Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے ضمانت کے حکم میں معمولی کوتاہیوں کی وجہ سے ملزم کو رہا نہ کرنے پر اتر پردیش حکومت کو پھٹکار لگائی۔

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے ضمانتی آرڈر میں کچھ کوتاہیوں کی وجہ سے ملزم کو رہا نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ خدا جانے کتنے لوگ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے آپ کی جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ضلعی جج اس معاملے کی جانچ کرے گا۔ تفتیش میں پتہ چلے گا کہ ملزمان کی رہائی میں تاخیر کیوں ہوئی۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا اس کے پیچھے کوئی غلط نیت تھی؟ عدالت نے ریاستی حکومت کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزمان کو رہا نہ کرنے پر عدالت پہلے ہی برہمی کا اظہار کر چکی ہے۔ عدالت نے متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ یوپی کے ڈی جی (جیل خانہ) کو بھی آن لائن حاضر ہونے کو کہا گیا۔ سماعت کے دوران دونوں افسران موجود تھے۔ سینئر وکیل اور یوپی اے اے جی گریما پرساد نے کہا کہ اس میں ملزم کا کوئی قصور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عدالتی حکم کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضمانتی آرڈر میں چارجنگ یا سزا سنانے والی دفعہ میں کوئی غلطی ہو تو اسے درست کرنے کے لیے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔ اس کیس میں تاخیر ہوئی کیونکہ نچلی عدالت نے وقت پر رہائی کے حکم میں تبدیلی نہیں کی۔

جسٹس وشواناتھن نے اے اے جی کی توجہ غازی آباد عدالت کے رہائی کے حکم کی طرف مبذول کرائی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس میں ملزمان کی رہائی کے لیے تمام ضروری معلومات موجود ہیں؟ جب کہ اے اے جی نے کہا کہ رہائی کے آرڈر میں تمام معلومات موجود ہیں، عدالت نے کہا کہ اسے محض یوپی پرہیبیشن آف غیر قانونی تبدیلی مذہب ایکٹ 2021 کے سیکشن 5(1) کی عدم موجودگی کی وجہ سے رہا نہ کرنا “مضحکہ خیز” تھا۔ عدالت نے کہا کہ ضمانت کے حکم میں دفعہ 3 اور 5 دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دفعہ 5(1) واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے سیکشن 3 کے تحت کسی جرم کی سزا دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کہا، “درخواست گزار کو کل ہماری طرف سے مزید کسی ہدایت کے بغیر رہا کر دیا گیا۔ یہ واضح ہے کہ رہائی کا حکم اس شخص کی شناخت کے لیے کافی تھا۔” عدالت نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 90,000 لوگ یوپی کی جیلوں میں بند ہیں۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ تکنیکی خامیوں کی وجہ سے کتنے لوگ جیلوں میں بند ہوں گے جیسا کہ اس کیس میں سامنے آیا ہے۔ عدالت نے یوپی کے ڈی جی (جیل خانہ) سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مناسب کارروائی کریں۔ ڈی جی (جیل خانہ) نے یقین دلایا کہ وہ متعلقہ سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور انہیں حساس بنائیں گے۔ جسٹس وشواناتھن نے کہا، “سپریم کورٹ نے واضح طور پر جرائم کا ذکر کرتے ہوئے ایک حکم جاری کیا ہے۔ غازی آباد کے ڈسٹرکٹ جج نے بانڈ لے کر رہائی کا حکم دیا ہے۔ لیکن اسے 24 جون (28 دن کے بعد) بغیر کسی قصور کے رہا کیا جاتا ہے! کیا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ذیلی دفعہ (1) کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ہمیں نہیں معلوم کہ کتنے لوگ آپ کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم کس وجہ سے یہ پیغام دے رہے ہیں؟ بھیج رہے ہیں؟”

سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو سخت پھٹکار لگائی۔ عدالت نے کہا کہ معمولی غلطیوں پر لوگوں کو جیلوں میں رکھنا درست نہیں۔ عدالت نے یوپی حکومت سے پوچھا کہ ایسے کتنے لوگ ہوں گے جو اسی طرح کی غلطیوں کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگوں کو ایسی غلطیوں پر جیل میں ڈالا جائے گا تو اس سے غلط پیغام جائے گا۔ عدالت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تفتیش سے پتہ چلے گا کہ ملزمان کی رہائی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ عدالت نے یوپی حکومت کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان