Connect with us
Saturday,22-August-2026

(جنرل (عام

‘نفرت انگیز تقاریر اور غلط بیانی میں فرق ہوتا ہے،’ سپریم کورٹ کا پی آئی ایل پر سماعت سے انکار

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے سیاسی رہنماؤں کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے سے روکنے کے لیے رہنما خطوط جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر کا موازنہ غلط بیانی یا جھوٹے دعوے کے کیس سے نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں فرق ہے۔ عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ کو سمجھ نہیں آئی کہ نفرت انگیز تقریر کیا ہوتی ہے۔ آپ نے مسئلہ سے انحراف کیا۔ درخواست میں نفرت انگیز تقریر کے جرم کو غلط پیش کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شکایت ہے تو آپ قانون کے مطابق معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پی آئی ایل کو سننے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر اور غلط بیانی میں فرق ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ، اس نے ‘ہندو سینا سمیتی’ کے وکیل سے کہا جس نے پی آئی ایل دائر کی تھی کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں نوٹس جاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ ہم آئین ہند کے آرٹیکل 32 کے تحت موجودہ رٹ پٹیشن پر غور کرنے کے لئے مائل نہیں ہیں، جو دراصل ‘مبینہ بیانات’ کا حوالہ دیتی ہے۔ مزید برآں، اشتعال انگیز تقریر اور غلط بیانی میں فرق ہے۔ اگر درخواست گزار کو کوئی شکایت ہے تو وہ قانون کے مطابق معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ وہ کیس کی خوبیوں پر تبصرہ نہیں کر رہا ہے۔ پی آئی ایل نے عدالت سے اشتعال انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے رہنما خطوط وضع کرنے اور امن عامہ اور قوم کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والے بیانات دینے والے افراد کے خلاف تعزیری کارروائی کا حکم دینے کی درخواست کی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل کنور آدتیہ سنگھ اور سواتنتر رائے نے کہا کہ لیڈروں کے تبصرے اکثر اشتعال انگیز ہوتے ہیں، جو ممکنہ طور پر عوامی بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ڈاکٹروں کو ہدایت کی درخواست کی گئی تھی کہ وہ مریضوں کو ان کی تجویز کردہ دوا سے منسلک تمام ممکنہ خطرات اور مضر اثرات کے بارے میں آگاہ کریں۔ جب دہلی ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تو معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ عدالت نے کہا، ‘یہ عملی نہیں ہے۔ اگر اس پر عمل کیا جاتا ہے تو، ایک ڈاکٹر 10-15 سے زیادہ مریضوں کا علاج نہیں کر سکے گا اور کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ اس سے طبی لاپرواہی کے معاملات سے بچنے میں مدد ملے گی۔ بنچ نے کہا کہ ڈاکٹر سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں جس میں طبی پیشہ کو کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے دائرے میں لایا گیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

پروفیسر ڈاکٹر قاضی راشد انور مہاراشٹر آیوش ڈائریکٹوریٹ میں یونانی طب کے ایڈوائزر مقرر، انجمنِ اسلام کے صدرو اراکین کی جانب سے مبارکباد

Published

on

Dr.-Qazi-Rashid-Anwar

ممبئی : طبی میدان اور یونانی نظامِ علاج کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومتِ مہاراشٹر نے انجمنِ اسلام کے زیرِ انتظام چلنے والے ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا طبیہ یونانی میڈیکل کالج و حاجی اے۔ آر۔ کالسیکر طبیہ ہسپتال (ورسووا، ممبئی) کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) قاضی راشد انور صاحب کو ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومتِ مہاراشٹر میں مشیر برائے یونانی طب (ایڈوائزر، یونانی ایکسپرٹ) کے معزز عہدے پر نامزد کیا ہے۔ معزز وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن عالیجناب حسن مشرف صاحب نے اس تقرری کی باضابطہ توثیق کی اور ڈائریکٹر آف آیوش ڈاکٹر (ویدیا) رامن گھونگرالیکر صاحب نے دفتری حکم نامے کے اجراء پر پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی صاحب کی گلپوشی کر کے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

اس اہم اعزاز پر برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے انجمنِ اسلام کے صدر پدم شری جناب ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی صاحب، نائب صدر جناب مشتاق انتولے صاحب، جنرل سکریٹری جناب عقیل حفیظ صاحب اور دیگر اراکین انجمن نیز کالج ھذا كے چیرمین عمران فرنیچر والا نے پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی نئی ذمہ داری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اربابِ انجمن نے کہا کہ یہ تقرری نہ صرف ادارے کے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے بلکہ ریاست میں یونانی طب کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں اس وقت ۳ سرکاری امداد یافتہ (ایڈیڈ) کالجوں سمیت کل سات یونانی میڈیکل کالجز تعلیم و علاج کی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس وسیع تر نیٹ ورک کے باوجود، ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومت مہاراشٹر میں یونانی طریقۂ علاج کا کوئی ماہر یا باقاعدہ افسر موجود نہیں تھا، جس کے باعث پالیسی سازی اور تکنیکی رہنمائی میں ایک دیرینہ خلا محسوس کیا جا رہا تھا۔ علاوہ ازیں حکومتِ مہاراشٹر نے حال ہی میں موضع ساور، تعلقہ مہسلہ (ضلع رائے گڑھ) میں ۱۰۰ نشستوں پر مشتمل پہلے سرکاری یونانی میڈیکل کالج اور ۱۰۰ بیڈز والے ہسپتال کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کی تعلیمی اور تکنیکی تشکیل کے لیے ایک مستند ماہر کی رہنمائی ناگزیر تھی۔ لحاظ اس صورت حال میں حكومت مہاراشٹر كے اس أقدام كو طبی برادری میں بہت قدر و امید كی نگاہ سے دیکھا جا رہا هے

انجمنِ اسلام کے صدر محترم و اراکین نے امید ظاہر کی ہے کہ پروفیسر راشد قاضی کے وسیع تدریسی، اور انتظامی تجربات سے نئے سرکاری کالج کے منصوبے سمیت ریاست بھر میں یونانی طب کو ایک نیا وقار اور نئی جہت ملے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کریلا قریش نگر میں کرین گرنے سے 10 افراد زخمی، بی ایم سی کی امدادی کارروائیاں جاری، زخمیوں کی حالت مستحکم

Published

on

ممبئی : کرلا قریش نگر میں اس وقت کہرام مچ گیا جب یہاں ایک مخدوش پرانی عمارت کی مسماری کے دوران کرین سائٹ پر گر گیا جس کے سبب ۱۰ افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سائن، کرلا بھابھا اسپتال میں داخل کیا گیا۔ سائن اسپتال کے اے ایم او ڈاکٹر نوین کے مطابق، آٹھ زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ان میں جگراللہ نبی خان 63، احمد نیاز احمد 3 ماہ، عتیق الرحمان 60، حاکم شیخ 36، نعمان خان 21، ریحام خان 19، سورج گور 10، اکبر 40، تمام آٹھ زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ کرلا بھابھا اسپتال میں دو زخمیوں کو داخل کرایا گیا۔ اسپتال کے اے ایم او ڈاکٹر شیتل کے مطابق، ان کی شناخت راجو گاڑ 35، آرتی گاؤڈ 30، حکام کے مطابق دونوں متاثرین زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

مسماری کے کام کے دوران استعمال ہونے والی کرین ایم ایم آر ڈی اے نے اس واقعہ کے بارے میں ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا، بلڈنگ نمبر 1، بھنڈاری میٹلرجی، کرلا میں انہدام کا کام کیا جا رہا تھا۔ کام کے لیے ایک کرین کو جائے وقوع پر لایا گیا تھا، تاہم، کرین آپریشن شروع نہیں ہوا تھا۔ جب کرین کو سائٹ پر رکھا جا رہا تھا، وہ جھک کر ملحقہ ڈھانچے کی طرف جا گری۔ مقام پر زمین نرم تھی، جس سے کرین کے استحکام کو متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے اس واقعے میں کچھ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ایم ایم آر ڈی اے زخمیوں کو تمام ضروری طبی امداد اور مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ایم ایم آرڈی اے نے فوری طور پر مطلوبہ مشینری اور افرادی قوت کو متحرک کیا، اور گرنے والی کرین کو ہٹانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ جگہ کو محفوظ بنا لیا گیا ہے اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں مسماری کا کام میسرز سنی کمپنی کر رہی تھی۔ آپریشن کے دوران ہائیڈرولک کرین کا ایک حصہ ہائی ٹینشن ریلوے اوور ہیڈ تاروں پر گر گیا۔

قریشی نگر کی کچی آبادی کرین گرنے سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، گرنے والے سامان نے قریشی نگر میں قریبی جھونپڑیوں، سمراٹ اشوک نگر کی سڑک، مہاڈا کی عمارت کی دیوار اور مہاڈا عمارت کے احاطے کے اندر کھڑی تین سے چار چار پہیہ گاڑیوں کو بھی متاثر کیا۔ اس سے قبل، حکام نے کہا تھا کہ یہ واقعہ اس جگہ پر مجوزہ بے دخلی اور مسمار کرنے کی کارروائی کے سلسلے میں کیے جانے والے کام کے دوران پیش آیا۔ بحالی کا کام جاری ہے۔جائے وقوعہ پر بحالی اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اہلکار یہ معلوم کرنے کے لیے بھی معلومات جمع کر رہے ہیں کہ آیا جائے وقوع پر کوئی اور بھی پھنسا ہوا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محرم فیاض کی زہریلی سازش کا عید میلاد النبی کے جلوس پر اثر، نیازو لنگر کی تقسیم پر پولیس کی نظر، اصولوں کی پابندی اور ٹریفک قوانین پر عمل کی اپیل

Published

on

Eid Milad-un-Nabi

ممبئی : عید میلاد النبی جلوس کے پیش نظر ممبئی پولس نے الرٹ جاری کیا ہے۔ جلوس محمد ی پر امسال محرم الحرام میں فیاض پریم جی کی زہریلی سازش کا بھی اثر ہوگا, اس لئے جلوس میں نیاز اور لنگر کی تقسیم پر پولس کی نظر ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی پولس نے جلوس انتظامیہ اور شرکا جلوس سے اپیل کی ہے کہ وہ اشیا خوردنوش کھانا پانی تقسیم کرنے سے گریز کرے۔ کیونکہ اس کا سراغ و پتہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ کس نے یہ شئے تقسیم کی ہے۔ اس لئے اب پولس اسٹیشنوں میں ان تنظیموں کا اندراج بھی ہوگا۔ جو غذائی اجناس تقسیم کرتی ہے, اس قسم کا اظہار خیالات خلافت کمیٹی کی میٹنگ میں ایڈیشنل کمشنر سینٹر ریجن وکرم دی مانے نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جلوس میں اصول و ضوابط کا خیال رکھنا لازمی ہے, اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی۔ ڈی جے پر مکمل طور پر پابندی ہے اور اس لئے ڈی جے لانے والوں پر کارروائی ہوگی۔ منتظمین کا یہ فرض ہے کہ وہ ڈی جے لانے والوں کو سمجھائیں کیونکہ بعد میں اسے نکالنا ہوتا ہے اور بدمزگی پیدا ہوتی ہے۔ ایڈیشنل کمشنر شلیش ساؤتھ ریجن نے کہا کہ یوں تو جلوس میں اصول و ضوابط کا خیال رکھا جاتا ہے, لیکن اس کے باوجود اس میں موثر تبدیلی کی ضرورت ہے اتنا ہی جلوس میں جھنڈے اور ٹرکوں کی سجاؤٹ کی لمبائی بھی طے ہونی چاہیے۔ گزشتہ سال اس معاملہ میں کھڑا پارسی مجسمہ کے پاس پریشانی پیش آئی تھی اس خلافت کمیٹی کی اہم میٹنگ میں حضرت مولانا معین الدین اشرف المعرف معین میاں نے بھی نوجوانوں سے جلوس میں غیر شرعی امور اور خرافات سے اجتناب کرنے موٹر سائیکل پر ٹریپل سواری اور دیگر اصولوں کی خلاف ورزی سے گریز کرنے دھینگا مستی سے بھی اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت مناتے ہیں۔ اس میں ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس جلوس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو اور دل آزار نعروں سے بھی گریز کیا جائے۔ اگر کوئی غیر شرعی حرکت میں ملوث پایا گیا تو اس پر انتظامیہ اور پولس کارروائی کرے گی۔ اس بات کو بھی شرکا جلوس کو ذہن نشین رکھنا ہوگا جو اصول و ضوابط طے کئے گئے ہیں اور رہنمایانہ اصولوں کی پابندی لازمی ہے۔ اس میٹنگ میں خلافت کمیٹی کے کارگزار صدر سرفراز آرزو نے بھی خطاب کیا اور خلافت کی تاریخ سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ اس میٹنگ میں رکن اسمبلی امین پٹیل، منوج جامستکر، جاوید جنجا سمیت کارپوریٹر نے بھی خطاب کیا۔ میٹنگ میں پولس کے اعلیٰ افسران اور سینئر پولس انسپکٹر اے سی پی تنویر شیخ بھی موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان