Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف شکایات پر غور کرنے کے لوک پال کے حکم پر روک لگا دی اور اسے ایک سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیا ہے۔

Published

on

Supreme-Court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعرات کو ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف شکایات پر غور کرنے کے لوک پال کے حکم پر روک لگا دی۔ عدالت عظمیٰ نے اسے ’’انتہائی پریشان کن‘‘ اور عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والا حکم قرار دیا۔ جسٹس بی آر گاوائی کی سربراہی والی خصوصی بنچ نے نوٹس جاری کیا اور مرکز، لوک پال رجسٹرار اور ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج کے خلاف شکایت درج کرنے والے شخص سے جواب طلب کیا۔ مرکز کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج لوک پال کے تحت نہیں آتے ہیں۔ عدالت نے شکایت کنندہ کو جج کا نام ظاہر کرنے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے شکایت کنندہ کو اپنی شکایت کو خفیہ رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ سپریم کورٹ نے 27 جنوری کو لوک پال کی طرف سے دیے گئے حکم کا خود نوٹس لیا ہے اور کارروائی شروع کی ہے۔ جسٹس گوائی نے لوک پال کے استدلال کو ‘بہت تشویشناک’ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آئین کے نفاذ کے بعد ہائی کورٹ کے جج آئینی حکام ہیں، اس لیے انہیں محض ایک قانونی کارکن کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، جیسا کہ لوک پال کے پاس ہے۔

جسٹس بی آر گاوائی، جسٹس سوریا کانت اور جسٹس اے ایس اوکا کی بنچ نے کہا کہ لوک پال کی طرف سے دی گئی دلیل تشویشناک ہے۔ اس دوران سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے کہا کہ لوک پال کی طرف سے دی گئی تشریح غلط ہے اور ہائی کورٹ کے جج کبھی بھی لوک پال کے ماتحت نہیں ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے لوک پال کی دلیل کو مسترد کر دیا۔ جسٹس گوائی نے لوک پال کے استدلال کو بھی ‘انتہائی تشویشناک’ قرار دیا۔ درحقیقت، لوک پال نے اپنے ایک حکم میں کہا تھا کہ چونکہ ہائی کورٹ کا قیام پارلیمنٹ کے ذریعہ ریاست کے لیے بنائے گئے ایکٹ کے تحت ہوا تھا، اس لیے یہ لوک پال ایکٹ 2013 کی دفعہ 14(1)(ایف) کے تحت آتا ہے۔ لوک پال نے یہ بھی کہا کہ دفعہ 14(1)(ایف) کے تحت “کسی بھی شخص” کی تعریف میں ہائی کورٹ کے جسٹس شامل ہیں۔ تاہم، لوک پال نے اس معاملے میں شکایت کی صداقت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور اسے مزید کارروائی کے لیے سی جے آئی کے پاس بھیج دیا۔ لوک پال کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج اے ایم کر رہے ہیں۔ کھانولکر کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کے نفاذ کے بعد ہائی کورٹ کے ججوں کو آزاد آئینی اتھارٹیز تصور کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ لوک پال کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی کے درمیان آئینی حد کو واضح کرنے کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ کے ججوں کو لوک پال کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ مزید سماعت میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ لوک پال کو ہائی کورٹ کے ججوں کی جانچ کا حق ہے یا نہیں؟ نیز سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی تشریح مستقبل کے لیے ایک مثال قائم کرے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان