Connect with us
Wednesday,23-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی نالے صفائی میں خامیاں و تساہلی پر ٹھیکیداروں کو جرمانہ، ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے سخت کارروائی

Published

on

Mayor

ممبئی میونسپل کارپوریشن نے نالے کی صفائی کے کام میں مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے پائی جانے والی خامیوں اور ٹینڈر کی شرائط و ضوابط کے مطابق مشینری کی تعیناتی میں تاخیر کے لیے ٹھیکیداروں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ متعلقہ ٹھیکیداروں پر 9 کروڑ 25 لاکھ 72 ہزار 830 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ جرمانے کی یہ رقم ٹھیکیدار کے بلوں سے وصول کی جارہی ہے۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی ہدایت کے مطابق سیوریج ڈپارٹمنٹ نے یہ کارروائی کی ہے۔ہر سال، ممبئی میں بارش شروع ہونے سے پہلے، میونسپل کارپوریشن کا سیوریج ڈیپارٹمنٹ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں میٹھی ندی اور بڑے نالوں سے کیچڑ ہٹاتا ہے۔ جبکہ وارڈ کی سطح پر چھوٹے نالوں سے کیچڑ ہٹانے کا کام کیا جاتا ہے۔ قدرتی نالیاں، برساتی نالے، زیر زمین نالے، چیمبرز اور پلوں کو کھول کر صاف کیا جاتا ہےنالوں سے کچرا ہٹانے سے بارش کے پانی کی تیزی سے نکاسی میں مدد ملتی ہے۔ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں بارش کے تجربے اور بارش کی شدت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، نالیوں سے کتنا کیچڑ نکالنے کی ضرورت ہے اس کا مطالعہ کرکےکیچڑہٹانے کے ہدف کا تعین کیا جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں نالوں سے کیچڑ ہٹانے کا کام تیزی سے شروع کر دیا گیا۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے نظام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈرین کی صفائی کے ان کاموں کی موثر نگرانی کرے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کیچڑ ہٹانے کے کاموں کو صحیح طریقے سے انجام دیا جائے اور اس کی نگرانی کی جائے، میونسپل ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ سال سے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظام تیار کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے نالوں کی صفائی کے کام کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کے مطابق ان کاموں کے لیے فوٹو گرافی کے ساتھ 30 سیکنڈ کی فلم بندی (ویڈیو) کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ چھوٹے نالوں سے کیچڑ ہٹانے سے پہلے اور بعد میں سی سی ٹی وی کے ذریعے فلم و ویڈیوبنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ میونسپل ایڈمنسٹریشن آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹم کی مدد سے کیچڑہٹانے کے حوالے سے موصول ہونے والی تمام ویڈیوز کا تجزیہ کر رہی ہے۔ اس سے انتظامیہ کو نالیوں میں کچرا ہٹانے کے کاموں کی درست طریقے سے نگرانی کرنے اور کاموں میں مکمل شفافیت برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔مصنوعی ذہانت کے نظام کو نافذ کرتے ہوئے، اے آئی سسٹم اپ لوڈ کی گئی تمام تصاویر اور ویڈیوز کو اسکرین کرتا ہے۔ یہ ان میں خرابیوں کا بھی پتہ لگاتا ہے۔ ان خرابیوں خامیوں کا پتہ لگانے کے لیے معیار مقرر کیا گیا ہے۔ جب گاڑی وزنی برج پر وزن کرنے کے لیے پہنچتی ہے، چاہے ترپال کو ہٹایا جا رہا ہو یا نہ ہو (ٹرپولن کا پتہ لگانا)، اسی تصویر کا دوبارہ استعمال یا تصاویر میں عدم مطابقت (تصویر گھوسٹنگ)، کیچڑ کو ٹھکانے لگانے کے دوران گاڑی سے اڑنے والی دھول کی مقدار کا مشاہدہ (ڈسٹ انسپیکشن)، تصویر کی دستیابی (ضروری دستیابی)، تصویر کی عدم دستیابی (دستی معائنہ)، کیچڑ اتارنے کے کاموں کی ویڈیوز کو اپ لوڈ نہ کرنا (ان لوڈنگ ویڈیو دستیاب نہیں) اور رجسٹرڈ گاڑیوں یا ورک کوڈ کے درمیان تضادات اور اصل کام کی تفصیلات (وہیکل / ورک کوڈ کی مماثلت) کا ان اہم پہلوؤں کے مطابق پتہ چلا ہے۔ اس کے علاوہ نالے کی صفائی کے کام میں مختلف قسم کی خرابیاں پائی گئی ہیں جیسے کہ ضروری پلانٹس، مشینری اور گاڑیوں کی ناکافی دستیابی، افرادی قوت کی کمی، ڈرین کی صفائی کا کام کرنے والے کارکنوں کو حفاظتی آلات کی عدم فراہمی، جمع کیچڑ کو مقررہ طریقے سے پراسیس نہ کرنا اور مقررہ وقت پر سست روی سے کام نہ کرنا۔

اے آئی پر مبنی معائنہ، ڈیجیٹل ثبوتوں کی تصدیق اور فزیکل سائٹ انسپکشن کی وجہ سے کام میں غلطیاں بروقت سامنے آئیں اور متعلقہ ٹھیکیداروں پر مالی ذمہ داری مقرر کی گئی ہے۔ جرمانے کی رقم کام میں خرابی کے حساب سے مقرر کی گئی ہے اور ٹھیکیداروں سے واجب الادا رقم سے جرمانے کی رقم وصول کی جارہی ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس)ابھیجیت بنگر نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ نالے کی صفائی کے کام میں معیار اور شفافیت کے بارے میں بہت اصرار ہے۔ نالے کی صفائی کے کام میں دانستہ یا نادانستہ کوئی بھی غلطی ناقابل معافی ہے۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کی زیرو ٹالرینس کی پالیسی برقرار ہے۔ ایک طرف ڈرین کی صفائی کے کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئی ہیں اور کیے گئے کام کے معیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کی جانب سے رہ جانے والی غلطیوں کو تلاش کرکے تعزیری کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مجموعی طور پر نالے کی صفائی کے کام میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر مستقبل میں کوئی خرابی پائی گئی تو میونسپل کارپوریشن انتظامیہ سخت موقف اختیار کرے گی ابھیجیت بنگر نے کہا کہاے آئی پر مبنی نگرانی اور سائٹ پر معائنہ کرنے والے دونوں نظاموں نے نالیوں کی صفائی کے کام میں خرابیوں کو مؤثر طریقے سے بے نقاب کیا ہے۔ خاص طور پر سائٹ کا معائنہ نہ کرنا اور ویڈیوز کا اپ لوڈ نہ کرنا تعزیری کارروائی کی بنیادی وجوہات تھیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان