Connect with us
Monday,24-August-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

گنپتی مورتی بے حرمتی کیس میں ایف آئی آر درج، مجگاؤں میں حالات قابو میں، ڈی سی پی جینت مینا ہندو تنظیموں کے نشانے پر

Published

on

FIR

ممبئی کے مجگائوں علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب اونچی عمارت ٹاور سے گنپتی کے جلوس پر انڈے پھینکنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد یہاں حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس نے حالات کو قابو میں کرتے ہوئے جلوس گنپتی دوبارہ شروع کروایا۔ تفصیلات کے مطابق گنپتی جلوس مجگائوں علاقہ سے گزر رہا تھا کہ کسی نامعلوم شرپسند سماج دشمن عناصر نے گنپتی کی مورتی پر انڈے پھینک کر بے حرمتی کی کوشش کی جس کے بعد ہندو تنظیموں نے سڑک روک کر سراپا احتجاج شروع کر دیا۔ جائے وقوع پر پہنچ کر ڈی سی پی جینت مینا نے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تو اسی دوران انہیں بھی مجمع نے گھیر لیا لیکن اس کے باوجودڈی سی پی نے حوصلہ سے کام لیتے ہوئے حالات کو کنٹرول کر تے ہوئے امن قائم کیا, لیکن اب یہی ڈی سی پی جینت مینا ہندو تنظیموں کے ہٹ لسٹ پر آگئے ہیں انہیں ہندو تنظیموں کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہندو تنظیموں کو انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔

گنپتی کی مورتی کی بے حرمتی کے معاملے میں پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا بی این ایس کی دفعہ 299,196 کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ملزم کی شناخت ہوچکی ہے, پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی شناخت کی ہے۔ فی الوقت کشیدگی برقرار ہے لیکن امن قائم ہے۔ پولیس مجگائوں پر سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ممبئی شہر میں فرقہ وارانہ تشدد برپا کرنے کی سازش بھی فرقہ پرستوں کی جانب سے شروع ہوگئی ہے اور جلوس پر انڈے پھینکنے کے بعد ڈی سی پی کے رول پر بھی ہندوانتہا پسند تنظیمیں تنقیدیں کر رہی ہے۔ ڈی سی پی جینت مینا ہندو انتہا پسند تنظیموں رائٹ ونگ کے نشانے پر اگئے ہیں۔ فی الوقت ڈی سی پی نے بتایا کہ حالات پرامن ہے اور پولیس اس معاملہ میں ضروری کاروائی کر رہی ہے کہ آیا اس معاملہ میں مزید کون لوگ ملوث ہے اور اس کے پس پشت کیا سازش ہے اس کی بھی تفتیش پولیس کر رہی ہے گنپتی پر انڈے پھینکنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل بھی کماٹی پورہ میں گنپتی کی مورتی پر انڈا پھینکا گیا تھا اس قسم کا واقعہ کیوں رونما ہوتا ہے اس کی بھی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پولیس کارروائی پر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو اعتماد نہیں ہے اس لئے وہ ڈی سی پی کے خلاف ہی محاذ آرائی کر رہی ہیں۔ اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کسی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔ جبکہ ملزم کی تلاش جاری ہے۔

(جنرل (عام

ممبئی، 24 اگست: جشنِ عید میلادالنبی کے پُرمسرت و بابرکت موقع پر رضا اکیڈمی ممبئی کی جانب سے ڈونگری میں واقع چلڈرن ہوم میں بچوں کے درمیان لنگرِ رسول تقسیم کیا گیا۔

Published

on

اس موقع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے صدر اور عظیم مذہبی رہنما حضرت سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی المعروف سید معین میاں صاحب قبلہ اور رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے خصوصی طور پر چلڈرن ہوم پہنچ کر بچوں میں لنگرِ رسول تقسیم کیا۔

اس موقع پر حضرت سید معین میاں صاحب نے کہا کہ جشنِ عید میلادالنبی صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ رحمتِ عالم کی تعلیمات کو عام کرنے اور انسانیت کی خدمت کا بھی موقع ہے۔ حضور اکرم نے یتیموں، مسکینوں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور شفقت کا درس دیا۔ اسی تعلیماتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے بچوں میں لنگرِ رسول کی تقسیم ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ کی سیرتِ طیبہ ہمیں محبت، اخوت، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا پیغام دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ میلادالنبی کی خوشیوں کو معاشرے کے محروم اور ضرورت مند افراد تک پہنچائیں اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ رضا اکیڈمی کی جانب سے جشنِ میلادالنبی کے موقع پر مختلف فلاحی اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لنگرِ رسول کی تقسیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکارِ دو عالم کی بارگاہ میں عقیدت کا بہترین اظہار یہ ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کریں اور ضرورت مندوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رضا اکیڈمی آئندہ بھی خدمتِ خلق، دینی بیداری اور فلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھے گی۔ ڈونگری چلڈرن ہوم میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان میں لنگرِ رسول تقسیم کرنے سے جہاں بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہیں اس موقع پر موجود افراد نے بھی اس اقدام کو سراہا۔اس موقع پر چلڈرن ہوم کے ذمہ داران، رضا اکیڈمی کے کارکنان اور دیگر معززین موجود تھے۔ بچوں میں لنگرِ رسول کی تقسیم کے بعد ملک و ملت اور پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت، امن و سلامتی اور خوشحالی کی دعا بھی کی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی کارروائی3 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی ہیروئن ضبط، ملزم گرفتار

Published

on

ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی انسدادِ منشیات مخالف ٹیم کے پی آئی کھولم اور ان کی ٹیم۲۲ اگست کو رات کے وقت اپنے حدود میں منشیات استعمال کرنے، خریدنے اور فروخت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے گشت کر رہی تھی۔

۲۳ کو رات تقریباً 12:10 بجے ہیمنت کرکرے گارڈن کے گیٹ کے سامنے، سہکاری بھنڈار کے قریب، پونم نگر، جوگیشوری (مشرق)، ممبئی میں پولیس کو ایک شخص مشتبہ حالت میں گھومتا ہوا نظر آیا۔ پی آئی کھولم کو اس شخص کی حرکات مشتبہ معلوم ہونے پر پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کو دیکھتے ہی مذکورہ شخص وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگا، تاہم پولیس ٹیم کی مدد سے اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے پہلے ٹال مٹول والے جوابات دیے۔ بعد ازاں اعتماد میں لے کر مزید تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی تو اس کے قبضے سے گہرے رنگ کا پاؤڈر، جسے ہیروئن (ہیروئن) بتایا گیا، برآمد ہوا۔

پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کے تمام قانونی تقاضوں کی پابندی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کی تلاشی لی۔ اس کے قبضے سے 302 گرام وزنی ہیروئن برآمد ہوئی، جس کی مالیت تقریباً ₹3,50,00,000 (3 کروڑ 50 لاکھ روپے) ہے۔اس معاملے میں ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن، ممبئی میں موصولہ شکایت کی بنیاد پر کیس نمبر 943/2026 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8کے ساتھ 21 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ منشیات ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کے علاقے میں سپلائی کی جا رہی تھی۔ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

اس طرح ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی انسدادِ منشیات ٹیم کے افسر پی آئی کھولم اور ان کی ٹیم نے منشیات فروخت کرنے والے ملزم توصیف لیاقت قاضی ۲۹ سالہ کو بروقت گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 302 گرام ہیروئن، مالیت ₹3.50 کروڑ ضبط کرنے کی قابلِ ذکر کارروائی انجام دی۔ یہ کامیاب کارروائی اعلیٰ پولیس افسران کی رہنمائی میں انجام دی گئی، جن میں ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولیس کمشنر ڈاکٹر منوج کمار شرما، ایڈیشنل پولیس کمشنر ڈاکٹر ابھی نو دیشمکھ، ڈپٹی پولیس کمشنر دتا نلاوڈے اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر یوگیش شندے شامل ہیں۔ کارروائی کی براہِ راست نگرانی سینئر پولیس انسپکٹر گھنشیام نائر اور پولیس انسپکٹر (جرائم) سنیل کرانڈے نے کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پروفیسر ڈاکٹر قاضی راشد انور مہاراشٹر آیوش ڈائریکٹوریٹ میں یونانی طب کے ایڈوائزر مقرر، انجمنِ اسلام کے صدرو اراکین کی جانب سے مبارکباد

Published

on

Dr.-Qazi-Rashid-Anwar

ممبئی : طبی میدان اور یونانی نظامِ علاج کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومتِ مہاراشٹر نے انجمنِ اسلام کے زیرِ انتظام چلنے والے ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا طبیہ یونانی میڈیکل کالج و حاجی اے۔ آر۔ کالسیکر طبیہ ہسپتال (ورسووا، ممبئی) کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) قاضی راشد انور صاحب کو ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومتِ مہاراشٹر میں مشیر برائے یونانی طب (ایڈوائزر، یونانی ایکسپرٹ) کے معزز عہدے پر نامزد کیا ہے۔ معزز وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن عالیجناب حسن مشرف صاحب نے اس تقرری کی باضابطہ توثیق کی اور ڈائریکٹر آف آیوش ڈاکٹر (ویدیا) رامن گھونگرالیکر صاحب نے دفتری حکم نامے کے اجراء پر پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی صاحب کی گلپوشی کر کے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

اس اہم اعزاز پر برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے انجمنِ اسلام کے صدر پدم شری جناب ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی صاحب، نائب صدر جناب مشتاق انتولے صاحب، جنرل سکریٹری جناب عقیل حفیظ صاحب اور دیگر اراکین انجمن نیز کالج ھذا كے چیرمین عمران فرنیچر والا نے پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی نئی ذمہ داری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اربابِ انجمن نے کہا کہ یہ تقرری نہ صرف ادارے کے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے بلکہ ریاست میں یونانی طب کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں اس وقت ۳ سرکاری امداد یافتہ (ایڈیڈ) کالجوں سمیت کل سات یونانی میڈیکل کالجز تعلیم و علاج کی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس وسیع تر نیٹ ورک کے باوجود، ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومت مہاراشٹر میں یونانی طریقۂ علاج کا کوئی ماہر یا باقاعدہ افسر موجود نہیں تھا، جس کے باعث پالیسی سازی اور تکنیکی رہنمائی میں ایک دیرینہ خلا محسوس کیا جا رہا تھا۔ علاوہ ازیں حکومتِ مہاراشٹر نے حال ہی میں موضع ساور، تعلقہ مہسلہ (ضلع رائے گڑھ) میں ۱۰۰ نشستوں پر مشتمل پہلے سرکاری یونانی میڈیکل کالج اور ۱۰۰ بیڈز والے ہسپتال کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کی تعلیمی اور تکنیکی تشکیل کے لیے ایک مستند ماہر کی رہنمائی ناگزیر تھی۔ لحاظ اس صورت حال میں حكومت مہاراشٹر كے اس أقدام كو طبی برادری میں بہت قدر و امید كی نگاہ سے دیکھا جا رہا هے

انجمنِ اسلام کے صدر محترم و اراکین نے امید ظاہر کی ہے کہ پروفیسر راشد قاضی کے وسیع تدریسی، اور انتظامی تجربات سے نئے سرکاری کالج کے منصوبے سمیت ریاست بھر میں یونانی طب کو ایک نیا وقار اور نئی جہت ملے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان