Connect with us
Monday,22-June-2026

مہاراشٹر

سیف علی خان پر حملے کے 48 گھنٹے بعد بھی پولیس خالی ہاتھ ہے، 35 ٹیمیں متحرک ہیں لیکن ملزم کا سراغ نہیں مل سکا، ٹھیکیدار سے گھنٹوں پوچھ گچھ کی گئی

Published

on

Saif

ممبئی : بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کو 48 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن پولیس تاحال خالی ہاتھ ہے۔ ممبئی پولیس کی 20 ٹیمیں اور کرائم برانچ کی 15 ٹیمیں ممبئی سے باہر جانے والی تمام سڑکوں پر تعینات ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو سکین کیا جا رہا ہے۔ پالگھر ضلع میں 10 سے زیادہ ٹیمیں تلاش کر رہی ہیں۔ لیکن بدھ-جمعرات کی رات سیف کے گھر میں داخل ہونے والے شخص کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام بار بار کہہ رہے ہیں کہ جیسے ہی لیڈز ملیں گے چیزیں شیئر کی جائیں گی۔

چند روز قبل سیف علی خان کے گھر پر کارپینٹری کا کام کرنے والے ٹھیکیدار سے ممبئی پولیس نے کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تاہم بعد میں اسے چھوڑ دیا گیا۔ اس کی شناخت وارث علی سلمانی کے نام سے ہوئی ہے۔ ٹھیکیدار کی بیوی نے بتایا کہ ان کے شوہر نے سیف علی خان سے بات کی ہے اور وہ بڑھئی کا ٹھیکہ لینے جا رہے ہیں۔ واقعہ سے ایک دن پہلے ٹھیکیدار چار لوگوں کے ساتھ سیف علی خان کے گھر گیا تھا۔ اسے پورے کام کو سمجھنا تھا اور پھر کوٹیشن دینا تھا۔ پولیس نے ٹھیکیدار اور اس کے چار کارپینٹرز سے 24 گھنٹے سے زیادہ پوچھ گچھ کی لیکن کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے پر اسے چھوڑ دیا۔ ممبئی پولیس نے شاہد نامی چور کو بھی گرگاؤں کے فاک لینڈ روڈ سے حراست میں لیا تھا۔ جس کا چہرہ بالکل حملہ آور سے ملتا ہے۔ شاہد کے خلاف اسی طرز کے 4-5 مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ شاہد وہاں نہیں ہے۔ پولیس اب تک 22 سے 25 لوگوں سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔

تحقیقات سے وابستہ ایک ذرائع نے بتایا کہ ملزم کو صبح 8 بجے کے قریب باندرہ اسٹیشن کے قریب دیکھا گیا۔ مزید لیڈز دستیاب نہیں ہیں۔ ایک اور افسر نے بتایا کہ جیسے ہی مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ملزم کا چہرہ, چہرے کی شناخت کرنے والے کمرے کے سامنے آتا ہے، سرخ بتی ٹمٹمانے لگتی ہے۔ بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے سے متعلق ایک نئی ویڈیو جمعہ کو منظر عام پر آئی۔ اس میں مشتبہ حملہ آور ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں سیڑھیاں چڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس کا چہرہ ڈھکا ہوا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو ایک بیگ بھی تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق، اپارٹمنٹ میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ مشتبہ حملہ آور سیف کے فلیٹ میں داخل ہونے سے پہلے تقریباً 1.37 بجے چوری سے سیڑھیاں چڑھتا ہے۔ اس سے قبل، جمعرات کو سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مشتبہ شخص کو سرخ اسکارف اور کندھے پر ایک بیگ پہنے ہوئے، صبح تقریباً 2.30 بجے ستگورو شرن اپارٹمنٹس کی چھٹی منزل سے سیڑھیاں اترتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس فوٹیج میں اس کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا۔ اس کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

مہاراشٹر کے وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے جمعہ کو کہا کہ اداکار سیف علی خان پر چاقو کے حملے کے پیچھے کسی انڈر ورلڈ گینگ کا ہاتھ نہیں ہے۔ قدم نے کہا کہ حملہ کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا مشتبہ شخص کسی گروہ کا رکن نہیں ہے۔ یہ حملہ کسی گروہ نے نہیں کیا ہے۔ ابھی تک سیف آر کی طرف سے پولیس کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ وہ کسی خطرے میں ہے۔ اس نے کوئی حفاظتی احاطہ نہیں مانگا ہے، لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ہم مناسب طریقہ کار پر عمل کریں گے۔ کدم نے کہا کہ ممبئی پولیس نے مشتبہ حملہ آور کے چہرے سے مشابہت رکھنے والے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے، جس کی عمارت سے فرار ہوتے وقت سی سی ٹی وی کیمروں میں تصویر ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور پولیس اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حملے میں کسی مجرم گروہ کے ملوث ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر، وزیر نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں ایسے کسی پہلو کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب تک واردات کے پیچھے صرف چوری کا محرک معلوم ہوتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان