Connect with us
Saturday,19-April-2025
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی ریلوے کے ممبئی سنٹرل ڈویژن کی طرف سے چرنی روڈ اسٹیشن پر گنپتی وسرجن کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

Published

on

railway

ممبئی، 17/18 ستمبر 2024 کو گنپتی ویسرجن کے لیے گرگام چوپاٹی پر آنے والے عقیدت مندوں کے لیے چرنی روڈ اسٹیشن پر بہت زیادہ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے، ویسٹرن ریلوے کے ممبئی سینٹرل ڈویژن نے بھیڑ کو منظم کرنے اور مسافروں کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے کئی انتظامات کیے ہیں۔

شری ونیت ابھیشیک، چیف پبلک ریلیشن آفیسر، ویسٹرن ریلوے، ممبئی سنٹرل ڈویژن کے ذریعہ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چرنی روڈ اسٹیشن پر بھیڑ کی نگرانی اور مناسب انتظام کو یقینی بنانے کے لیے اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں گے۔ بغیر کسی رکاوٹ کے مختلف راستوں پر مسافروں کی زیادہ آسان نقل و حرکت کے لیے خصوصی یک طرفہ راستے بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی دروازے کے علاوہ بال بھون میں ایک اور داخلہ بھی کھولا جائے گا، تاکہ گرگاؤں چوپاٹی سے آنے والے مسافر لوکل ٹرین پکڑنے کے لیے پلیٹ فارم نمبر 1 پر آسانی سے پہنچ سکیں۔

شری ونیت نے مزید بتایا کہ مغربی ریلوے چرچ گیٹ اور ویرار کے درمیان 17 اور 18 ستمبر 2024 کی درمیانی رات کو 8 اضافی خدمات چلائے گا۔ ان اضافی 8 سروسز میں سے ڈاؤن سلو ٹرین سروسز کو چرنی روڈ اسٹیشن پر اضافی اسٹاپیج دیا جائے گا، تاکہ مسافر بغیر کسی پریشانی کے آرام سے سوار ہو سکیں اور زیادہ سے زیادہ مسافر رات کو اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔ 17 ستمبر 2024 کو، 38 فاسٹ اپ لوکل ٹرین خدمات چرچ گیٹ اور ممبئی سنٹرل اسٹیشن کے درمیان تمام اسٹیشنوں پر 17.00 بجے سے 20.30 بجے تک رکیں گی۔ پلیٹ فارم نمبر 2 اور 3 پر آنے اور جانے والے مسافروں کے ہجوم سے بچنے کے لیے۔ 17 ستمبر 2024 کو 17.00 بجے سے 22.00 بجے تک چرنی روڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 پر 88 یوپی کی سست لوکل ٹرین خدمات کو نہیں روکا جائے گا۔ باقاعدہ ٹکٹ کاؤنٹر کے علاوہ اسٹیشن اور بال بھون کے راستے پر اضافی اے ٹی وی ایم مشینوں اور سہولت کاروں کا انتظام کیا جا رہا ہے، تاکہ مسافروں کو ٹکٹ خریدنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تمام ضروری معلومات اور اعلانات باقاعدگی سے کیے جائیں گے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے اسٹیشن پر اہم معلومات دکھانے والے سگنل اور الیکٹرانک ڈسپلے یونٹ لگائے جا رہے ہیں۔

شری ونیت نے کہا کہ ان انتظامات کے علاوہ ویسٹرن ریلوے اسٹیشن پر اور بال بھون جانے اور جانے والے راستے پر وافر مقدار میں پانی کی بوتلوں اور اسنیکس کی فروخت کو بھی یقینی بنائے گا۔ چرنی روڈ اسٹیشن پر بی ایم سی اور ویسٹرن ریلوے کی جانب سے ایمبولینس کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ایمرجنسی میڈیکل روم میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف وغیرہ کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ چرنی روڈ اسٹیشن پر روشنی اور پنکھوں کے مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پلیٹ فارم 1 کے ایسکلیٹرز پر بھی یک طرفہ حرکت ہوگی۔

سیکورٹی کے نقطہ نظر سے، چرنی روڈ اسٹیشن پر مسافروں کی آمد کو کنٹرول کرنے کے لیے تقریباً 400 آر پی ایف اور جی آر پی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی کی صورت میں مدد کے لیے آر پی ایف اور جی آر پی کے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے جائیں گے۔ ویسٹرن ریلوے آر پی ایف بیریکیڈنگ اور قطار مینیجرز کے لیے مناسب انتظامات کرے گا اور ساتھ ہی میگا فون کے ذریعے باقاعدہ اعلانات کرے گا۔ اسٹیشن پر فائر بریگیڈ کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ ویسٹرن ریلوے آر پی ایف زیادہ سے زیادہ پولیس فورس کی تعیناتی کے لیے ریاستی پولیس اور جی آر پی کے ساتھ تال میل کر رہا ہے۔

شری ونیت نے بتایا کہ ریلوے کے اضافی افسران اور عملہ 17 اور 18 ستمبر 2024 کی درمیانی رات چرنی روڈ اسٹیشن پر چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر رہے گا، جبکہ کنٹرول اور کمانڈ سینٹر اسٹیشن اور کنٹرول روم دونوں پر کام کرے گا۔ حال ہی میں ممبئی سنٹرل ڈویژن کے ڈویژنل ریلوے منیجر شری نیرج ورما نے بھی افسران اور عملے کے ساتھ اسٹیشن کا معائنہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ضروری سہولیات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ویسٹرن ریلوے گنپتی ویسرجن کے لیے گرگام چوپاٹی پر آنے والے ہزاروں عقیدت مندوں کے لیے مسافروں کی سہولت اور ہموار ہجوم کے انتظام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

(جنرل (عام

وقف ایکٹ متعصبانہ قانون، جمہوریت پر حملہ… کورٹ میں لڑائی کے ساتھ جمہوری طریقے سے احتجاج بھی قانون واپسی تک جاری رہے گا : آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

Published

on

All-India-Muslim-P.-L.-Board

ممبئی : ممبئی وقف ایکٹ اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی ہے اور اس میں کئی خامیاں ہیں مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لئے تعصب کی بنیاد پر وقف ایکٹ متعارف کروایا گیا ہے, اور یہ جمہوریت کو ختم کرنے والا قانون ہے۔ اس قانون کے خلاف اس وقت احتجاج جاری رہے گا, جب تک یہ واپس نہیں لیا جاتا اس قانون کے مفاذ سے نظم و نسق کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے, اس قانون کے تحت ریاستی سرکاروں کے اختیارات بھی چھین لئے گئے ہیں, اس قسم کا اظہار خیالات آج یہاں جماعت اسلامی کے سربراہ سعادت اللہ حسینی نے کیا ہے, انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے کہا کہ وقف ایکٹ میں جو قانون نافذ کیا گیا ہے, اس پر جے پی سی میں اعتراض کیا گیا تھا اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس پر عدالت نے عارضی راحت ضرور دی ہے, لیکن اس کی واپسی تک ہم اس پر اپنی قانونی اور جمہوری لڑائی جاری رکھیں گے, یہ ایک متعصبانہ قانون ہے, دیگر مذاہب کے لیے علیحدہ قانون موجود ہے۔ اور دستور ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے کہ اپنے رسم و رواج کے معرفت مذہبی ادارے اور عبادتیں کر سکتے ہیں, یہ حق سے محروم کرنے کی کوشش اس ایکٹ میں کی گئی ہے۔ غریبوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی آڑ میں وقف ایکٹ کا اطلاق ایک دھوکہ اور فریب ہے سرکار نے وقف سے متعلق جو بدگمانیاں پیدا کی ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر سرکار وقف ایکٹ کے معرفت غریبوں اور دیگر طبقات کا حق فراہمی کا کام کرنا چاہتی ہے, وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کیوں چھین لیا گیا۔

وقف ایکٹ کی آڑ میں ہندوستانی جمہوریت اور ڈاکٹر باباصاحب امینڈکر کے دستور پرسرکار نے حملہ کیا ہے اور غنڈہ گردی کی جارہی ہے, یہ کہا جارہا ہے کہ یہ قانون تسلیم کرنا ہی ہوگا, یہ قانون صرف مسلمانوں کو ہی متاثر نہیں کرے گا, بلکہ دستور کی روح پر حملہ ہے۔ غریبوں بیواؤں کے اگر وزیر اعظم اتنے ہی ہمدورد ہے تو بلقیس بانو کو انصاف کیوں نہیں دیا۔ گجرات فساد میں احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری مظلومہ انصاف کی متلاشی مظلومہ قبر میں پہنچ گئی, گجرات میں ۱۱ سال میں مسلمانوں پر کیا مظالم کئے گئے, یہ سب جانتے ہیں یہ سرکار مسلمانوں کی آبیاری نہیں بلکہ تباہی چاہتی ہے۔ اپوزیشن نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے لیکن اس کے باوجود اس منظور کیا گیا, ۲۰۱۳ میں وقف قانون متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا, اس قانون کو اس وقت لانے کی کیا ضرورت تھی, جب یہ قانون منظور کیا گیا تو بی جے پی بھی اس کی حامی تھی اس کی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون آرٹیکل ۲۴،۲۵،۱۱ کی صریحا خلاف ورزی ہے جو ہمارے حقوق کی تحفظ کرتا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری فضل الرحمن مجددی نے کہا کہ اب وقف ایکٹ کے معرفت واقف کو یہ ثابت کرنا ہوگا یہ وہ مسلمان ہے اس میں جے پی سی میں باعمل مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ یہ قانون کی خلاف وزری ہے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ پانچ سال مسلمان ہونا شرط ہے, لیکن اب اس میں باعمل اور ثابت کرنا ہوگا کہ آپ مسلمان ہیں اور اسلام پر عمل پیرا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تنازع کی صورت میں اس زمین کو سرکاری زمین قرار دیا جائے گا۔ وقف ایکٹ اور وقف سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اور سوشل میڈیا میں ان غلط فہمیوں کو ہوا دیا گیا۔ میڈیا میں بھی یہ پھیلایا گیا کہ وقف کی ملکیت اتنی زیادہ ہے اور الہ آباد ہائیکورٹ کے کیس میں تو یہ کہا گیا کہ اب وقف کے معاملہ ہائیکورٹ کو ہی سپریم کورٹ انصاف کیلئے جانا پڑا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے یہ ہائیکورٹ کے باہر لب سڑک ایک مسجد کا تنازع تھا, جس کو کاظمی صاحب نے نمازیوں کے لئے تعمیر کروائی تھی اس طرح سے بدگمانیاں پھیلائی جارہی ہے۔

مونسہ بشری عابدی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے جو بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے اس میں مسلم خواتین پیش پیش رہے گی۔ مسلم خواتین کو سرکار لالی پاپ نہیں دے سکتی, کیونکہ وہ سرکار کی نیت اور منشیات کو جانتی ہے۔ انہوں کہا کہ بتی گل سے لے کر ہر طرح کے احتجاج میں خواتین شامل ہے اور ہم اس قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس پریس کانفرنس میں مولانا محمود دریا بادی، امن کمیٹی سربراہ فرید شیخ، سمیت دیگر مذاہب کے نمائندے بھی شریک تھے۔ :

Continue Reading

جرم

ممبئی انسانی اسمگلنگ ریکیٹ کا پردہ فاش مغربی بنگال اور حیدرآباد گرفتاری

Published

on

Crime

ممبئی : ممبئی وڈالاٹی ٹی پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے کیس میں حیدر آباد، مغربی بنگال سے بچہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وڈالا ٹی ٹی پولیس اسٹیشن میں شکایت کنندہ امر دھیرنے 65 سالہ نے خاکروب نے 5 اگست 2024 ء کو اپنے نواسہ کی گمشدہ کی شکایت درج کروائی تھی, اس کے بعد یہ معلوم ہوا کہ انیل پورنیہ اسما شیخ، شریف شیخ، آشا پوار نے ایک لاکھ 60 ہزار روپے میں بچہ کو فروخت کیا ہے۔ اس کے بعد ملزم انیل پورنیہ،اسما شیخ، شریف شیخ کے خلاف انسانی اسمگلنگ کا کیس درج کر لیا گیا تھا ملزم انیل پورتیہ، اسما شیخ کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا, اس میں ملوث ملزمہ آشا پوار بھی ملوث تھی۔ اس کے بعد پولیس نے آشا پوار کی تلاش شروع کر دی اور حیدر آباد سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس تفتیش میں ملزمین نے بتایا کہ متاثرہ بچہ کو بھونیشور اسٹیشن اڑیسہ میں ریشماں نامی خاتون نے فروخت کیا, اس کی ٹیکنیکل تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ ملزمہ یہاں بھونیشور میں دانت کے اسپتال میں زیر ملازمت ہے, اور یہاں ہائی ٹیک اسپتال میں کام کرتی ہے, لیکن بھونیشور میں جب پولیس ٹیم پہنچی تو اس نے یہاں سے ترک ملازمت کر لی تھی, اور پھر معلوم ہوا کہ مطلوب ملزمہ مغربی بنگال میں ہے۔ اس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش شروع کر دی اور پولیس نے مغوی بچہ اور دیگر تین بچوں کو برآمد کر لیا۔ اس ایک ساتھ ہی ریشماں سنتوش کمار بنرجی 43 سالہ کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا, اس کے ساتھ ہی تین سال کے بچہ کو عدالت میں حاضر کیا گیا تو بچہ کی تحویل پولیس کو دیدی گئی تمام مرحلہ مکمل کرنے کے بعد پولیس نے بچہ کا میڈیکل کروایا تو اس کے جسم پر زخموں کے نشان پائے گئے۔ ملزمین نے بچہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے اس لئے بچہ پر ظلم و ستم کا کیس بھی درج کیا گیا, یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر وویک پھنسلکر اور اسپیشل کمشنر دیوین بھارتی ایڈیشنل کمشنر انیل پارسکر اور ڈی سی پی راگسودھا کی ایما پر کی گئی۔

Continue Reading

جرم

میرابھائندرتقریبا 32 کروڑ کی منشیات ضبطی، ایک ہندوستانی خاتون سمیت دو نائیجرائی گرفتار، سوشل میڈیا پر گروپ تیار کر کے ڈرگس فروخت کیا کرتے تھے

Published

on

drug peddler

ممبئی : میرا بھائیندر پولیس نے ایک ہندوستان خاتون سمیت دو غیر ملکی ڈرگس منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ میرا بھائیندر کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ کاشی میرا میں شبینہ شیخ کے مکان پر منشیات کا ذخیرہ ہے اور وہ منشیات فروشی میں بھی ملوث ہے، اس پر پولیس نے چھاپہ مار کر 11 کلو 830 گرام وزن کی کوکین برآمد کی ہے۔ اس کے خلاف نوگھر پولیس میں این ڈی پی ایس کے تحت معاملہ درج کر لیا گیا، گرفتار ملزمہ نے پولیس کو تفتیش میں بتایا کہ وہ یہ منشیات غیر ملکی شہری انڈے نامی شخص سے خریدا کرتی تھی اور انڈری میرا روڈ میں ہی مقیم ہے اسے بھی گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے بھی منشیات ضبط کی گئی اور نائیجرائی نوٹ 1000 برآمد کی گئی اور 100 امریکن ڈالر کی 14 نوٹ بھی ملی ہے۔ اس معاملہ میں تفتیش کے بعد دو نائیجرنائی اور ایک ہندوستانی خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کے قبضے سے دو کروڑ تیس لاکھ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 100 امریکن ڈالر کی 14 نوٹ چار موبائل فون اس کے علاوہ 22 کروڑ تیس لاکھ روپے کی منشیات ضبطی کا بھی دعوی کیا ہے, یہ کارروائی میرا بھائیندر پولیس کمشنر مدھو کر پانڈے ایڈیشنل کمشنر دتاترے شندے، اویناش امبورے سمیت کرائم برانچ کی ٹیم نے انجام دی ہے۔ کرائم برانچ نے بتایا کہ یہ کوکین یہ نائیجرائی پیٹ میں چھپا کر یہاں لایا کرتے تھے۔ یہ کوکین ساؤتھ امریکہ میں تیار کیا جاتا ہے، یہ کوکین ہوائی جہازکے معرفت انسانی جسم میں چھپا کر لایا جاتا ہے۔ پہلے یہ ممبئی ائیر پورٹ پر پہنچایا جاتا ہے اور پھر ممبئی میں سڑکوں کے راستے سے متعدد علاقوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد گروپ تیار کرکے ملزمین ڈرگس فروخت کیا کرتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com