ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گڈچرولی پولس اور ماؤنوازوں میں خونی تصادم, تین خواتین اور چار ماؤنواز مرد ہلاک، ماؤنوازوں کے خلاف پولس کا کامیاب آپریشن
ممبئی : گڈچرولی اور سیکورٹی فورسیز میں خونی تصادم میں 7 خوانخوار نکسلیوں کو سیکورٹی فورسیز نے انکاؤنٹر میں ہلاک کیا ہے اس انکاؤنٹر میں خطرناک اور خوانخوار ماؤنواز پربھاکر کامریڈی تلنگانہ کا بھی قلع قمع کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈویژنل کمیٹی انچارج، ویسٹ سب زونل بیورو انچارج اور کمپنی نمبر گڈچرولی پولیس فورس نے 01 سی وائی پی سی/کمانڈر، 01 پی پی سی ایم، 02 اے سی ایم رینک کے سینئر ماؤنوازوں کے ساتھ 02 ممبر رینک کے ماؤنوازوں کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ مہاراشٹر حکومت نے مشترکہ طور پر ان پر 71 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔
تصادم کے دوران اسپیشل آپریشن ٹیم کا ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی
تین دن اور تین راتوں تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران، 03 اے کے-47 رائفلز، 01 ایس ایل آر اور 01.303 رائفلوں سمیت 05 آتشیں اسلحے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں گولہ بارود اور ماؤنواز مواد بھی ضبط کیا گیا۔جب کہ گڈچرولی ضلع میں ماؤ نواز تحریک اب صرف ابوجھماد کے بھامرا گڑھ تعلقہ کے سرحدی علاقوں تک محدود ہے، 03 فروری 2026 کو، خفیہ ذرائع سے موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کہ کمپنی نمبر 10 کے باقی ماندہ ماؤ نواز اور چھتیس گڑھ ریاست میں نامعلوم مقامات سے ماؤنوازوں نے جمع ہوئے ہیں اور سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ سرحدی علاقے کے جنگلاتی علاقے میں جانی نقصان کا سبب بنتے ہوئے سب ڈویژنل پولیس افسر بھامراگڑ کی قیادت میں گڈچرولی پولیس فورس کی اسپیشل آپریشن ٹیم کی 14 ٹیمیں امر موہیتے، سینئرز کی رہنمائی میں، 03 فروری 2025 کی رات کو مذکورہ جنگلاتی علاقے میں ماؤنواز مخالف آپریشن کرنے کے لیے فوری طور پر روانہ کیا گیا تھا۔ انتہائی دور دراز اور دشوار گزار علاقے کا سامنا کرتے ہوئے، پولیس ٹیم بڑی ہمت کے ساتھ مذکورہ جنگلاتی علاقے میں داخل ہوئی تھی۔
اس وقت، 04 فروری 2026 کو،جب پولیس کی ٹیمیں مذکورہ جنگلاتی علاقے میں تلاشی مہم چلا رہی تھیں، جنگل میں انتظار میں بیٹھے ہوئے ماؤنوازوں نے جوانوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس وقت جوانوں نے جوابی کارروائی اور اپنے دفاع میں ماؤنوازوں پر گولی چلائی۔ کچھ دیر تک جاری رہنے والے انکاؤنٹر کے دوران، پولیس ٹیموں نے ماؤنوازوں کے 02 کیمپوں کو تباہ کر دیا اور جائے وقوعہ سے بڑی مقدار میں ماؤنواز مواد ضبط کر لیا۔ تاہم مخالف علاقے اور گھنے جنگل کی وجہ سے ماؤنوازوں کی تلاش نہیں کی جاسکی۔ اس کے بعد 05 فروری 2026 کو آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسپیشل آپریشن ٹیم کی 04 اضافی ٹیمیں اور سی آر پی ایف ۔کیو اے ٹی کی 01 ٹیم کو بھی آپریشن میں حصہ لینے کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس دوران، جب کہ ماؤنوازوں اور پولیس کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں، 05 فروری 2026 کو ہونے والے انکاؤنٹر کے دوران، پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ سے ماؤنوازوں کی 03 لاشیں اور 02 آتشیں اسلحہ، یعنی 01 اے کے 47 رائفل اور 01 ایس ایل آر رائفل کو قبضے میں لینے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ، اس جاری آپریشن کے دوران، 06 فروری، 2026 کو، پولیس ٹیموں اور ماؤنوازوں کے درمیان ایک اور تصادم میں، کل 04 دیگر ماؤنوازوں کی لاشیں موقع سے برآمد کی گئیں۔ مجموعی طور پر، تین دنوں تک جاری رہنے والے اس انتہائی مشکل آپریشن کے دوران، گڈچرولی پولس فورس نے انتہائی دشوار گزار علاقے کا سامنا کرتے ہوئے پولس اہلکاروں کے ذریعہ کئے گئے آپریشن کے دوران کل 07 ماؤنوازوں کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔تاہم، ماؤنوازوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے، 05 فروری 2026 کو، شام کو ماؤنوازوں کی شدید فائرنگ میں، اسپیشل اسکواڈ دیپک چننا مادوی گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں کل صبح ہیلی کاپٹر کی مدد سے ابوجھمادکے گھنے جنگل سے نکالا گیا اور سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بھامرا گڑھ منتقل کیا گیا۔ تاہم آپریشن کے دوران لگنے والے زخموں کی وجہ سے دیپک چننا مادوی موت اور زیست کی جنگ ہار گئے۔ کل 06 فروری 2026 کو پولیس ہیڈ کوارٹر، گڈچرولی میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور سرکاری اعزاز میں انتم وداعی دیدی گئی ۔آپریشن کے دوران، اسپیشل آپریشن اسکواڈ کے جوان جوگا مادوی، ساکن کشتیا پلی، ضلع۔ گڈچرولی، گولی لگنے سے زخمی بھی ہوا۔ انہیں کل ہیلی کاپٹر کی مدد سے گڑھ چرولی بھی لایا گیا تھا۔ فی الحال ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ گڑھچرولی میں زیر علاج ہیں۔
آپریشن کے دوران مارے گئے تمام سات ماؤنوازوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں،
پربھاکر عرف روی عرف پرکل ویر عرف سوامی عرف لوکتی چندر راؤ
عمر – 57 ساکن اسروجیواڈا، ضلع۔ کماریڈی (تلنگانہ)
ڈی کے ایس زیڈ سی ایم/ انچارج، ویسٹ سب زونل بیورو، انچارج کمپنی نمبر۱۰ پر 25 لاکھ روپے کا انعاماس پرانکاؤنٹر – 73قتل – 13آتش زنی 06
دیگر – 21
کل – 113، پاگو مڈم، عمر 30 سال، رہائشی ڈالہ، تال۔ اواپلی، ضلع بیجاپور (چوہدری)
کمپنی نمبر 05
سی وائی پی سی/کمانڈر، کمپنی نمبر 05
روپے 16 لاکھ
پرتشدد واقعات میں اس کے ملوث ہونے کی تصدیق جاری ہے۔ انیلا عرف بدری کواچی، عمر 24 سال، ریزیڈنٹ۔ سکماپی پی سی ایم (پربھاکر کا گارڈ) روپے 08 لاکھ، انکاؤنٹر – 08، قتل – 01، دیگر – 03کل – 12، کامیش پاڈا، عمر 35 سال، ریس۔ دربہ، ضلع سکما، سپیشل پلاٹون پاگل ایریا
پی پی سی ایم / کمانڈر سپیشل پلاٹون پاگل ایریا
روپے 08 لاکھ
پرتشدد واقعات میں اس کے ملوث ہونے کے حوالے سے تصدیق جاری ہے۔ بھجناتھ عرف بھیما ہولی، عمر40 سال، ریس۔ ٹیکل گوڈیم (پوسٹ جاگرگنڈہ) تال۔ کونٹا، ضلع۔ سکما پرالکوٹ دالم 06 لاکھ انعام پرتشدد واقعات میں اس کے ملوث ہونے کے حوالے سے تصدیق جاری ہے۔منگلی کرسم، ریس مغربی بستر (چھتیس گڑھ)
کمپنی نمبر 10
ممبر
04 لاکھ روپے
تشدد واقعات میں ملوث ہے ان تمام ماؤنوازوں پر کئی پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے ساتھ سیکورٹی فورسیز پر حملہ کرنے و قتل وغارت گری کا بھی الزام ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
