Connect with us
Wednesday,01-April-2026

(جنرل (عام

قومیں مشکل حالات سے نبرد آزما ہو کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں : سید سعادت اللہ حسینی

Published

on

S.-Saadatullah-Hussaini

ممبئی : جماعت اسلامی مہاراشٹر کے زیر اہتمام اور مجلس العلما تحریک اسلامی مہاراشٹر کے اشتراک سے ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کی راہیں ڈھونڈنے اور ملت کو مایوسی سے نکال کر راہ عمل میں مصروف کرنے کے مقصد سے ممبئی کے اسلام جمخانہ میں ’’موجودہ حالات میں ملت کی تمکین و ترقی کا لائحہ عمل‘‘ عنوان سے ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند کی صدارت میں منعقد اس مذاکرہ میں عمائدین شہر، سماجی کارکنان اور صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ لائحہ عمل کے ساتھ عمل پر سختی سے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے امیر حلقہ مولانا الیاس خان فلاحی نے کہا اللہ تعالیٰ اس امت کو مستحکم امت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے ۔تاکہ اس کافائدہ دنیائے انسانیت کو پہنچے۔ خیر امت ہونے کا تقاضہ ہے کہ مسلمان عالم انسانیت کیلئے خود کو بہتر ثابت کریں۔ امت کیلئے قابل شکر بات یہ ہے کہ ان کے پاس ایک دین ہے جس میں ہمارے لئے رہنمائی ہے۔ ہمارے سامنے نبی کا مدنی ماڈل ہے جس نے انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا۔موجودہ حالات میں اگر ہم نے امت کی درست سمت میں رہنمائی کی تو یقین جانیں یہ حالات بدلیں گے۔ موجودہ نفرت کے ماحول میں جہاں بہت سے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے ہیں تو کیا اس صورتحال میں ہمارا رویہ منفی ہونا چاہئے؟ ہم تو خیر امت ہیں ہمارا کام تو خیر و فلاح ہے۔ نبی کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین رہنمائی ہے کہ اخلاقی بگاڑ کے انتہا کے دور میں اللہ نبوت عطا کی لیکن نبی نے ان حالات کو کیسے تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی اللہ پر ایمان اپنے رب سے خصوصی تعلق اور وسیع تر منصوبے کے ساتھ میدان عمل میں آنا۔

امیر جماعت اسلامی ہند انجینئر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’’یقینا ہم تاریخ کے مشکل ترین حالات میں سے یہ دور بھی ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ لیکن قوم میں یہ مزاج پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ قوموں کیلئے حالات ان کی تبدیلی ان کے عروج یا نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے ایک پروفیسر کے حوالے سے یہ بات کہی کہ قوموں کا عروج کبھی عام حالات میں نہیں ہوتا وہ مشکل ترین حالات سے لڑ کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں۔ قوموں پر وہ وقت آتا ہے جب ان کا وجود خطرے میں ہو تو اس سے نکلنے کیلئے نئی راہیں تلاش کرتی ہیں جس سے وہ مشکل حالات سے نکلتی ہیں۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے موجودہ حالات اللہ تعالیٰ کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہوسکتا ہے امت کو جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی اور اسے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی۔ میرا مشورہ جوانوں کو ہے وہ ان حالات میں خود کو بچانے کی تدبیر کے ساتھ ہی اس کی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی کمزوریاں اور خرابیاں دور کریں گے، اپنی توانائیوں کو نیا رخ دیں گے۔ ہم مسائل کا رونا چھوڑ کر حالات سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں یہی ہمارے مصائب کے خاتمہ کا سبب بنے گا۔ امت میں مقصد کا شعور جگانا اور مقصد کی اساس پر پوری امت کو متحد کرنا یہ ہماری کوشش اور ترجیح ہو۔ امیر جماعت نے بعض احباب کی اس بات اتفاق کیا کیا امت تعلیم کی جانب متوجہ ہوئی تو اس کے نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔اب اسی طرح سے ہماری منظم کوشش معاشی ترقی کیلئے ہو۔ جماعت اسلامی ہند اس سلسلے میں ملت کی معاشی ترقی کیلئے کئی کوشش کررہی ہے۔

انقلاب ممبئی کے مدیر شاہد لطیف نے مسلمانوں میں در آئی بعض بری رسموں پر گفتگو کی، مسلمانوں کو ان کا مقصد یاد دلایا، ساتھ ہی انہوں نے ملک و قوم کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پربھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر کہیں موجود بھی ہیں تو اس کی تفصیلات خود ہمیں نہیں معلوم, ہم صرف دشمنوں کو کوستے ہیں لیکن ہمیں جو عملی قدم اٹھانا چاہئے وہ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ امت اپنے مقصد حقیقی سے کیسے واقف ہوگی اور وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کی پوزیشن میں کب آئے گی۔ انہوں نے تین طلاق کے معاملہ میں سوال کیا کہ ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں اس کے اعداد و شمار بھی ہمارے پاس نہیں کہ ہم الزام لگانے والوں اور عدالت یہ باور کراسکتے کہ تین طلاق کے سلسلے میں مفروضے محض قیاس ارائیاں ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے ہمیں اس سلسلے میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا ظہیر عباس رضوی نے مسلمانوں میں اخلاقی بگاڑ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف علما و ائمہ مساجد کی ہی ذمہ داری نہیں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کریں، ان کی خبر گیری کریں کہ ان کا بچہ رات کے دوبجے تک کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں کے اخلاقی بگاڑ پر بہت سختی کے ساتھ کہا کہ ہم میں اگر اخلاق نہیں تو ہم مسلمان ہی نہیں۔ معروف سماجی کارکن سلیم الوارے نے کہا آج جو حالات ہیں یہ پہلی بار نہیں آئے ہیں نہ ہی اچانک حالات نے کروٹ بدلی بلکہ یہ آزادی ہند کے وقت سے ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بتایا کہ آزادی کے سال لے کر چار پانچ سالوں تک مسلم گائوں محلوں کے افراد راتوں کو کسی ممکنہ حملہ کے خدشہ کے تحت راتوں کو پہرہ دیتے تھے۔ مولانا محمود دریا آبادی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ حالات تو یقینا پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کیلئے گفتگو کریں اور مسلسل کرتے رہیں نیز کسی بھی ایسے معاملہ میں جس میں مسلمانوں کیخلاف ظلم و تشدد ہوا ہو، عدالت کا رخ کریں خواہ فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مولانا نے کہا کہ جلد یا بدیر مسلسل کوششوں سے کامیابی مل سکتی ہے۔ اجلاس میں بوہرہ کمیونٹی کے شبیر بھوپال والا اور مولانا منظر احسن سلفی سمیت کئی سماجی کاررکنان نے اپنی رائے رکھی۔ نظامت کے فرائض مولانا نصیر اصلاحی ناظم اعلیٰ مجلس العلما نے انجام دیئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

میئر کی موجودگی میں عوامی سہولیات، رہائشی ریزرویشن والی عمارتوں، جائیدادوں کے حوالے سے مشترکہ اجلاس

Published

on

mayor

ممبئی : ایک مشترکہ میٹنگ آج (1 اپریل 2026) ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی صدارت میں میئر ہال میں برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کی عوامی سہولیات، سماجی بہبود کے مراکز، عمارتوں، جائیدادوں اور رہائشی ریزرویشن کے حوالے سے منعقد ہوئی۔ سابق ایم پی کریٹ سومیا، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین مسٹر پربھاکر شندے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے، ڈپٹی کمشنر (ایجوکیشن) ڈاکٹر پراچی جامبھےکر، چیف انجینئر (ترقیاتی منصوبہ بندی)سنیل راٹھوڈ، اسسٹنٹ کمشنر (پراپرٹی) مسٹر چاوان اور دیگر متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے, میونسپل کارپوریشن کی مختلف زمینوں، عمارتوں، املاک کو عوامی سہولیات، سماجی بہبود کے مراکز، رہائشی تحفظات یا دیگر شہری مقاصد کے لیے تیار کرتے وقت، کچھ معاملات میں، ڈویلپر ایسی عمارتوں کو میونسپل کارپوریشن کو منتقل کیے بغیر اپنے قبضے میں رکھتے ہیں، جو کہ ایک غلط استعمال ہے، مسٹر سومیا نے یہ مسئلہ اٹھایا۔ مسٹر سومیا نے مطالبہ کیا کہ میونسپل کارپوریشن کو ایسی زمینوں / عمارتوں / جائیدادوں کی فہرست تیار کرنی چاہئے اور ان زمینوں / جائیدادوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے مناسب کارروائی کرنی چاہئے۔ میٹنگ میں بحث کے بعد میئر ریتو تاوڑے نے ہدایت دی کہ 1985 سے 2015 کی مدت کے دوران ایسی عمارتوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جائیں۔ 2015 کے بعد کا ریکارڈ بھی تیار کیا جائے۔ یہ عمارتیں، پلاٹ، جائیدادیں صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کی جائیں جس کے لیے یہ محفوظ ہیں۔ ساتھ ہی میئر نے ہدایت کی کہ میونسپل کارپوریشن کے ریونیو میں اضافے کے لیے اس سلسلے میں کارروائی کی جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی تاریخ میں پہلی بار پراپرٹی ٹیکس نے بلند ترین سنگ میل عبور کیا ہے

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے امسال پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں ریکارڈ توڑ کارکردگی حاصل کی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے تمام سابقہ ​​ریکارڈ توڑتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کردہ 7,341 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 7,610 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس جمع کیا ہے۔ 31 مارچ 2026 کو ایک ہی دن میں 399 کروڑ 74 لاکھ روپے کا ریونیو جمع کرکے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے اس شاندار کامیابی پر ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین کی تہہ دل سے تعریف کی ہے اور ان کے کام کی تعریف کی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ممبئی کے شہریوں کو مختلف شہری خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ان خدمات کے معیار کو بڑھانے اور ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قابل مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، پراپرٹی ٹیکس ایک بہت اہم، مستحکم اور قابل اعتماد آمدنی کا ذریعہ ہے۔ اس پس منظر میں، ایڈیشنل میونسپل کمشنرڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں، اور جوائنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) مسٹر وشواس شنکروار اور ٹیکس اسیسسر اور کلکٹر مسٹر گجانن بیلے کی نگرانی میں، ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کیں۔میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات کے وسیع اور ذمہ دارانہ کام کی کامیابی کے بعد بھی ٹیکسیشن اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ کے تمام افسران اور ملازمین نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے غیر معمولی لگن، مستقل مزاجی اور توقعات سے بڑھ کر کام کیا۔ یہ یقیناً ایک خاص اور انتہائی قابل تعریف معاملہ ہے پراپرٹی ٹیکس کی بروقت ادائیگی کے لیے شہریوں میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کی گئی۔ ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے عام تعطیلات کے ساتھ ساتھ ہفتے کے آخر میں شہری سہولت مراکز کو کھلا رکھا گیا اور آن لائن ادائیگی کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ بڑے نادہندگان پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ماضی کے واجبات کی وصولی کے لیے موثر فالو اپ کیا گیا۔ ان تمام اقدامات نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو مزید موثر اور تیز تر بنایا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا نظرثانی شدہ ہدف روپے مقرر کیا تھا۔ مالی سال 2025 – 26 کے لیے 7,341 کروڑ۔ ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین کی کوششوں اور ممبئی کے شہریوں کے تعاون سے میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2025 – 26 کے لیے یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ تک کے دوران 7,610 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس جمع کیا، یہ کل ہدف کا 20163 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ اضافی جرمانے کی مد میں 301 کروڑ 13 لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے ہیں۔ انتظامی ڈویژن کی کارکردگی پر غور کرتے ہوئے، مالی سال 1 اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 کے دوران کے ایسٹ (719 کروڑ 23 لاکھ روپے)، جی ساؤتھ (670 کروڑ 64 لاکھ روپے)، کے ویسٹ (622 کروڑ 16 لاکھ روپے)، ایچ ایسٹ (577 کروڑ 16 لاکھ روپے) اور ویسٹ (577 کروڑ ایچ آر) نے 5 کروڑ 78 لاکھ روپے حاصل کیے ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کی سب سے زیادہ وصولی ریکارڈ کی گئی۔

مالی سال 2025-26 میں انتظامی ڈویژن کی طرف سے جمع کردہ پراپرٹی ٹیکس
سٹی ڈویژن
1) اے ڈویژن – 270 کروڑ 7 لاکھ روپے
2) بی ڈویژن – 47 کروڑ 31 لاکھ روپے
3) سی ڈویژن – 90 کروڑ 14 لاکھ روپے
4) ڈی ڈویژن – 299 کروڑ 53 لاکھ روپے
5) ای ڈویژن – 150 کروڑ 8 لاکھ روپے
6) ایف ساؤتھ ڈویژن – 165 کروڑ 90 لاکھ روپے
7) ایف نارتھ ڈویژن – 157 کروڑ 76 لاکھ روپے
8) جی ساؤتھ ڈویژن – 670 کروڑ 64 لاکھ روپے
9) جی نارتھ ڈویژن – 251 کروڑ 17 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 2 ہزار 102 کروڑ 60 لاکھ روپے

مغربی مضافات
1) ایچ ایسٹ ڈویژن – 572 کروڑ 78 لاکھ روپے
2) ایچ ویسٹ ڈویژن – 536 کروڑ 55 لاکھ روپے
3) کے ایسٹ ڈویژن – 719 کروڑ 23 لاکھ روپے
4) کے ویسٹ ڈویژن – 622 کروڑ 16 لاکھ روپے
5) پی ساؤتھ ڈویژن – 372 کروڑ 23 لاکھ روپے
6) پی نارتھ ڈویژن – 277 کروڑ 22 لاکھ روپے
7) آر ساؤتھ ڈویژن – 288 کروڑ 81 لاکھ روپے
8) آر سینٹرل ڈویژن – 294 کروڑ 94 لاکھ روپے
9) آر نارتھ ڈویژن – 97 کروڑ 41 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 3,721 کروڑ 33 لاکھ روپے

مشرقی مضافات
1) ایل ڈویژن – 304 کروڑ 57 لاکھ روپے
2) ایم ایسٹ ڈویژن – 113 کروڑ 93 لاکھ روپے
3) ایم ویسٹ ڈویژن – 184 کروڑ 70 لاکھ روپے
4) این ڈویژن – 242 کروڑ 30 لاکھ روپے
5) ایس ڈویژن – 398 کروڑ 47 لاکھ روپے
6) ٹی ڈویژن – 213 کروڑ 44 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 1,457 کروڑ 41 لاکھ روپے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر : ایس آئی آر سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ابوعاصم کی عوام سے اپیل، ایس آئی آر کیلئے وقت درکار

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس آئی آر سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے دستاویزات تیار رکھیں یکم اپریل سے ایس آئی آر کے نفاذ کا اعلان ضرور کیا گیا تھا لیکن ابھی تک ووٹرس میپنگ کا کام مکمل نہیں ہوا ہے اس لئے اس میں مزید وقت درکار ہے اس لئے عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کو لے کر عوام میں کافی تذبذ ب ہے اس لئے ہم نے اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن کے افسر ایس لنگم سے ملاقات کی انہوں نے بتایا کہ 50فیصد ووٹرس میپنگ اب تک مکمل ہوئی ہے کیونکہ یہاں مقامی بی ایم سی اور پریشد کے انتخابات تھے اس لئے الیکشن لسٹ پوری طرح سے مکمل نہیں ہوئی ہے اس کی وجہ سے ابھی ایس آئی آر کیلئے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یس آئی آر کے سروے کے دوران تین مرتبہ بی ایل او اور الیکشن کمیشن کے افسران گھر پر حاضری دیں گے 2000 کے ووٹنگ لسٹ سے متعلق نام تلاش کیا جائے گا اگر اس لسٹ میں نام کی شمولیت نہیں ہے تو آپ کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کے دستاویزات بھی ناموں کے اندراج کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کی ان کے معرفت بھی نشاندہی نہیں ہوتی ہے تو آپ جس گاؤں یعنی بنگال یا یوپی سے ہیں تو وہاں آپ کے آبادی وطن میں ووٹرس لسٹ میں آ پ کا نام تلاش کیا جائے گا اور آپ کے رشتہ داروں کی گواہی اور دستاویزات کی بنیاد پرایس آئی آر میں شامل کیا جاسکتا ہے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمام مرحلہ میں بھی آپ کے نام کی نشاندہی نہیں ہوتی ہے تو 11دستاویزات درکار ہے جس میں جائیداد سے لے کر دیگر دستاویزات شامل ہے اگر یہ دستاویزات پیش کئے جاتے ہیں تو ایس آئی آر میں شمولیت ممکن ہوگی اس کے ساتھ ہی تین مرتبہ جب بی ایل او آپ کے مکان پر حاضری دیتا ہے تو آپ ایک مرتبہ بھی اسے میسر نہیں آتے تو تین مرتبہ کے بعد آپ کے گھر پر نوٹس بھی دی جائے گی اس کے ساتھ ہی آپ کے پڑوسیوں سے متعلق بھی اس سے متعلق باز پرس کی جائے گی اور پھر کوئی کارروائی میں پیش رفت ہوگی اس لئے بی ایل او سے ملاقات کرنا ضروری ہے انہیں جو دستاویز ات کی ضرورت ہے وہ دستاویزات تیار رکھیں اس کام کی تکمیل کیلئے کئی تنظیمیں کوشاں ہے اسی طرح مانخورد شیواجی نگر میں عوام کی رہنمائی کیلئے ہم نے بھی نظم کیا ہے اور یہاں بھی ووٹرلسٹ سے ناموں کی تلاش اور ایس آئی آر سے متعلق دستاویزات کی تیاری میں مدد کی جارہی ہے سماجوادی کارکنان کے دفاتر میں بھی یہ کام تیزی سے جاری ہے انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایس آئی آر کا عمل جاری نہیں ہوگا جیسے ہی یہ عمل شروع ہوگا مطلع کیا جائے گا لیکن عوام کو بیداری رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے دستاویزات سے متعلق وہ مستعد رہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان