Connect with us
Friday,25-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پراپرٹی سیل اور کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک کیس میں مزید چار گرفتار

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی ) نے 22 مارچ 2026 کو ڈرگ انسپکٹر، گروپ بی، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کیڈر کی 154 آسامیوں کے لیے مہاراشٹر کے چھ امتحانی مراکز میں اسکریننگ ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔ کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج تھااس کے تحت امتحانی سوالیہ پرچہ کی رازداری کی خلاف ورزی اور مالی فائدے کے لیے سوال سیٹ کے غیر مجاز لیک ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔ تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر غیر قانونی طریقوں سے سوالیہ پرچہ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو دو درمیانی افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ماہرین کے ذریعہ منتخب کردہ سوالات کے سیٹوں کی کاپیاں ایم پی ایس سی کے خفیہ کمرے میں تیار کی گئیں اور پھر مالی فائدہ کے لیے غیر قانونی طور پر لیک کی گئیں۔ اس سے پہلے، انڈر سکریٹری ابھیجیت لینڈوے، اسسٹنٹ روم آفیسر وشویشور نکٹے، اسسٹنٹ روم آفیسر گوپال مراٹھے، کوٹیلیہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروین پاٹل، درمیانی امرت پاٹل، لوکیش عرف گورو پاٹل، اور امیدوار ریتوجا پاٹل کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید تفتیش کے نتیجے میں امیدواروں ساجد سانڈھے (سانگلی) اور وجے کنگر (بلڈھانہ) کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے غیر قانونی طریقوں سے سوالات کے سیٹ حاصل کیے، اور سندیپ خلتے اور بھیروناتھ کدم (نوی ممبئی) جنہوں نے ثالث کے طور پر کام کیا، کو پراپرٹی سیل، کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 22 ستمبر، 2026 کو گرفتار کیا۔اس کارروائی کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کمبھارے، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) کرشناکانت اپادھیائے اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈٹیکشن راج تلک روشن کی رہنمائی میں کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سدانند رانے اور انچارج پولس انسپکٹر منگیش دیسائی نے تحقیقات کی قیادت کی اور برانچ کے پولیس افسران نے تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان