Connect with us
Monday,22-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

میونسپل کارپوریشن کا 34 جائیدادوں کی ای نیلامی کے لیے طویل مدتی نوٹس جاری،34 پراپرٹی مالکان کا پراپرٹی ٹیکس نادہندہ 5,486,982,487 روپے ہے

Published

on

ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس کے بڑے نادہندگان کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ضبطی اور نیلامی کی کارروائی شروع کردی ہے۔ اس مہم کے تحت میونسپل کارپوریشن کے ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے کل 34 جائیدادوں کو ای نیلامی کے عمل کے تحت طویل مدتی نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس میں خالی پلاٹ، تجارتی عمارتیں، ہوٹل اور مخلوط استعمال کی جائیدادیں شامل ہیں۔ ان 34 نادہندگان کے پاس جرمانے سمیت 548 کروڑ 69 لاکھ 82 ہزار 487 روپے کے مجموعی بقایا جات ہیں۔ ان میں سے 11 جائیدادوں کی براہ راست نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جن کی طویل مدتی نوٹس کی مدت ختم ہو چکی ہے اور دلچسپی رکھنے والے خریداروں سے بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ نیلامی کا عمل شروع ہوتے ہی 5 پراپرٹی مالکان نے 10 کروڑ 45 لاکھ روپے کے بقایا جات ادا کر دیے ہیں۔
دریں اثناء ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی نے وضاحت کی ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں نادہندہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
میونسپل کمشنر مسٹر بھوشن گگرانی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی اور جوائنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) وشواس شنکروارکی رہنمائی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں جائیداد کے مالکان سے پراپرٹی ٹیکس کی مؤثر طریقے سے وصولی کے لیے وسیع اور منصوبہ بند کوششیں جاری ہیں۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے ٹیکس دہندگان سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں بقایا جات کی ادائیگی کریں اور جرمانہ اور قانونی کارروائی سے گریز کریں۔ تاہم، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اب جائیداد کے مالکان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے جو مسلسل نوٹس اور پیروی کے باوجود جان بوجھ کر ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ضبطی اور اٹیچمنٹ کے ایسے بقایا جات کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی گئی ہے۔ ٹیکس ریکوری کے حوالے سے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے پراپرٹی کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ممبئی میونسپل کارپوریشن پراپرٹی ٹیکس کے نادہندگان اور مالی صلاحیت کے باوجود پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے سے قاصر افراد کو دفعہ 203 کے تحت ضبطی نوٹس جاری کر رہی ہے۔ اگر مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا ہے، تو ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعات کے مطابق متعلقہ جائیداد کو سیکشن 203، 204، 205، 206 کے تحت ضبط کرکے نیلام کیا جائے گا۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر متعلقہ جائیداد سے متوقع ٹیکس کی وصولی نہ کی گئی تو پٹیشن نمبر 2592/2013 میں معزز ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق جائیداد نیلام کی جائے گی۔اس تناظر میں، نئے ترمیم شدہ ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کے سیکشن 206 (2) کے تحت برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے تمام 26 انتظامی ڈویژنوں کے نادہندگان کی جائیدادوں پر نیلامی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ جائیدادیں عوامی ای نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائیں گی۔
سی سیکشن میں، میسرز کے نام پر ایک ملی جلی جائیداد ہے۔ منوچر مانیکشا گاندھی اور وی ایچ ڈی۔ شاہ (2 کروڑ 24 لاکھ 43 ہزار 922 روپے کی بقایا رقم)، ایف ساؤتھ سیکشن، شری کے نام پر ایک پلاٹ۔ لامن رگھوناتھ شیٹی (بقیہ رقم 89 لاکھ 15 ہزار 988 روپے)، ایچ ویسٹ سیکشن، شری کے نام پر ایک تجارتی جائیداد۔ بھیکا بھائی این اپادھیائے اور شری رام جے بھٹ (18 کروڑ 88 لاکھ 13 ہزار 376 روپے کی بقایا رقم)، پی نارتھ سیکشن، شری کے نام پر ایک پلاٹ۔ بچو بھائی ڈبلیو ڈی شا اینڈ کمپنی کے نام پر کمرشل شیڈ (بقیہ رقم 3 کروڑ 23 لاکھ 3 ہزار 938 روپے)، پی ساؤتھ زون میں میسرز امیر پارک اینڈ امیوزمنٹ پارک کے نام پر ہوٹل (بقیہ رقم 34 کروڑ 55 لاکھ 65 ہزار 499 روپے)، آئل مل اور مل کے گودام میں زیڈوینٹ کی رقم۔ 01 کروڑ 41 لاکھ 91 ہزار 080، آر نارتھ زون میں میسرز وکائلال انویسٹمنٹ کے نام پر پلاٹ (بقیہ رقم 02 کروڑ 41 لاکھ 79 ہزار 329 روپے)، ڈی زون میں سردار سیدنا طاہر سیف الدین صاحب کے نام پر ہسپتال (بقایا رقم 21 کروڑ 26 لاکھ روپے)، سردار کی جائیداد 03 لاکھ 26 ہزار روپے ڈی سیکشن میں سیدنا طاہر سیف الدین صاحب (بقایا رقم 13 کروڑ 47 لاکھ 86 ہزار 245 روپے)، ایچ ویسٹ سیکشن میں میسرز سمر ایسوسی ایٹس کے نام پر خالی پلاٹ (بقایا رقم 188 کروڑ 46 لاکھ 247 روپے)، میسرز راجہانس ایسوسی ایٹس کے نام پر کمرشل پراپرٹی (بقایا سیکشن میں 7 کروڑ 90 لاکھ روپے) 687 روپے)، آر ساؤتھ سیکشن میں جیون شردھا کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر خالی پلاٹ (بقایا رقم 64 لاکھ 29 ہزار 461 روپے) اور ای سیکشن پرائیویٹ لمیٹڈ میں میسرز سمر بلٹ کارپوریشن (بقیہ رقم 85 کروڑ 38 لاکھ 78 ہزار 185 روپے) وغیرہ۔
ان تمام نادہندگان کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے 21 دن کا طویل نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اگر اس مدت کے اندر ٹیکس ادا نہ کیا گیا تو مقررہ طریقہ کار کے مطابق نیلامی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان