سیاست
حکمراں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کے ریمارکس پر لوک سبھا میں ہنگامہ بڑھتا جا رہا ہے۔
نئی دہلی : بدھ کو بی جے پی رکن پارلیمنٹ ابھیجیت گنگوپادھیائے کے تبصرے پر لوک سبھا میں آج زبردست ہنگامہ ہوا۔ پوری اپوزیشن بی جے پی ایم پی اور حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ ایوان میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے غلط زبان کا استعمال کیا ہے۔ ہم سب اس عظیم ایوان کے ممبران ہیں، کوئی بھی رکن ایسے تبصرے کرتا ہے جس سے ایوان کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے، یہ سب کے لیے انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ اگر کوئی رکن چاہے حکمران جماعت کا ہو یا اپوزیشن کا، ایسے تبصرے کرتا ہے جس سے ایوان کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے، تو آپ وقتاً فوقتاً کارروائی کرتے ہیں۔ آپ اسے ایوان کی کارروائی سے ہٹا دیں، باقی سپیکر کے پاس ہے۔
وزیر پارلیمانی امور نے مزید کہا کہ اگر کوئی رکن ایسے تبصرے کرتا ہے تو سپیکر کے پاس اس کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے۔ میں اپنی حکومت کی جانب سے یہ کہنا چاہتا ہوں، میں تفصیل سے نہیں کہہ رہا، میں ایوان میں نہیں تھا۔ یہ واقعہ ان کے راجیہ سبھا آنے سے پہلے ہوا تھا۔ اگر میں چاہتا تو دفاع کر سکتا تھا، میں اس میں نہیں جانا چاہتا کہ ہمارے ممبر کو کس نے اکسایا۔ تاہم جمعرات کو جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی، ایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ ایوان کے وقار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ وہ فیصلہ دے رہے ہیں اور سب کو بیٹھ کر اسے قبول کرنا چاہیے۔ اس ایوان کا بڑا وقار، اعلیٰ روایات اور روایات ہیں۔ ہم سب خوش قسمت ہیں کہ عوام نے ہمیں 18ویں لوک سبھا کے لیے منتخب کیا ہے۔ تمام ارکان ایوان میں اپنے خیالات کا اظہار کریں، بحث میں حصہ لیں اور کوئی ایسا تبصرہ نہ کریں جو پارلیمانی روایات کے مطابق ہو۔ روایت ایسی ہونی چاہیے جیسے دنیا میں ہندوستان کی ساکھ ہو۔ ہم ایسے الفاظ کو ختم کر دیتے ہیں، آئندہ ہمیں بیٹھ کر ایسی باتوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ آسن کو کبھی بھی بحث یا چیلنج نہ کریں۔ ہم جتنا ہو سکے ایوان کا وقار برقرار رکھیں گے۔
یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مغربی بنگال کے تملوک سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ابھیجیت گنگوپیادھیائے ایوان میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اقتصادی مسائل پر بات کر رہے تھے۔ اس دوران جب کچھ اپوزیشن ارکان نے تبصرہ کیا تو گنگوپادھیائے نے کہا کہ پڑھے لکھے ارکان کو اس موضوع کے بارے میں علم نہیں ہے اور انہیں سیکھنا چاہئے۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے ‘گوڈسے’ کے بارے میں ایک تبصرہ کیا، جس پر گنگوپادھیائے نے ان کے لیے قابل اعتراض لفظ استعمال کرتے ہوئے جوابی حملہ کیا۔ اپوزیشن ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج ابھیجیت گنگوپادھیائے نے وہ تبصرہ کیا، جس کی وجہ سے اپوزیشن ناراض ہوگئی۔
جب گورو گوگوئی سمیت اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ کرنا شروع کیا تو مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے کہا کہ اگر رکن نے کوئی غیر پارلیمانی لفظ استعمال کیا ہے تو کرسی اس پر فیصلہ کرے گی۔ لیکن گورو گوگوئی کو بھی بجٹ پر بحث کے دوران اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔ دوسری طرف اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان گنگوپادھیائے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ اس دوران لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے نشست سنبھالی اور تنازعہ کی وجہ جاننا چاہا۔ گوگوئی نے کہا کہ ایوان میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لیے رکن پارلیمنٹ کو معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر میگھوال کو بھی حکومت کی طرف سے معافی مانگنی چاہئے تھی۔ برلا نے بعد میں کہا کہ تنازعہ کے لفظ کو کارروائی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے ایسے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں جنہیں کسی کو نہیں لانا چاہیے۔ قائد ایوان یا کسی بھی رکن کے بارے میں کچھ بھی کہے بغیر ثبوت کے نہ کہا جائے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔
سیاست
پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”
اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”
اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
