریباً 10.5 لاکھ جائیدادوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور عدالتی معاملات کو روک دیا جائے گا۔ دفعہ 154 میں ترمیم نے ان جائیداد کے مالکان سے بقیہ 50 فیصد ٹیکس کی وصولی کی راہ ہموار کر دی ہے جو سال 2014 میں معزز ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق 50 فیصد پراپرٹی ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں میونسپل کارپوریشن کے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ ریاستی حکومت کے زیر التواء ٹیکس کی وصولی ہو گئی ہے اور محصولات کی وصولی کا راستہ صاف ہموار ہو گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان