Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

وقف ایکٹ متعصبانہ قانون، جمہوریت پر حملہ… کورٹ میں لڑائی کے ساتھ جمہوری طریقے سے احتجاج بھی قانون واپسی تک جاری رہے گا : آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

Published

on

All-India-Muslim-P.-L.-Board

ممبئی : ممبئی وقف ایکٹ اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی ہے اور اس میں کئی خامیاں ہیں مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لئے تعصب کی بنیاد پر وقف ایکٹ متعارف کروایا گیا ہے, اور یہ جمہوریت کو ختم کرنے والا قانون ہے۔ اس قانون کے خلاف اس وقت احتجاج جاری رہے گا, جب تک یہ واپس نہیں لیا جاتا اس قانون کے مفاذ سے نظم و نسق کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے, اس قانون کے تحت ریاستی سرکاروں کے اختیارات بھی چھین لئے گئے ہیں, اس قسم کا اظہار خیالات آج یہاں جماعت اسلامی کے سربراہ سعادت اللہ حسینی نے کیا ہے, انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے کہا کہ وقف ایکٹ میں جو قانون نافذ کیا گیا ہے, اس پر جے پی سی میں اعتراض کیا گیا تھا اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس پر عدالت نے عارضی راحت ضرور دی ہے, لیکن اس کی واپسی تک ہم اس پر اپنی قانونی اور جمہوری لڑائی جاری رکھیں گے, یہ ایک متعصبانہ قانون ہے, دیگر مذاہب کے لیے علیحدہ قانون موجود ہے۔ اور دستور ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے کہ اپنے رسم و رواج کے معرفت مذہبی ادارے اور عبادتیں کر سکتے ہیں, یہ حق سے محروم کرنے کی کوشش اس ایکٹ میں کی گئی ہے۔ غریبوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی آڑ میں وقف ایکٹ کا اطلاق ایک دھوکہ اور فریب ہے سرکار نے وقف سے متعلق جو بدگمانیاں پیدا کی ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر سرکار وقف ایکٹ کے معرفت غریبوں اور دیگر طبقات کا حق فراہمی کا کام کرنا چاہتی ہے, وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کیوں چھین لیا گیا۔

وقف ایکٹ کی آڑ میں ہندوستانی جمہوریت اور ڈاکٹر باباصاحب امینڈکر کے دستور پرسرکار نے حملہ کیا ہے اور غنڈہ گردی کی جارہی ہے, یہ کہا جارہا ہے کہ یہ قانون تسلیم کرنا ہی ہوگا, یہ قانون صرف مسلمانوں کو ہی متاثر نہیں کرے گا, بلکہ دستور کی روح پر حملہ ہے۔ غریبوں بیواؤں کے اگر وزیر اعظم اتنے ہی ہمدورد ہے تو بلقیس بانو کو انصاف کیوں نہیں دیا۔ گجرات فساد میں احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری مظلومہ انصاف کی متلاشی مظلومہ قبر میں پہنچ گئی, گجرات میں ۱۱ سال میں مسلمانوں پر کیا مظالم کئے گئے, یہ سب جانتے ہیں یہ سرکار مسلمانوں کی آبیاری نہیں بلکہ تباہی چاہتی ہے۔ اپوزیشن نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے لیکن اس کے باوجود اس منظور کیا گیا, ۲۰۱۳ میں وقف قانون متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا, اس قانون کو اس وقت لانے کی کیا ضرورت تھی, جب یہ قانون منظور کیا گیا تو بی جے پی بھی اس کی حامی تھی اس کی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون آرٹیکل ۲۴،۲۵،۱۱ کی صریحا خلاف ورزی ہے جو ہمارے حقوق کی تحفظ کرتا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری فضل الرحمن مجددی نے کہا کہ اب وقف ایکٹ کے معرفت واقف کو یہ ثابت کرنا ہوگا یہ وہ مسلمان ہے اس میں جے پی سی میں باعمل مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ یہ قانون کی خلاف وزری ہے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ پانچ سال مسلمان ہونا شرط ہے, لیکن اب اس میں باعمل اور ثابت کرنا ہوگا کہ آپ مسلمان ہیں اور اسلام پر عمل پیرا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تنازع کی صورت میں اس زمین کو سرکاری زمین قرار دیا جائے گا۔ وقف ایکٹ اور وقف سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اور سوشل میڈیا میں ان غلط فہمیوں کو ہوا دیا گیا۔ میڈیا میں بھی یہ پھیلایا گیا کہ وقف کی ملکیت اتنی زیادہ ہے اور الہ آباد ہائیکورٹ کے کیس میں تو یہ کہا گیا کہ اب وقف کے معاملہ ہائیکورٹ کو ہی سپریم کورٹ انصاف کیلئے جانا پڑا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے یہ ہائیکورٹ کے باہر لب سڑک ایک مسجد کا تنازع تھا, جس کو کاظمی صاحب نے نمازیوں کے لئے تعمیر کروائی تھی اس طرح سے بدگمانیاں پھیلائی جارہی ہے۔

مونسہ بشری عابدی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے جو بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے اس میں مسلم خواتین پیش پیش رہے گی۔ مسلم خواتین کو سرکار لالی پاپ نہیں دے سکتی, کیونکہ وہ سرکار کی نیت اور منشیات کو جانتی ہے۔ انہوں کہا کہ بتی گل سے لے کر ہر طرح کے احتجاج میں خواتین شامل ہے اور ہم اس قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس پریس کانفرنس میں مولانا محمود دریا بادی، امن کمیٹی سربراہ فرید شیخ، سمیت دیگر مذاہب کے نمائندے بھی شریک تھے۔ :

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان