Connect with us
Sunday,27-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ٹھاکرے بھائیوں نے بی ایم سی انتخابات کے لیے اتحاد پر مہر لگائی، سیٹوں کی تقسیم کو حتمی شکل دی گئی : سنجے راوت

Published

on

ممبئی، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات سے پہلے، ٹھاکرے کے دو کزنز — ادھو ٹھاکرے (شیو سینا یو بی ٹی) اور راج ٹھاکرے (ایم این ایس) — کے درمیان اتحاد اب سرکاری ہے۔ پارٹی کے ایم پی سنجے راوت نے “منوملن” (دلوں کی یونین) کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے کارکنوں نے پورے دل سے گٹھ جوڑ کو قبول کیا ہے اور پہلے ہی زمین پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ راؤت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’منوملن‘‘ (دلوں کا ملاپ) اس وقت ہوا جب مہاراشٹر کے اسکولوں میں پہلی جماعت سے ہندی کے نفاذ کے خلاف دونوں بھائی اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ اتحاد ایک حقیقت ہے، مخصوص نشستوں کے بارے میں باضابطہ اعلان یا تو دن کے آخر میں یا بدھ کو کیا جائے گا۔ راوت نے انکشاف کیا کہ “ٹھاکرے برادران” ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس میں سیٹوں کی تقسیم کا رسمی اعلان جلد متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتحاد کے لیے بنیادوں کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ جب کہ بڑی تعداد میں میونسپل باڈیز کے لیے رابطہ کاری میں وقت لگتا ہے، بنیادی معاہدے کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ “بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ناسک، پونے، کلیان-ڈومبیولی، اور میرا-بھائیندر کے حوالے سے ہماری بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ بہت ساری کارپوریشنوں سے نمٹنے میں قدرتی طور پر کچھ وقت لگتا ہے۔ تاہم، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے بارے میں، ہمیں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ چونکہ اتحاد میں شامل ہوتا ہے، اس لیے ہم مخصوص سیٹوں کے تبادلے میں حتمی شکل دے سکتے ہیں۔” پہلے ہی تقسیم کیا جا رہا ہے،” انہوں نے کہا۔ راوت نے مزید واضح کیا کہ سوال اب یہ نہیں ہے کہ کیا وہ شراکت داری کریں گے، بلکہ یہ ہے کہ سیٹیں کیسے تقسیم ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کوئی اندرونی رگڑ نہیں ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ہم دل سے اکٹھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد پر اس وقت مؤثر طریقے سے مہر لگ گئی جب راج اور ادھو ٹھاکرے جولائی میں ریاستی حکومت کی طرف سے مراٹھی اور انگریزی کے ساتھ ہندی کو گریڈ 1 سے متعارف کرانے کے اقدام کے خلاف ایک ساتھ نظر آئے، انہوں نے مزید کہا کہ سیٹوں کی تقسیم پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کیڈرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور کارکنوں میں اتحاد کے حوالے سے کوئی الجھن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این سی پی (شرد پوار دھڑے) کے جینت پاٹل کے ساتھ مہا وکاس اگھاڈی فریم ورک کے اندر تال میل کے لیے بات چیت جاری ہے۔ جبکہ کانگریس کے ساتھ رسمی بات چیت فی الحال “بند ہے”، راوت نے انہیں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر سینا (یو بی ٹی) کانگریس کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مہاوتی شراکت داروں پر طنز کیا اور پوچھا، “ایکناتھ شندے اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کو ابھی تک حتمی کیوں نہیں بنایا گیا؟ اجیت پوار اور بی جے پی کے اتحاد کا اعلان کیوں نہیں کیا گیا؟” اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ شیو سینا (یو بی ٹی) اور ایم این ایس کے درمیان عمل مکمل ہے۔ دریں اثنا، سیوری میں، ایک اہم اتفاق رائے تک پہنچ گیا ہے جہاں دو سیٹوں پر ٹھاکرے دھڑے (یو بی ٹی) کی طرف سے مقابلہ کیا جائے گا، جبکہ ایک سیٹ ایم این ایس کو الاٹ کی گئی ہے. اگرچہ بھنڈوپ میں وارڈ نمبر 114 پر رسہ کشی جاری ہے، شیو سینا (یو بی ٹی) کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ادھو اور راج ٹھاکرے دونوں بقیہ تعطل کو حل کرنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کر رہے ہیں۔ ممبئی کے لیے سیٹوں کی تقسیم کا مجموعی فارمولہ تقریباً مکمل بتایا جاتا ہے۔ مبصرین نے کہا کہ ٹھاکرے برادران کا دوبارہ ملاپ — چاہے صرف سیاسی ہی کیوں نہ ہو — ریاستی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ برسوں سے، دونوں نے نظریاتی اور سیاسی میدان کے مختلف سروں پر کام کیا ہے۔ اس اسٹریٹجک اتحاد کا مقصد مراٹھی ووٹ بینک کو مضبوط کرنا ہے، جس سے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور بی جے پی کو براہ راست چیلنج درپیش ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان