Connect with us
Tuesday,29-September-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بی ایم سی الیکشن میں سماجوادی پارٹی تنہا الیکشن لڑے گی : ابوعاصم اعظمی

Published

on

samajwadi party

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن الیکشن میں پورے دم خم کے ساتھ سماجوادی پارٹی تنہا الیکشن لڑے گی یہ دعوی آج یہاں اسلام جمخانہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کیا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ گوونڈی میں حالات انتہائی خراب ہے یہاں فنڈ کی قلت ہے اور فنڈ کی فراہمی میں دشواریاں پیدا ہوگئی ہے. اگر کوئی فنڈ طلب کیا جاتا ہے تو یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ فنڈ لاڈلی بہن یوجنا میں صرف ہوچکا ہے اور فنڈ میسر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی مہاراشٹر میں ضلع پریشد اور گرام پنچایت الیکشن میں بھی حصہ لے رہی ہیں, اس کے ساتھ ہی بی ایم سی الیکشن میں تقریبا 150 نشستوں پر تنہا الیکشن لڑنے کا اعلان بھی ابوعاصم اعظمی نے کیا ہے۔

ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ 20 نومبر سے سماجوادی پارٹی اپنے امیدواروں کو اے بی فارم تقسیم کریگی اور یہ سلسلہ 5 دسمبر تک جاری رہے گا. سماجوادی پارٹی انہیں حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کریگی جہاں اس کے امیدواروں طاقت کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے کے قابل ہوں گے. انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سماجوادی پارٹی نے گزشتہ مرتبہ کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی سے سمجھوتہ کیا تھا لیکن اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے, انہوں نے کہا کہ اسمبلی الیکشن میں فارم بھرنے کی تاریخ ختم ہونے تک سماجوادی پارٹی کو نشست نہیں فراہم کی گئی اور پھر دو نشست دیدی گئی اور ہم سے اس متعلق کوئی گفتگو تک نہیں کی گئی تھی۔ مہاراشٹر میں الیکشن کیلئے سماجوادی پارٹی فیصلہ لینے کیلئے آزاد ہے اس کی پوری ذمہ داری قومی صدر اکھلیش یادو نے دیدی ہے, انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے سیکولر پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کیلئے مہاراشٹر میں وہ آزاد ہے, لیکن اس کے باوجود کانگریس جیسی بڑی پارٹی کا رویہ اپنے حلیف پارٹیوں کے ساتھ رویہ مناسب نہیں ہے اور عین الیکشن میں سمجھوتہ ختم کر دیا جاتا ہے اس لئے اب سماجوادی پارٹی نے تنہا بی ایم سی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں گرام پنچایت ضلع پریشد الیکشن میں بھی سماجوادی پارٹی کے امیدوار میدان عمل میں ہے اس کے ساتھ ترقیاتی کاموں پر سماجوادی پارٹی الیکشن لڑے گی. انہوں نے کہا کہ گوونڈی میں ایک مرتبہ نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے دورہ کیا تھا تو انہوں نے یہاں کی گلیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا تھا اس کے بعد ہم نے اجیت پوار سے فنڈ کا تقاضہ کیا تو انہوں نے زیادہ فنڈ کی فراہمی کا وعدہ کیا لیکن جب ہم نے ان سے بات کی تو کہا کہ فنڈ لاڈلی بہن یوجنا میں صرف ہوچکا ہے. انہوں نے کہا کہ چار برسوں سے الیکشن منعقد نہیں کیا گیا ہے اس لئے کارپوریشن سمیت دیگر اضلاع کی حالت انتہائی خراب ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ہمارے پارٹی کے سابق اراکین کو فنڈ کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے, لیکن اگر کوئی اجیت پوار گروپ یا شندے سینا میں شمولیت اختیار کرتا ہے وہ کارپوریٹر تھا یا نہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اسے فوری طور پر فنڈ کی فراہمی کی جاتی ہے ایسے میں یہ تفریق ختم ہونی چاہئے اور تمام سابق کارپوریٹروں کو فنڈ کی فراہمی ہونی چاہئے کیونکہ یہ اپنے علاقوں کے مسائل سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گوونڈی شیواجی نگر میں ایس ایم ایس کمپنی کے سبب عوام کی زندگیاں اجیرن ہوکر رہ گئی ہے, ہائیکورٹ نے کمپنی کو مزید مہلت دیدی ہے جس کے سبب عوام میں مایوسی ہے اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ ابوعاصم اعظمی نے ایک مرتبہ پھر سرکار سے ایس ایم ایس کمپنی بند کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے اور اس کیلئے ہر ضروری اقدامات کرنے کا بھی یقین دلایا ہے اور عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ سماجوادی پارٹی کو مستحکم کرے۔ اس پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی لیڈر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی، رکن اسمبلی رئیس شیخ، اور دیگر لیڈران شریک تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان