Connect with us
Wednesday,23-September-2026

(جنرل (عام

قومیں مشکل حالات سے نبرد آزما ہو کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں : سید سعادت اللہ حسینی

Published

on

S.-Saadatullah-Hussaini

ممبئی : جماعت اسلامی مہاراشٹر کے زیر اہتمام اور مجلس العلما تحریک اسلامی مہاراشٹر کے اشتراک سے ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کی راہیں ڈھونڈنے اور ملت کو مایوسی سے نکال کر راہ عمل میں مصروف کرنے کے مقصد سے ممبئی کے اسلام جمخانہ میں ’’موجودہ حالات میں ملت کی تمکین و ترقی کا لائحہ عمل‘‘ عنوان سے ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند کی صدارت میں منعقد اس مذاکرہ میں عمائدین شہر، سماجی کارکنان اور صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ لائحہ عمل کے ساتھ عمل پر سختی سے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے امیر حلقہ مولانا الیاس خان فلاحی نے کہا اللہ تعالیٰ اس امت کو مستحکم امت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے ۔تاکہ اس کافائدہ دنیائے انسانیت کو پہنچے۔ خیر امت ہونے کا تقاضہ ہے کہ مسلمان عالم انسانیت کیلئے خود کو بہتر ثابت کریں۔ امت کیلئے قابل شکر بات یہ ہے کہ ان کے پاس ایک دین ہے جس میں ہمارے لئے رہنمائی ہے۔ ہمارے سامنے نبی کا مدنی ماڈل ہے جس نے انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا۔موجودہ حالات میں اگر ہم نے امت کی درست سمت میں رہنمائی کی تو یقین جانیں یہ حالات بدلیں گے۔ موجودہ نفرت کے ماحول میں جہاں بہت سے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے ہیں تو کیا اس صورتحال میں ہمارا رویہ منفی ہونا چاہئے؟ ہم تو خیر امت ہیں ہمارا کام تو خیر و فلاح ہے۔ نبی کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین رہنمائی ہے کہ اخلاقی بگاڑ کے انتہا کے دور میں اللہ نبوت عطا کی لیکن نبی نے ان حالات کو کیسے تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی اللہ پر ایمان اپنے رب سے خصوصی تعلق اور وسیع تر منصوبے کے ساتھ میدان عمل میں آنا۔

امیر جماعت اسلامی ہند انجینئر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’’یقینا ہم تاریخ کے مشکل ترین حالات میں سے یہ دور بھی ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ لیکن قوم میں یہ مزاج پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ قوموں کیلئے حالات ان کی تبدیلی ان کے عروج یا نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے ایک پروفیسر کے حوالے سے یہ بات کہی کہ قوموں کا عروج کبھی عام حالات میں نہیں ہوتا وہ مشکل ترین حالات سے لڑ کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں۔ قوموں پر وہ وقت آتا ہے جب ان کا وجود خطرے میں ہو تو اس سے نکلنے کیلئے نئی راہیں تلاش کرتی ہیں جس سے وہ مشکل حالات سے نکلتی ہیں۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے موجودہ حالات اللہ تعالیٰ کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہوسکتا ہے امت کو جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی اور اسے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی۔ میرا مشورہ جوانوں کو ہے وہ ان حالات میں خود کو بچانے کی تدبیر کے ساتھ ہی اس کی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی کمزوریاں اور خرابیاں دور کریں گے، اپنی توانائیوں کو نیا رخ دیں گے۔ ہم مسائل کا رونا چھوڑ کر حالات سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں یہی ہمارے مصائب کے خاتمہ کا سبب بنے گا۔ امت میں مقصد کا شعور جگانا اور مقصد کی اساس پر پوری امت کو متحد کرنا یہ ہماری کوشش اور ترجیح ہو۔ امیر جماعت نے بعض احباب کی اس بات اتفاق کیا کیا امت تعلیم کی جانب متوجہ ہوئی تو اس کے نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔اب اسی طرح سے ہماری منظم کوشش معاشی ترقی کیلئے ہو۔ جماعت اسلامی ہند اس سلسلے میں ملت کی معاشی ترقی کیلئے کئی کوشش کررہی ہے۔

انقلاب ممبئی کے مدیر شاہد لطیف نے مسلمانوں میں در آئی بعض بری رسموں پر گفتگو کی، مسلمانوں کو ان کا مقصد یاد دلایا، ساتھ ہی انہوں نے ملک و قوم کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پربھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر کہیں موجود بھی ہیں تو اس کی تفصیلات خود ہمیں نہیں معلوم, ہم صرف دشمنوں کو کوستے ہیں لیکن ہمیں جو عملی قدم اٹھانا چاہئے وہ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ امت اپنے مقصد حقیقی سے کیسے واقف ہوگی اور وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کی پوزیشن میں کب آئے گی۔ انہوں نے تین طلاق کے معاملہ میں سوال کیا کہ ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں اس کے اعداد و شمار بھی ہمارے پاس نہیں کہ ہم الزام لگانے والوں اور عدالت یہ باور کراسکتے کہ تین طلاق کے سلسلے میں مفروضے محض قیاس ارائیاں ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے ہمیں اس سلسلے میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا ظہیر عباس رضوی نے مسلمانوں میں اخلاقی بگاڑ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف علما و ائمہ مساجد کی ہی ذمہ داری نہیں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کریں، ان کی خبر گیری کریں کہ ان کا بچہ رات کے دوبجے تک کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں کے اخلاقی بگاڑ پر بہت سختی کے ساتھ کہا کہ ہم میں اگر اخلاق نہیں تو ہم مسلمان ہی نہیں۔ معروف سماجی کارکن سلیم الوارے نے کہا آج جو حالات ہیں یہ پہلی بار نہیں آئے ہیں نہ ہی اچانک حالات نے کروٹ بدلی بلکہ یہ آزادی ہند کے وقت سے ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بتایا کہ آزادی کے سال لے کر چار پانچ سالوں تک مسلم گائوں محلوں کے افراد راتوں کو کسی ممکنہ حملہ کے خدشہ کے تحت راتوں کو پہرہ دیتے تھے۔ مولانا محمود دریا آبادی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ حالات تو یقینا پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کیلئے گفتگو کریں اور مسلسل کرتے رہیں نیز کسی بھی ایسے معاملہ میں جس میں مسلمانوں کیخلاف ظلم و تشدد ہوا ہو، عدالت کا رخ کریں خواہ فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مولانا نے کہا کہ جلد یا بدیر مسلسل کوششوں سے کامیابی مل سکتی ہے۔ اجلاس میں بوہرہ کمیونٹی کے شبیر بھوپال والا اور مولانا منظر احسن سلفی سمیت کئی سماجی کاررکنان نے اپنی رائے رکھی۔ نظامت کے فرائض مولانا نصیر اصلاحی ناظم اعلیٰ مجلس العلما نے انجام دیئے۔

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم پی : بھوپال میں وکلاء کے احتجاج کے بعد تین پولیس اہلکار معطل

Published

on

بھوپال : جہانگیر آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بدھ کے روز پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے خلاف وکلاء کے رات بھر کے احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی منگل کی رات 50 کے قریب وکلاء کے جہانگیر آباد تھانے میں جمع ہونے کے بعد ہوئی اور صبح تقریباً 3 بجے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راوال کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی شناخت ایس ایچ او راجن سنگھ اہیروار اور کانسٹیبل یش لکیرا اور رام سوروپ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہیں معطلی کی مدت کے لیے ریزرو سینٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (زون-1) نے بھی واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس کی رپورٹ سات دنوں کے اندر پیش کی جائے۔ بدھ کو یہ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا، جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھوپال ڈسٹرکٹ کورٹ میں احتجاج کیا۔ وکلا نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور راول سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

راول (45) کے مطابق، منگل کی رات اسے پولیس اہلکاروں نے کنٹرول روم چوراہے کے قریب بیرا گڑھ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے روکا، اس نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے اسے اپنے ساتھ تھانے جانے کو کہا۔ راول نے کہا کہ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر اسے کیچڑ میں پھینک دیا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ بعد میں وکلاء نے ایک ویڈیو گردش کی جس میں مبینہ طور پر راول کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات اور ان کے کپڑوں پر کیچڑ کے نشانات دکھائے گئے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ پولیس تمام واقعات کی ترتیب سے جانچ کر رہی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں، اور حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” چوہان نے کہا۔ اپنی معطلی سے پہلے ایس ایچ او اہیروار نے الزام لگایا کہ راول نے تنازعہ کے دوران ٹریفک اے سی پی اجے باجپائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور رکنے کا مشورہ دینے کے باوجود عوامی طور پر افسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس واقعے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ ابتدائی انکوائری میں راول کو کن حالات میں روکا گیا، پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی بات چیت اور پولیس اسٹیشن میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چوہان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان