(جنرل (عام
ایئر انڈیا-171 طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری… پائلٹس کو پہلے ہی قصوروار ٹھہرایا جا چکا ہے، کوئی قابل ماہر بھی نہیں ہے۔ پائلٹس نے سوال کیوں اٹھایا؟
نئی دہلی : پائلٹوں کی تنظیم، پائلٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا (پی اے آئی) نے ایئر انڈیا-171 طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا خیال ہے کہ پائلٹس کو قصوروار سمجھنا پہلے سے غلط ہے۔ ایسوسی ایشن اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تحقیقات منصفانہ ہوں اور تمام حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی جانب سے ہفتہ کو جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ کے بارے میں پائلٹس کی تنظیم کا ماننا ہے کہ تحقیقات صحیح سمت میں نہیں جا رہی ہیں۔ پی اے آئی نے تحقیقات سے متعلق رازداری پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ تفتیش کے لیے اہل افراد کو شامل نہیں کیا گیا۔ ایک بیان میں، پی اے آئی نے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ تحقیقات انجن کے فیول کنٹرول سوئچ کی نقل و حرکت پر مرکوز تھیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اسے حادثے کی وجہ بھی بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں ایک پائلٹ دوسرے سے پوچھتا ہے، ‘تم نے کیوں کاٹا؟’ دوسرے پائلٹ نے جواب دیا، ‘میں نے ایسا نہیں کیا۔’
رپورٹ میں کہا گیا کہ انجن بند ہو گئے جب ایندھن کے کٹ آف سوئچ ہوا میں ٹرپ ہو گئے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پائلٹس کو قصوروار سمجھ کر تحقیقات کی جا رہی ہیں، جس پر ایسوسی ایشن نے سخت اعتراض کیا ہے۔ اے اے آئی بی کی رپورٹ کے مطابق طیارے کی رفتار 180 ناٹ آئی اے ایس تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے فوراً بعد، ‘دونوں انجنوں کے فیول کٹ آف سوئچز ایک کے بعد ایک آر یو این سے کٹ آف پوزیشن پر منتقل ہو گئے’۔ دونوں سوئچز کے درمیان ایک سیکنڈ کا وقفہ تھا۔ اس کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی منقطع ہونے کی وجہ سے دونوں انجن سست ہو گئے۔ ‘رن’ کا مطلب ہے کہ انجن کو ایندھن مل رہا ہے۔ ‘کٹ آف’ کا مطلب ہے کہ ایندھن کی سپلائی منقطع ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ وال سٹریٹ جرنل نے 10 جولائی کو ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں فیول کنٹرول سوئچز کی غلط حرکت کا ذکر کیا گیا۔ پی اے آئی نے سوال کیا کہ انہیں یہ معلومات کیسے ملی؟ ایسوسی ایشن نے فیول کنٹرول سوئچ گیٹ کی سروس ایبلٹی پر ایک بلیٹن کا بھی حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ ممکنہ خرابی تھی۔
ایسوسی ایشن نے تحقیقات میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔ لیکن، کسی ذمہ دار نے اس پر دستخط نہیں کئے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ انہیں بھی تفتیش میں بطور مبصر شامل کیا جائے۔ ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171 کے دونوں انجنوں میں ایندھن کی سپلائی بند ہو گئی، جس سے پائلٹوں میں الجھن پیدا ہو گئی، جس کے بعد طیارہ احمد آباد میں سیکنڈوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے۔ 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘کاک پٹ وائس ریکارڈنگ’ میں ایک پائلٹ کو دوسرے سے یہ پوچھتے ہوئے سنا گیا کہ اس نے ایندھن کیوں بند کیا، جس پر اس نے جواب دیا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔
لندن جانے والا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ 12 جون کو احمد آباد ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرنے کے فوراً بعد رفتار کھونے لگا اور ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار 242 افراد میں سے ایک کے علاوہ تمام افراد کی موت ہو گئی۔ اس طیارے کے حادثے میں مسافروں اور عملے کے ارکان کے علاوہ مزید 19 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ایک دہائی میں سب سے مہلک طیارہ حادثہ تھا۔ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی رپورٹ میں دیے گئے واقعات کی ترتیب کے مطابق، دونوں فیول کنٹرول سوئچز (انجن کو بند کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں) ٹیک آف کے فوراً بعد ‘کٹ آف’ پوزیشن پر چلے گئے۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کیسے ہوا یا کس نے کیا۔
تقریباً 10 سیکنڈ بعد، انجن 1 کا فیول کٹ آف سوئچ اپنی نام نہاد “رن” پوزیشن پر چلا گیا، اور چار سیکنڈ بعد انجن 2 بھی “رن” پوزیشن پر چلا گیا۔ پائلٹ دونوں انجنوں کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہے، لیکن صرف انجن 1 ہی ٹھیک ہو سکا، جبکہ انجن 2 رفتار بڑھانے کے لیے اتنی طاقت پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ پائلٹوں میں سے ایک نے پریشانی کا الرٹ “مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے” جاری کیا، لیکن اس سے پہلے کہ ہوائی ٹریفک کنٹرولرز جواب دیتے، طیارہ احمد آباد ہوائی اڈے کی حدود سے بالکل باہر گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ کچھ درختوں کو چھوتے ہوئے ہاسٹل میں گرا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
