ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی بی ایم سی پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنے والے بڑے نادہندگان کو جائیداد ضبطی کا نوٹس, ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی کی وارننگ
ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سیکشن 203 کے تحت ان بڑے نادہندگان کو ضبطی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے جو مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں ہیں اور جو مالیاتی صلاحیت کے باوجود پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔ اگر مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا ہے، ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے دفعات کے مطابق، مذکورہ جائیداد کو پہلے دفعہ 204، 205، 206 کے تحت ضبط کرکے نیلام کیا جائے گا۔ اگر اس سے بھی ٹیکس وصول نہ کیا گیا تو سیکشن 206 کے تحت جائیداد نیلام کی جائے گی، نوٹس میں واضح کیا گیا ہے۔
پراپرٹی ٹیکس میونسپل کارپوریشن کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ پراپرٹی ٹیکس پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کی وصولی کے 90 دنوں کے اندر میونسپل کارپوریشن کے پاس جمع کرانا ضروری ہے۔ اگر اس مدت کے دوران ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تو میونسپل کارپوریشن مرحلہ وار کارروائی شروع کرتی ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران براہ راست رابطہ اور رابطہ کرکے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کے لیے فالو اپ کرتے ہیں۔ اگر پراپرٹی ٹیکس اب بھی ادا نہیں کیا جاتا ہے تو ایک ‘ڈیمانڈ لیٹر’ بھیجا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں پراپرٹی ہولڈر کو 21 دن کا حتمی نوٹس دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نادہندگان کی جائیداد ضبط کرنے، نیلامی وغیرہ جیسی کارروائی کی جاتی ہے۔ممبئی شہر اور مضافات میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے میونسپل کمشنربھوشن گگرانی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی کی قیادت میں اور جوائنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) شری کی رہنمائی میں وشواس شنکروار، ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے لیے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام میں آگاہی اور اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ شہریوں کو ٹیکس کی ادائیگی میں تکلیف سے بچنے کے لیے آن لائن سہولت دستیاب ہے۔ اس سلسلے میں معلومات میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ https://www.mcgm.gov.in پر دستیاب ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی نے اپیل کی ہے کہ ٹیکس دہندگان میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کو آن لائن ٹیکس کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں تاہم، چونکہ کچھ بڑے بقایا جات ابھی تک ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں اور انہیں وقتاً فوقتاً آگاہ کرنے کے باوجود مناسب جواب نہیں مل رہا ہے، اس لیے ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے ضبطی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ اس میں جرمانے کی رقم کے ساتھ بقایا جات بھی شامل ہیں۔ نیلامی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعات کے مطابق کی جائے گی۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر جوشی نے جن جائیداد کے مالکان کو نوٹس موصول ہوئے ہیں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ کارروائی سے بچنے کے لیے فوری طور پر ٹیکس ادا کریں۔
*’ٹاپ 20′ پراپرٹی مالکان کی فہرست جن کا 13 فروری 2026 کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے فالو اپ کیا گیا-
1) مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ویسٹ ڈویژن) – روپے۔ 63 کروڑ 21 لاکھ 40 ہزار 591 روپے
2) میسرز راجہانس ایسوسی ایٹس (ایس ڈویژن) – روپے۔ 46 کروڑ 05 لاکھ 27 ہزار 065 روپے
3) میسرز ویمل ایسوسی ایٹس (کے ایسٹ ڈویژن) – روپے۔ 39 کروڑ 09 لاکھ 85 ہزار 085 روپے
4) نیشنل انڈسٹریل کارپوریشن (ایس ڈویژن) – روپے۔ 10 کروڑ 36 لاکھ 81 ہزار 048 روپے
5) نیشنل انڈسٹریل کارپوریشن (ایس ڈویژن) – روپے۔ 10 کروڑ 20 لاکھ 78 ہزار 589 روپے
6) یشونت این جادھو ایس ایس وی ریئلٹرز (این سیکشن) – 9.94 کروڑ 70 ہزار 145 روپے
7) امبیکا سلک ملز (جی ساؤتھ سیکشن) – 9.64 کروڑ 90 ہزار 982 روپے
8) مہاراشٹر حکومت کے قبضہ کار سشیل کمار سمبھاجی شندے پرتشتھان (ایچ ایسٹ سیکشن) – 8.79 کروڑ 29 ہزار 948 روپے
9) دی وکٹوریہ ملز لمیٹڈ، پلازہ پنچشیل ملز (ڈی سیکشن) – 8.76 کروڑ 68 ہزار 006 روپے
10) نیشنل انڈسٹریل کارپوریشن (ایس سیکشن) – 8.08 کروڑ 70 ہزار 328 روپے
11) محمد یوسف خان (ایل سیکشن) – 7.64 کروڑ 89 ہزار 036 روپے
12) اے ایچ واڈیا ٹرسٹ اسکائی لنک ڈویلپرز (ایچ ایسٹ سیکشن) – 7.56 کروڑ 78 ہزار 272 روپے
13) مہرنیسہ محمد صاحب خطیب (بی ڈویژن) – 7 کروڑ 33 لاکھ 80 ہزار 711 روپے
14) دی نیو سن میل کام لمیٹڈ شبھم فیبرک (جی ساؤتھ ڈویژن) – 7 کروڑ 19 لاکھ 30 ہزار 047 روپے
15) جئے ماتا دی کنسٹرکشن (ایم ویسٹ ڈویژن) – 5 کروڑ 79 لاکھ 35 ہزار 563 روپے
16) ٹرانسکون ٹرائمف فیز 2 پرائیویٹ لمیٹڈ (کے ویسٹ ڈویژن) – 5 کروڑ 78 لاکھ 10 ہزار 552 روپے
17) ٹرانسکون ٹرائمف فیز 2 پرائیویٹ لمیٹڈ (کے ویسٹ ڈویژن) – 5 کروڑ 56 لاکھ 55 ہزار 897 روپے
18) نیشنل انڈسٹریل کارپوریشن (ایس ڈویژن) – 5 کروڑ 35 لاکھ 18 ہزار 138 روپے
19) ایلکو آرکیڈ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ڈی ونگ (ایچ ویسٹ ڈویژن) – 4 کروڑ 81 لاکھ 12 ہزار 046 روپے
20) گولڈن رائل ٹاکیز (ڈی سیکشن) – روپے۔ 4 کروڑ 22 لاکھ 67 ہزار 415 روپے
ممبئی پریس خصوصی خبر
غیر شفاف طریقہ کار اور ساتھی کمشنروں کی آراء کو نظر انداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جواب دہی طے کی جائے : پروف۔ سلیم انجینئر

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے دو دیگر الیکشن کمشنروں کی شمولیت کے بغیر ہی اہم فیصلے لیے جانے کی اطلاعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات نے اس اہم آئینی ادارے کی آزادی، شفافیت اور کارکردگی پرسنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹروں کے اندراج، ناموں کے اخراج اور بحالی، ووٹر ڈیٹابیس، فارم 6 اور اسپیشل سمری ریویژن سے متعلق اہم معاملات پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات اٹھائے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اہم فیصلوں سے انہیں الگ رکھا گیا۔ یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1995 میں ٹی این سیشن معاملے میں اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور چیف الیکشن کمشنر دیگر کمشنروں کے مابین مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس طرح کا طرز عمل نہیں اختیار کرسکتے کہ جیسے الیکشن کمیشن ان کا ذاتی ادارہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو آزادانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ان فیصلوں سے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر لسٹ سے خارج کئے جاچکے ہیں۔ لاکھوں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ایس آئی آر کا طریقۂ کار نہایت پیچیدہ ہے اور اس میں ایسے دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں جو بہت سے شہریوں کے پاس موجود نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے ذریعے تقریباً 27 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر دئے گئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 16.1 لاکھ ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے اپیلیں دائر کی گئیں جن کے نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے کے لیے کلیئر ہوچکے تھے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ فارم 6 کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ فارم 6 ان شہریوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جن کی عمر 18 سال مکمل ہوچکی ہو اور جو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانا چاہتے ہوں۔ الیکشن کمیشن نے درخواست دہندگان کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنے والدین یا دادا دادی۔ نانا نانی کے نام اس طرح فراہم کریں جیسے وہ گزشتہ ایس آئی آر کی انتخابی فہرست میں درج تھے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو، دونوں نے خبردار کیا تھا کہ قواعد میں ترمیم کئے بغیر فارم 6 میں اس طرح کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے یہ تبدیلی برقرار رکھی۔ اگر ووٹ دینے کے حق کو متاثر کرنے والے قانون میں ترمیم ضروری ہے تو بھی الیکشن کمیشن خود سے اس طرح کی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر وہ قانونی طور پر مجاز افسر ہے جو انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اندراج، اخراج اور تصحیح کے ذمہ دار ہے۔ تاہم دونوں الیکشن کمشنروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ای سی آئی نیٹ ڈیٹابیس کو الیکشن کمیشن میں منتقل کیا جارہا تھا جبکہ ان افسران کو اسے چلانے کے لیے مناسب رسائی نہیں دی جارہی تھی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے اسپیشل سمری ریویژن (ایس یس آر) میں غیر معمولی تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس آر انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ رکھنے اور ووٹ کے اہل 18 سالہ نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا ایک اہم سالانہ عمل ہے۔ یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر، ان چارتاریخوں میں نوجوان شہری سال کے مختلف اوقات میں ووٹ دینے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے جنوری 2024 کے بعد سے سالانہ ایس ایس آر نہیں کرایا ہے یہ تاخیر صورت حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے دوران یہ جاننے کے لیے قانونی رائے طلب کی کہ آیا ایس ایس آرکرانا ضروری ہے، جبکہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اس کی بحالی کی پُر زور وکالت کی تھی۔ ایس ایس آر محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہے بلکہ انتخابی فہرستوں کو تازہ ترین اور درست رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے ووٹر بننا آسان بنایا جائے، مشکل نہیں۔ ووٹ دینے کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب شہری غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراسکیں۔ الیکشن کمیشن ملک کے آئین اور عوام کا ادارہ ہے، کسی ایک عہدے دار کا ذاتی ادارہ نہیں ہے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے۔ اس کے ذمہ دار عہدے داروں کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ قصوروار پائے جائیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ووٹر لسٹ کا تحفظ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد کا تحفظ ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی پراپرٹی سیل اور کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک کیس میں مزید چار گرفتار

ممبئی : مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی ) نے 22 مارچ 2026 کو ڈرگ انسپکٹر، گروپ بی، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کیڈر کی 154 آسامیوں کے لیے مہاراشٹر کے چھ امتحانی مراکز میں اسکریننگ ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔ کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج تھااس کے تحت امتحانی سوالیہ پرچہ کی رازداری کی خلاف ورزی اور مالی فائدے کے لیے سوال سیٹ کے غیر مجاز لیک ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔ تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر غیر قانونی طریقوں سے سوالیہ پرچہ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو دو درمیانی افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ماہرین کے ذریعہ منتخب کردہ سوالات کے سیٹوں کی کاپیاں ایم پی ایس سی کے خفیہ کمرے میں تیار کی گئیں اور پھر مالی فائدہ کے لیے غیر قانونی طور پر لیک کی گئیں۔ اس سے پہلے، انڈر سکریٹری ابھیجیت لینڈوے، اسسٹنٹ روم آفیسر وشویشور نکٹے، اسسٹنٹ روم آفیسر گوپال مراٹھے، کوٹیلیہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروین پاٹل، درمیانی امرت پاٹل، لوکیش عرف گورو پاٹل، اور امیدوار ریتوجا پاٹل کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید تفتیش کے نتیجے میں امیدواروں ساجد سانڈھے (سانگلی) اور وجے کنگر (بلڈھانہ) کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے غیر قانونی طریقوں سے سوالات کے سیٹ حاصل کیے، اور سندیپ خلتے اور بھیروناتھ کدم (نوی ممبئی) جنہوں نے ثالث کے طور پر کام کیا، کو پراپرٹی سیل، کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 22 ستمبر، 2026 کو گرفتار کیا۔اس کارروائی کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کمبھارے، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) کرشناکانت اپادھیائے اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈٹیکشن راج تلک روشن کی رہنمائی میں کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سدانند رانے اور انچارج پولس انسپکٹر منگیش دیسائی نے تحقیقات کی قیادت کی اور برانچ کے پولیس افسران نے تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔
منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
