Connect with us
Wednesday,12-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

مالیگاؤں بلاسٹ کیس : پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت اور دیگر کو بری کرنے کے فیصلے کو چیلنج، متاثرین کے چھ خاندانوں نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی

Published

on

Court-&-Pragiya

ممبئی : 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکے کے متاثرین کے چھ خاندانوں نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں کیس کے سات ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ ان ملزمان میں سابق بی جے پی ایم پی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت بھی شامل ہیں۔ نثار احمد سید بلال اور دیگر پانچ افراد نے اپنے وکیل متین شیخ کے ذریعے ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے۔ انہوں نے عدالت سے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ناسک ضلع کے مالیگاؤں قصبے میں 29 ستمبر 2008 کو ایک مسجد کے قریب موٹر سائیکل سے بندھا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔ اس میں چھ افراد ہلاک اور 101 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا کہ خصوصی این آئی اے عدالت کا 31 جولائی کو سات ملزمان کو بری کرنے کا حکم غلط اور قانونی طور پر ناقص ہے، اس لیے اسے منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے کہا تھا کہ محض شک حقیقی شواہد کی جگہ نہیں لے سکتا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں ملزم کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔ اسپیشل نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے جج اے کے لاہوتی نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر تمام شواہد ملزم کو مجرم قرار دینے کے قابل اعتبار نہیں ہیں۔ سزا کے لیے کوئی معتبر اور ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ یہ دھماکہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے مقامی مسلم کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کی نیت سے کیا تھا۔ این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ملزمین مسلم کمیونٹی کے ایک طبقے کو دہشت زدہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ این آئی اے عدالت نے اپنے فیصلے میں استغاثہ کے کیس اور کی گئی تحقیقات میں کئی خامیوں کو اجاگر کیا تھا اور کہا تھا کہ ملزمین کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔ ٹھاکر اور پروہت کے علاوہ، ملزمان میں میجر رمیش اپادھیائے (ریٹائرڈ)، اجے رہیرکر، سدھاکر دویدی، سدھاکر چترویدی اور سمیر کلکرنی شامل ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فرضی سرٹیفکیٹ و سرکاری دستاویزات تیار کرنے والا گروہ بے نقاب، دستاویزات اور دیگر اسباب بھی ضبط، 4 گرفتار ایک ملزم فرار

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ممبئی کے باندرہ میں کارروائی کرتے ہوئے ۹ کروڑ ۴۰ لاکھ کا ایم ڈی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عنبر ہوٹل باندرہ ایک ٹپری کے سامنے ایک مشتبہ شخص پایا گیا جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے قبضے سے ۲۰۵۰ گرام ایم ڈی میفیڈون برآمد ہوا, جس کے بعد کالا چوکی اے ٹی ایس نے کیس درج کر کے اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ اس مشتبہ دو غیر ملکی خواتین کو بھی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے اس آپریشن میں پیش رفت کے دوران گریٹر نوئیڈا اترپردیش سے ۲۶۸۸ گرام مفیڈون ضبط کیا گیا اور اس معاملہ میں دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا اس معاملہ میں یو پی پولس کی مدد سے جس فیکٹری سے ایم ڈی خریدی جاتی تھی اس پر بھی کریک ڈاؤن کر کے پانچ کروڑ کی ایم ڈی ضبط کی ہے پولس اس معاملہ میں مزید کارروائی کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اے ٹی ایس کا سوشل آپریشن : ‘پاکستان ہندوستان سے بہتر ہے’ پوسٹ پر کریک ڈاؤن، تھانے – ممبرا، پڑگھا اور پالگھر سے 5 مشتبہ افراد سے باز پرس

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر اے ٹی ایس نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی اور متنازع پوسٹ ملک مخالف تبصروب کے خلاف اب اپنا آپریشن شروع کردیا ہے ۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملک مخالف اور اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹس کے سلسلے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ اے ٹی ایس نے ممبرا (تھانے)، پڑگھا اور پالگھر سے پانچ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔ ان کے موبائل فون بھی ایجنسی نے ضبط کر لیے ہیں۔

اے ٹی ایس ذرائع کے مطابق یہ نوجوان 2022 سے ٹیلی گرام گروپ سے وابستہ تھے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس گروپ کو کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک فرد آپریٹ کرتا تھا۔ ایک پوسٹ جس نے تحقیقاتی ایجنسی کی توجہ مبذول کروائی تھی، مبینہ طور پر کہا گیا تھا، “اس وقت ہندوستان میں رہنا بہت خطرناک ہے، پاکستان بہتر ہے۔” کئی دیگر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز پوسٹس کے حوالے سے بھی معلومات سامنے آئی ہیں۔ اے ٹی ایس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ پوسٹیں محض ذاتی رائے کی وجہ سے ہوئی ہیں یا ان کے پیچھے کوئی معقول مقصد تھا۔ کیا حراست میں لیے گئے نوجوانوں کا کسی مشکوک نیٹ ورک سے تعلق تھا؟ کیا وہ ٹیلیگرام گروپ کے ذریعے متاثر یا ہدایت یافتہ تھے؟ اے ٹی ایس پانچوں نوجوانوں سے انفرادی طور پر پوچھ تاچھ کر رہی ہے اور ان کے موبائل فون کی جانچ کر کے ان کے رابطوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا گھاٹکوپر پہاڑی کھسکنے کے سبب ۵ کی موت، مہلوکین کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50,000 روپے کی مالی امداد کا اعلان

Published

on

Kurla-Ghatkoper

ممبئی : کرلا گھاٹکوپر مغربی علاقہ اشوک نگر میں پہاڑی کھسکنے کے سبب علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی اور کہرام مچ گیا۔ فائر بریگیڈ اور پولس نے راحتی کام شروع کردیا ہے۔ ملبہ میں دب کر پانچ مکینو ں کی موت ہوگئی ہے, جبکہ چار زخمیو ں کو اسپتال داخل کیا گیا ہے پولس نے پورے علاقہ میں پہرہ لگا کر مذکورہ بالا علاقہ میں عام لوگوں کے داخلہ پر پابندی عائد کردی ہے۔ ڈی سی پی گنیش شندے نے اس کی تصدیق کی ہے۔ کرلا (مغربی) کے اشوک نگر، پہاڑی نمبر 3 میں آج صبح (12 اگست 2026) کو لینڈ سلائیڈنگ کا ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے میں پہاڑی سے مٹی اور ملبہ دو سے تین مکانات پر گر گیا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ممبئی کی میئرریتو تاوڑے نے فوری طور پر جائے حادثہ کا دورہ کرکے ذاتی طور پر بچاؤ کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ کنبہ سے تعزیت اور تسلی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موجود تمام ایجنسیوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ امدادی کام تیزی سے اور مناسب تال میل کے ساتھ انجام دے۔ اس موقع پر وارڈ کمیٹی کے چیئرپرسن وجیندر شندے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش دھکنے، ‘ایل’ وارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر (انچارج) شری انل جادھو اور دیگر متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔ میئر ریتو تاوڑے نے اس واقعہ میں جان کی بازی ہارنے والے ہر فرد کے لواحقین کو فوری طور پر 4 لاکھ روپے کی مالی امداد اور ہر زخمی کو ان کے علاج کے لیے 50,000 روپے کی طبی امداد دینے کا اعلان کیا۔

واقعہ کی جگہ اور اس تک رسائی کا راستہ انتہائی تنگ ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں صرف ایک شخص ہی گزر سکتا ہے۔ ممبئی فائر بریگیڈ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، ممبئی پولیس، 108 ایمبولینس سروسز اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے افسران، عملہ اور کارکن ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اب تک دو لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ دو زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انتظامیہ امدادی کارروائیوں اور مجموعی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان