Connect with us
Thursday,24-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہائیکورٹ سمیت ریاست میں بم دھماکوں کی دھمکی سے سنسنی

Published

on

E-mail

ممبئی ہائیکورٹ سمیت ججوں کے چمبرس کو بم سے اڑانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد عدالتوں میں تلاشی لی گئی لیکن کوئی قابل اعتراض مواد یا شئے برآمد نہیں ہوئی ممبئی ہائیکورٹ سمیت مہاراشٹر کلکٹر آفس اور ناگپور میں بم دھماکوں کی دھمکی کے بعد پولس نے الرٹ جاری کیا ہے۔ ایک ای میل موصول ہوا تھا جس میں آکولہ میں کلکٹر آفس میں بم دھماکہ کی دھمکی دی گئی تھی اور ایک دیگر ای میل ناگپور میں ججوں کے چمبر پر بم دھماکہ کی دھمکی دی گئی تھی, اس کے بعد ممبئی ہائیکورٹ سمیت باندرہ کورٹ اور ناگپور سیشن کورٹ کی تلاشی لی گئی, لیکن کوئی بھی مشتبہ شئے برآمد نہیں ہوئی دھمکی میں کہا گیا تھا کہ جلد ہی چار آر ڈی ایکس اور آئی ای ڈی دھماکہ ہوگا اور یہ آر ڈی ایکس پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے نصب کیا ہے اور ۲ بجے تک دھماکہ ہوگا۔ کلکٹریٹ آفس آکولہ میں بم دھماکے کی دھمکی صبح موصول ہوئی تھی، گینا رمیش، ٹی این ایل اے ایس مارن ونگ مدراس ٹائیگرز کی جانب سے کلکٹریٹ آفس اکولہ کے آفیشل ای میل IDcollector.akola@maharashtra.gov.in پر ایک ای میل پیغام موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ “4 RDX IEDs جلد ہی آپ کے کلکٹریٹ آفس کو دھماکے سے اڑا دیا جائے گا۔ اس دھمکی میں کراس اسٹریٹ کا نام تبدیل کر کے آپ کے کلکٹریٹ آفس میں جلد ہی 2 بجے بم دھماکہ کریں گے۔ ای میل پیغام ای میل آئی ڈی geta_ramesh@outlook.com سے بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد ضلع کلکٹر آفس انتظامیہ نے فوری طور پر متعلقہ پولیس تھانے سٹی کوتوالی آکولہ اور پولس انتظامیہ کو اطلاع دی۔ اس کے بعد ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکولہ اور پولس انتظامیہ کی جانب سے پولیس افسران و اہلکار فوری طور پر ضلع کلکٹر آفس اکولہ پہنچے اور تمام افسران، ملازمین اور لوگوں کو ضلع کلکٹر کے دفتر اور احاطے سے باہر نکالا۔ بی ڈی ڈی ایس کی ٹیم نے پوری عمارت کا معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران پولیس ٹیم کو کوئی قابل اعتراض، مشکوک چیز، دھماکہ خیز مواد یا اس سے ملتی جلتی اشیاء نہیں ملی۔ فی الحال ضلع کلکٹر کے دفتر اور علاقے میں پولیس سیکورٹی تعینات ہے اور امن ہے۔ یہ معاملہ فی الحال عوام میں موضوع بحث ہے۔ اسی طرح ججوں کے چمبرس میں بھی بم دھماکہ کی دھمکی دی گئی تھی, آج صبح 10.45 بجے ضلع سیشن کورٹ ناگپور کے ای میل نمبر “mahnagde@mhstate.nic.in” سے ای میل نمبر geta_ramesh@outiook.com پر موصول ہوا۔ اس میں لکھا تھا کہ آپ کی عدالت میں بالخصوص ججوں کے چیمبر میں جلد 4 آر ڈی ایکس آئی ای ڈی دھماکے ہوں گے۔ دوپہر 2 بجے تک سب کچھ خالی کرو! دھمکی کی ای میل موصول ہونے کے بعد پولس بھی حرکت میں آگئی۔ مذکورہ میل کے حوالے سے اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور بم ڈٹیکشن اسکواڈ ناگپور (بی ڈی ڈی ایس) کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ ناگپور کے مقامات کا معائنہ اور معائنہ کیا اور کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔ ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ممبئی ہائیکورٹ سمیت تمام عدالتوں میں بھی ممبئی پولس نے تلاشی لی, لیکن کسی بھی قسم کا کوئی دھماکہ خیز مواد یا دیگر قابل اعتراض شئے برآمد نہیں ہوئی, پولس اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ای میل کس نے ارسال کیا اور اس کا سراغ بھی لگایا جارہا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان