ممبئی پریس خصوصی خبر
سدانندداتے کی ڈی جی پی بننے کی راہ ہموار، مہاراشٹر میں رشمی شکلا کے جانشین داتے ہوں گے، یکم جنوری سے کمان سنبھالیں گے
ممبئی : قومی سلامتی ایجنسی این آئی اے کے سربراہ سدانندداتے کی مہاراشٹر کیڈر میں واپسی کے بعداب وہ ڈی جی پی رشمی شکلا کے جانشین ہوں گے اس سے قبل ریاستی سرکار نے سدانند داتے کے نام کی سفارش کی تھی اور اب مرکزی سرکار نے انہیں ریاستی کیڈر میں واپس بھیج دیا ہے ۳۱ دسمبر کو رشمی شکلا کی سبکدوشی کے بعدسدانندداتے نئے ڈی جی پی کے طور پر چارج سنبھال سکتے ہیں۔ این آئی اے میں بطور ڈی جی کے طور پر سدانند داتے نے دہشت گردانہ کیسوں سے متعلق نہ صرف تحقیقات کی بلکہ اسے انجام تک بھی پہنچایا ہے دلی لال قلعہ بم دھماکوں کی تحقیقات بھی این آئی اے کے سپرد کی کی گئی تھی سدانند داتے مہاراشٹر کیڈر کے افسر ہے اور وہ ڈیپوٹیشن پر این آئی اے کے سر براہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے ان کے مہاراشٹر کیڈر میں واپسی کو منظوری دیدی ہے اس کے بعد داتے کا ڈی جی پی مقرر ہونے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے ڈی جی پی کی ریس میں سب سے اہم دعویدار کے طور پر سدانندداتے کا نام ہی صف اول پر تھا وہ اس سے قبل اے ٹی ایس سر براہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں داتے کو ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں جانبازی کےلئے مہاراشٹر پولیس کا ہیرو بھی قرار دیا جاتا ہے کاما اسپتال میں دہشت گردوں کا بہادری سے داتے نے مقابلہ کیا ۔ ممبئی میں کئی اہم ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اب مہاراشٹر کے سر براہ کے طور پر داتے خدمات انجام دے سکتے ہیں البتہ سدانندداتے ممبئی پولیس کمشنر کی ریس میں بھی صف اول پر تھے لیکن ریاستی سرکار نے اس عہدہ کی گریٹ میں کمی واقع کی اور ڈی جی کے بجائے اے ڈی جی کی سطح کے افسر کو ممبئی کا پولیس کمشنر مقرر کرنے کا فیصلہ لیا تھا جس کے بعد ممبئی پولیس کمشنر کے طور پر دیوین بھارتی کو مقرر کیا گیا ہے اب ڈی جی پی کے طور پر سدانند داتے مہاراشٹرین ڈی جی پی کے طور پر تعینات کئے جاسکتے ہیں رشمی شکلا کو دو سال تک کا ڈی جی پی کا عہدہ تفویض کیا گیا تھا سدانند داتے بھی اس عہدہ پر دو سال تک برقرار رہیں گے کیونکہ مرکزی سرکار اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ڈی جی پی کے عہدہ پر دو سال کی معیاد لازمی ہے ایسے میں سدانند داتے دو سال تک اس عہدہ پر برقرار رہیں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بوریولی اے پی کے فائل سائبر فراڈ : ۹ لاکھ سے زائد کی دھوکہ دہی اے پی کے فائل برآمد، ۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی بوریولی دہیسر علاقہ میں ایک اے پی کے فائل ارسال کر کے ۹ لاکھ روپے سے زائد کی دھوکہ دہی کرنے والے گینگ کو ممبئی پولس نے بے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے اس معاملہ میں شکایت کنندہ نے شکایت درج کروائی تھی اسے مہانگر گیس کنکشن منقطع ہو نے کا کال موصول ہوا تھا جس کے بعد انہیں وہاٹس اپ کال پر اے پی کے فائل ارسال کی گئی اور اس اے پی کے فا ئل سے سبکدوش سرکاری ملازم کے اکاؤنٹ سے ۹ لاکھ سے زائد منتقل کر لئے گئے جس کے بعد پولس نے اس معاملہ میں ٹیکنکل طریقہ تفتیش سے ملزمین کا سراغ لگایا اور اس معاملہ میں ملوث ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ جو اے پی کے فائل سے یہ ٹھگی اور دھوکہ دہی کیا کرتے تھے اسے بھی برآمد کر لیا گیا ہے. ملزمین نے اے پی کے فائل کی مدد سے شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ میں رسائی کی اور پھر اس کے اکاؤنٹ سے ۹ لاکھ ۸۹ ہزار روپے منتقل کر لئے, یہ رقومات دو ملزمین کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی بینک آف مہاراشٹر سے ملزم کے کنرا بینک کے اکاؤنٹ میں تین لاکھ سے زائد منتقل کئے گئے اس کے بعد دوسرے ملزم کے آئی سی آئی سی بینک اکاؤنٹ میں ۲ لاکھ منتقل کئے گئے ان دونوں کو دہیسر پولس اسٹیشن میں پولس نے طلب کیا اس کے بعد ملزم جو بینک اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی اور دھوکہ دہی کی رقم جمع کرنے میں ملوث پائے گئے جس کے بعد پولس نے دو ملزمین جن کی شناخت آرین راجیش گپتا ۲۱ سالہ جوگیشوری ساکن ، انکیت سنجے تیواری ۲۴ سالہ وسئی کو گرفتار کر لیا, دونوں ملزمین جرائم پیشہ ہے آرین گپتا نے خود کی تفصیل پر بینک اکاؤنٹ تیار کیا اس کے بعد انکیت سنجے تیواری ۲۴ سالہ نے آئی سی آئی سی بینک سے دو لاکھ جمع کئے تھے ۔ سائبر فراڈ کے کیس میں اضافہ کے بعد شہریوں سے پولس نے اپیل کی ہے کہ وہ اے پی کے فائل کو اوپن نہ کرے اتنا ہی نہیں سوشل میڈیا سے نامعلوم اشخاص سے رابطہ نہ رکھیں۔ یہ اطلاع یہاں ڈی سی پی کیجانن دیشمانےدی ہے اس معاملہ میں مزید اے پی کے فائل بھی ضبط کرنے سے متعلق پولس تفتیش کر رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
