Connect with us
Wednesday,23-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

میرا روڈ نیانگر میں دو محافظوں پر قاتلانہ حملہ یا لون وولف اٹیک، کریٹ سومیا نے لگایا نیا نگر جہاد کا الزام

Published

on

ممبئی : میراروڈ نیانگر پولس اسٹیشن کی حدود میں علی الصبح چار بجے سیکورٹی گارڈ پر قاتلانہ حملہ کے بعد اب اس حملہ کو جہاد کی شکل دینے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔ پولس نے اس معاملہ میں زیب زبیر انصاری ۳۱ سالہ کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی ہے جب ملزم کو زیر حراست لیا گیا تو سنسنی خیز خلاصہ ہوا اور اس کی شدت پسند تنظیموں کے رابطہ سے متعلق بھی اب پولس نے جانچ شروع کردی ہے چونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اس لیے اقدام قتل کے کیس کومہاراشٹر انسداددہشتگردی دستہ اے ٹی ایس کے سپرد کردیا گیا ہے اس معاملہ میں دہشت گردی کنکشن سے متعلق بھی اب اے ٹی ایس تفتیش کرے گی جنونی نوجوان نے پہلے ایک محافظ پر حملہ کیا پھر دوسرے کو بھی حملہ میں شدید طور سے زخمی کردیا جس سے میرا روڈ میں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اس معاملہ کے بعد اب اس کو بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے نیا نگر جہاد قرار دے کر کہا ہے کہ ایک مسلم نوجوان نے دو ہندوؤں پر صرف اس لئے حملہ کیا کیونکہ وہ کلمہ پڑھنے سے منکر تھے۔ ۲۷ اپریل کو صبح 4.00 بجے تقریباً 30 سال سالہ نامعلوم نوجوان اسمیتا گرینڈ میسن بلڈنگ میں آیا۔ اس نے ڈیوٹی پر موجود چوکیدار مسٹر سبروتو سین (عمر 31 سال) سے مسجد سے متعلق دریافت کیا بعد ازاں اس کے ہندو ہونے پر اعتراض کیا اور اس کے بعد اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ متاثرہ شخص نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ملزم نے اس کا تعاقب کیا اور ایک اور چوکیدار راج کمار مشرا سے کو اس نے نشانہ بنایا جس احساس ہوا کہ راج کمار مشرا سین کی کیبن میں ہے اس پر وحشیانہ حملہ کیا۔ پیٹ کے بائیں جانب چاقو سے حملہ کیا۔ واقعہ کے بعد متاثرہ سبروتو سین کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پولیس اسٹیشن لایا گیا اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ راج کمار مشرا کو ووکارڈ ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس کی سرجری کی گئی۔
نیا نگر کے سینئر پولیس انسپکٹر اور ان کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی، سی سی ٹی وی فوٹیج کو ٹریس کیا اور ملزم کے گھر پہنچی۔ ملزم زیب زبیر انصاری، عمر 31، فلیٹ اے 304، اسمیتا ریجنسی، نیا نگر میں پایا گیا۔ جائے حادثہ کاُمقام 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسے حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم زیب انصاری فلیٹ میں تنہا مقیم رہائش پذیر ہے۔ اس کے والدین امریکہ میں ہیں۔ وہ 2000 سے 2020 تک اپنے والدین کے ساتھ امریکہ میں مقیم رہا۔ اس نے امریکہ سے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے۔ ورک پرمٹ ختم ہونے کی وجہ سے اسے ہندوستان واپس لوٹا۔ وہ کرلا، واشی میں کچھ مہینے مقیم تھا اور 2022 میں نیا نگر میں سکونت اختیار کی ۔ اس کی پیدائش کرلا میں ہی ہوئی تھی۔ اس کے والد امریکہ میں ڈرائیور ہیں۔ وہ 2020 میں اپنی فیملی کو ساتھ لے کر آیا تھاان کے فلیٹ میں قرآن کے 3 نسخے ہیں۔ میز پر لیپ ٹاپ کے قریب ایک نوٹ برآمد ہوا ہے۔ اس میں ‘لون وولف’ حملوں اور اسلامک اسٹیٹ کا ذکر ہے۔ وہاں 2 فون بھی ملے ہیں۔ ابتدائی طور پر، یہ ایک بنیاد پرست نوجوان کا ‘لون ولف’ حملہ لگتا ہے۔ آئی ایس آئی ایس اور اس جیسی تنظیموں کے روابط اور ملوث ہونے کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہے اسکے فلیٹ کو سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے اور ڈیجیٹل فارنسک سمیت تمام شواہد کو صحیح طریقے سے جمع کر لئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی عمارت پر سخت سیکورٹی تعینات کر دی گئی ہے تاکہ نظم و نسق برقرار رہے اور امن وامان کے قائم کےلیے پولس کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان