Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

گجرات فسادات میں اپنے شوہر کو کھونے کے بعد سپریم کورٹ تک طویل قانونی جنگ لڑنے والی ذکیہ جعفری انتقال کر گئیں۔

Published

on

zakia-jafri

احمد آباد : 2002 کے گجرات فسادات کی گواہ اور کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کا ہفتے کے روز احمد آباد میں انتقال ہوگیا۔ ذکیہ جعفری کی عمر 86 برس تھی۔ بڑھاپے کی وجہ سے انہیں صحت کے کچھ مسائل تھے۔ وہ سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری (68) کی بیوہ تھیں۔ وہ 27 فروری 2002 کو گودھرا واقعے کے بعد گلبرگ سوسائٹی کے قتل عام سے بچ گئیں۔ ان کی بیٹی نسرین امریکہ میں رہتی ہے۔ وہ آخری دم تک اس کے ساتھ تھی۔ ذکیہ جعفری نے 11:30 بجے کے قریب آخری سانس لی۔ سورت میں رہنے والے ان کے بیٹے نے ذکیہ جعفری کی موت کی تصدیق کی۔ ذکیہ کو احمد آباد میں ان کے شوہر کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

ذکیہ جعفری کافی عرصے سے علیل تھیں۔ ذکیہ جعفری، جنہوں نے 2002 کے گجرات فسادات میں گجرات پر ایک بڑی سازش کا الزام لگایا تھا، گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی اپنی قانونی جنگ جاری رکھی۔ ذکیہ نے گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت 64 لوگوں کو دی گئی کلین چٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا؛ تاہم عدالت نے کلین چٹ کو برقرار رکھا تھا۔ ذکیہ عدالت میں ہار گئی۔ احسان جعفری گجرات فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں مارے گئے تھے۔ اس معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے 2017 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں ایک عرضی میں چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ایس آئی ٹی کی طرف سے داخل کی گئی کلوزر رپورٹ کو قبول کرنے کے مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ گجرات فسادات کے بعد ذکیہ جعفری نے 2006 میں گجرات کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو شکایت درج کروائی تھی۔ جس میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات بشمول قتل (دفعہ 302) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ شکایت مودی سمیت مختلف بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے خلاف کی گئی تھی۔ اس وقت مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

ذکیہ جعفری نے سماجی کارکن تیستا سیٹلواد کے ساتھ مل کر یہ چیلنج اٹھایا تھا۔ بعد ازاں ایس آئی ٹی کو جعفری کی طرف سے دائر شکایت کی جانچ کا بھی حکم دیا گیا۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں مودی کو کلین چٹ دی گئی ہے۔ 2011 میں سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنی کلوزر رپورٹ پیش کرے اور عرضی گزار کو رپورٹ پر اپنے اعتراضات داخل کرنے کی آزادی دی گئی۔ سال 2013 میں درخواست گزار نے کلوزر رپورٹ کی مخالفت میں درخواست دائر کی تھی۔ مجسٹریٹ نے ایس آئی ٹی کی کلوزر رپورٹ کو برقرار رکھا اور جعفری کی عرضی کو مسترد کر دیا۔ جس کے بعد ذکیہ نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے 2017 میں مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور جعفری کی درخواست کو خارج کر دیا۔ جعفری نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کے ساتھ مل کر کلین چٹ قبول کرنے کے ایس آئی ٹی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ انصاف کے لیے لڑنے والی ذکیہ جعفری نے آج احمد آباد میں آخری سانس لی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان