Connect with us
Monday,24-August-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر سانحہ… قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو, ذمہ دار وارڈ افسران کو معطل کرے : ابو عاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : ممبئی مانخور د ۔شیواجی نگر حلقہ میں عمارت گرنے کے المناک واقعہ کو لے کر آج مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں مانسون اجلاس کے دوران گرما گرم بحث ہوئی۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے جارحانہ انداز میں اس سانحہ میں ہلاک بے قصورجانوں کے ضیاع اور مقامی انتظامیہ کے اندر بدعنوانی کا مسئلہ اٹھایا۔ حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے وزیر آشیش شیلار نے ایوان کو یقین دلایا کہ اس کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور قصوروار میونسپل عہدیداروں سمیت تمام ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ،سرکاری بدعنوانی کی وجہ سے غریبوں کی جان ضائع ہوتی ہے: ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی

ممبئی ؛ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اپنے حلقے کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ گزشتہ رات، 8:30 پر، ایک تین منزلہ عمارت گر گئی، جس کے نتیجے میں ٹین شیٹ کی چھتوں والے دو غریب گھرانوں میں رہنے والے چھ بےقصوروں کی موت ہو گئی۔ پولیس نے ایک غریب گھر کے مالک غلام رضا کو حراست میں لے لیا ہے، جس نے اپنا کمرہ 1000 روپے سے 1000 روپے میں کرایہ پر لیا تھا۔ اس میں ان کا کیا قصور تھا جو کہ غیر مجاز تعمیرات کو سہارا دیتے ہیں، اگر بلدیہ کے افسران کو رشوت دیے بغیر ایک انچ بھی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعظمی نے مزید کہا، “1995 کے بعد منوہر جوشی کے دور میں، غیر مجاز تعمیرات کو روکنے اور اگر کچھ ہوتا ہے تو متعلقہ افراد سے مسماری کے اخراجات وصول کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس کے باوجود 36 سال گزرنے کے باوجود، ایک بھی وارڈ افسر کو معطل نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ گوونڈی کی ترقی صرف کاغذات پر ہے بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں بھر رہا ہے، مزید برآں، خالی کرائے گئے ٹرانزٹ کیمپ کی جگہوں کو اسٹیمپ پیپر کے معاہدوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر فروخت کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود میونسپلٹی کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے وارڈ آفیسر اور ڈی ایم سی کے ساتھ فوری میٹنگ کا مطالبہ کیا تاکہ ان مسائل کو حل کیا جاسکے اور اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا:وزیر آشیش شیلار ،ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر آشیش شیلار نے چھ افراد کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “یہ واقعی ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ معزز رکن اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے دو مسائل کے حوالے سے حکومت مثبت اقدامات کر رہی ہے۔ پہلے نکات کے بارے میں پولیس کی طرف سے محض مکان کرایہ پر لینے کے لیے حراست میں لیے گئے مالک مکان کے بارے میں احکامات جاری کیے جائیں گے کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے بصورت یہ کہ وہ اس سانحے میں قصوروار نہیں ہے دیگر اگر وہ اس میں ملوث ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی غیر مجاز تعمیرات پر حکومت کے موقف کو واضح کرتے ہوئے وزیر شیلار نے یقین دلایا، اس تین منزلہ عمارت کے گرنے اور وہاں پر غیر مجاز تعمیرات کے ذمہ دار یا ملوث تمام افراد کی مکمل تحقیقات کی جائے گی۔ چاہے ان کارروائیوں کو بچانے والے اہلکار میونسپل کارپوریشن سے تعلق رکھتے ہوانہیں بخشا نہیں جائے گا۔ کوئی بھی ذمہ دار پایا گیا تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔اس بحث کے بعد تممبئی کی نظریں مانخورد شیواجی نگر میں غیر مجاز تعمیرات اور بدعنوان اہلکاروں کے تعلق سے حکومت کیا قدم اٹھاتی ہے اس پر مرکوز ہو گئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گنپتی مورتی بے حرمتی کیس میں ایف آئی آر درج، مجگاؤں میں حالات قابو میں، ڈی سی پی جینت مینا ہندو تنظیموں کے نشانے پر

Published

on

FIR

ممبئی کے مجگائوں علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب اونچی عمارت ٹاور سے گنپتی کے جلوس پر انڈے پھینکنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد یہاں حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس نے حالات کو قابو میں کرتے ہوئے جلوس گنپتی دوبارہ شروع کروایا۔ تفصیلات کے مطابق گنپتی جلوس مجگائوں علاقہ سے گزر رہا تھا کہ کسی نامعلوم شرپسند سماج دشمن عناصر نے گنپتی کی مورتی پر انڈے پھینک کر بے حرمتی کی کوشش کی جس کے بعد ہندو تنظیموں نے سڑک روک کر سراپا احتجاج شروع کر دیا۔ جائے وقوع پر پہنچ کر ڈی سی پی جینت مینا نے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تو اسی دوران انہیں بھی مجمع نے گھیر لیا لیکن اس کے باوجودڈی سی پی نے حوصلہ سے کام لیتے ہوئے حالات کو کنٹرول کر تے ہوئے امن قائم کیا, لیکن اب یہی ڈی سی پی جینت مینا ہندو تنظیموں کے ہٹ لسٹ پر آگئے ہیں انہیں ہندو تنظیموں کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہندو تنظیموں کو انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔

گنپتی کی مورتی کی بے حرمتی کے معاملے میں پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا بی این ایس کی دفعہ 299,196 کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ملزم کی شناخت ہوچکی ہے, پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی شناخت کی ہے۔ فی الوقت کشیدگی برقرار ہے لیکن امن قائم ہے۔ پولیس مجگائوں پر سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ممبئی شہر میں فرقہ وارانہ تشدد برپا کرنے کی سازش بھی فرقہ پرستوں کی جانب سے شروع ہوگئی ہے اور جلوس پر انڈے پھینکنے کے بعد ڈی سی پی کے رول پر بھی ہندوانتہا پسند تنظیمیں تنقیدیں کر رہی ہے۔ ڈی سی پی جینت مینا ہندو انتہا پسند تنظیموں رائٹ ونگ کے نشانے پر اگئے ہیں۔ فی الوقت ڈی سی پی نے بتایا کہ حالات پرامن ہے اور پولیس اس معاملہ میں ضروری کاروائی کر رہی ہے کہ آیا اس معاملہ میں مزید کون لوگ ملوث ہے اور اس کے پس پشت کیا سازش ہے اس کی بھی تفتیش پولیس کر رہی ہے گنپتی پر انڈے پھینکنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل بھی کماٹی پورہ میں گنپتی کی مورتی پر انڈا پھینکا گیا تھا اس قسم کا واقعہ کیوں رونما ہوتا ہے اس کی بھی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پولیس کارروائی پر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو اعتماد نہیں ہے اس لئے وہ ڈی سی پی کے خلاف ہی محاذ آرائی کر رہی ہیں۔ اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کسی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔ جبکہ ملزم کی تلاش جاری ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پروفیسر ڈاکٹر قاضی راشد انور مہاراشٹر آیوش ڈائریکٹوریٹ میں یونانی طب کے ایڈوائزر مقرر، انجمنِ اسلام کے صدرو اراکین کی جانب سے مبارکباد

Published

on

Dr.-Qazi-Rashid-Anwar

ممبئی : طبی میدان اور یونانی نظامِ علاج کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومتِ مہاراشٹر نے انجمنِ اسلام کے زیرِ انتظام چلنے والے ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا طبیہ یونانی میڈیکل کالج و حاجی اے۔ آر۔ کالسیکر طبیہ ہسپتال (ورسووا، ممبئی) کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) قاضی راشد انور صاحب کو ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومتِ مہاراشٹر میں مشیر برائے یونانی طب (ایڈوائزر، یونانی ایکسپرٹ) کے معزز عہدے پر نامزد کیا ہے۔ معزز وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن عالیجناب حسن مشرف صاحب نے اس تقرری کی باضابطہ توثیق کی اور ڈائریکٹر آف آیوش ڈاکٹر (ویدیا) رامن گھونگرالیکر صاحب نے دفتری حکم نامے کے اجراء پر پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی صاحب کی گلپوشی کر کے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

اس اہم اعزاز پر برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے انجمنِ اسلام کے صدر پدم شری جناب ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی صاحب، نائب صدر جناب مشتاق انتولے صاحب، جنرل سکریٹری جناب عقیل حفیظ صاحب اور دیگر اراکین انجمن نیز کالج ھذا كے چیرمین عمران فرنیچر والا نے پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی نئی ذمہ داری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اربابِ انجمن نے کہا کہ یہ تقرری نہ صرف ادارے کے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے بلکہ ریاست میں یونانی طب کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں اس وقت ۳ سرکاری امداد یافتہ (ایڈیڈ) کالجوں سمیت کل سات یونانی میڈیکل کالجز تعلیم و علاج کی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس وسیع تر نیٹ ورک کے باوجود، ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومت مہاراشٹر میں یونانی طریقۂ علاج کا کوئی ماہر یا باقاعدہ افسر موجود نہیں تھا، جس کے باعث پالیسی سازی اور تکنیکی رہنمائی میں ایک دیرینہ خلا محسوس کیا جا رہا تھا۔ علاوہ ازیں حکومتِ مہاراشٹر نے حال ہی میں موضع ساور، تعلقہ مہسلہ (ضلع رائے گڑھ) میں ۱۰۰ نشستوں پر مشتمل پہلے سرکاری یونانی میڈیکل کالج اور ۱۰۰ بیڈز والے ہسپتال کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کی تعلیمی اور تکنیکی تشکیل کے لیے ایک مستند ماہر کی رہنمائی ناگزیر تھی۔ لحاظ اس صورت حال میں حكومت مہاراشٹر كے اس أقدام كو طبی برادری میں بہت قدر و امید كی نگاہ سے دیکھا جا رہا هے

انجمنِ اسلام کے صدر محترم و اراکین نے امید ظاہر کی ہے کہ پروفیسر راشد قاضی کے وسیع تدریسی، اور انتظامی تجربات سے نئے سرکاری کالج کے منصوبے سمیت ریاست بھر میں یونانی طب کو ایک نیا وقار اور نئی جہت ملے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کریلا قریش نگر میں کرین گرنے سے 10 افراد زخمی، بی ایم سی کی امدادی کارروائیاں جاری، زخمیوں کی حالت مستحکم

Published

on

ممبئی : کرلا قریش نگر میں اس وقت کہرام مچ گیا جب یہاں ایک مخدوش پرانی عمارت کی مسماری کے دوران کرین سائٹ پر گر گیا جس کے سبب ۱۰ افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سائن، کرلا بھابھا اسپتال میں داخل کیا گیا۔ سائن اسپتال کے اے ایم او ڈاکٹر نوین کے مطابق، آٹھ زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ان میں جگراللہ نبی خان 63، احمد نیاز احمد 3 ماہ، عتیق الرحمان 60، حاکم شیخ 36، نعمان خان 21، ریحام خان 19، سورج گور 10، اکبر 40، تمام آٹھ زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ کرلا بھابھا اسپتال میں دو زخمیوں کو داخل کرایا گیا۔ اسپتال کے اے ایم او ڈاکٹر شیتل کے مطابق، ان کی شناخت راجو گاڑ 35، آرتی گاؤڈ 30، حکام کے مطابق دونوں متاثرین زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

مسماری کے کام کے دوران استعمال ہونے والی کرین ایم ایم آر ڈی اے نے اس واقعہ کے بارے میں ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا، بلڈنگ نمبر 1، بھنڈاری میٹلرجی، کرلا میں انہدام کا کام کیا جا رہا تھا۔ کام کے لیے ایک کرین کو جائے وقوع پر لایا گیا تھا، تاہم، کرین آپریشن شروع نہیں ہوا تھا۔ جب کرین کو سائٹ پر رکھا جا رہا تھا، وہ جھک کر ملحقہ ڈھانچے کی طرف جا گری۔ مقام پر زمین نرم تھی، جس سے کرین کے استحکام کو متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے اس واقعے میں کچھ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ایم ایم آر ڈی اے زخمیوں کو تمام ضروری طبی امداد اور مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ایم ایم آرڈی اے نے فوری طور پر مطلوبہ مشینری اور افرادی قوت کو متحرک کیا، اور گرنے والی کرین کو ہٹانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ جگہ کو محفوظ بنا لیا گیا ہے اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں مسماری کا کام میسرز سنی کمپنی کر رہی تھی۔ آپریشن کے دوران ہائیڈرولک کرین کا ایک حصہ ہائی ٹینشن ریلوے اوور ہیڈ تاروں پر گر گیا۔

قریشی نگر کی کچی آبادی کرین گرنے سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، گرنے والے سامان نے قریشی نگر میں قریبی جھونپڑیوں، سمراٹ اشوک نگر کی سڑک، مہاڈا کی عمارت کی دیوار اور مہاڈا عمارت کے احاطے کے اندر کھڑی تین سے چار چار پہیہ گاڑیوں کو بھی متاثر کیا۔ اس سے قبل، حکام نے کہا تھا کہ یہ واقعہ اس جگہ پر مجوزہ بے دخلی اور مسمار کرنے کی کارروائی کے سلسلے میں کیے جانے والے کام کے دوران پیش آیا۔ بحالی کا کام جاری ہے۔جائے وقوعہ پر بحالی اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اہلکار یہ معلوم کرنے کے لیے بھی معلومات جمع کر رہے ہیں کہ آیا جائے وقوع پر کوئی اور بھی پھنسا ہوا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان