Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

NEET پیپر لیک معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دوبارہ امتحان کی ہدایات جاری کرنے کی درخواست

Published

on

supreme-court

نئی دہلی: NEET امتحان میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ سے NEET یو جی 2024 کا نتیجہ واپس لینے اور دوبارہ امتحان منعقد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ این ای ای ٹی کے امتحان میں من مانے طریقے سے رعایت دی گئی ہے اور اس کی وجہ سے ایک ہی سنٹر کے 67 طلبہ کو 720 کے برابر نمبر ملے ہیں۔ اس معاملے کی ایس آئی ٹی سے جانچ کی درخواست کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے گریس نمبر دیے ہیں اور یہ سب متعصبانہ ہے اور یہ کچھ طلبہ کو بیک ڈور انٹری دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ایک مخصوص مرکز پر امتحان دینے والے 67 طلبہ نے 720 تک پورے نمبر حاصل کیے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ امتحان 5 مئی کو منعقد ہوا تھا اور پیپر لیک ہونے کی کئی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں پہلے ہی دو درخواستیں زیر التوا ہیں اور پیپر لیک ہونے کی بنیاد پر امتحان منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلی درخواست پر سماعت کے دوران نوٹس بھی جاری کیا تھا، حالانکہ اس وقت سپریم کورٹ نے نتیجہ پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔

موجودہ عرضی تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے رہنے والے عبداللہ محمد فیض اور شنک روشن موہدین نے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست طلبہ کے مفاد کے لیے دائر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ معاملے کی جانچ ہونے تک NEET یو جی 2024 کی کونسلنگ پر روک لگائی جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امتحان میں بدعنوانی کے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرائی جائے اور اس کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ 3 جون کو سپریم کورٹ میں این ای ای ٹی (قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ) امتحان میں پیپر لیک ہونے کے معاملے میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی، جس میں اس امتحان کو دوبارہ منعقد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ عرضی گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 مئی کو ہونے والے NEET یو جی امتحان کے پرچے لیک ہو گئے تھے، اس لیے دوبارہ امتحان کرانے کی ہدایات دی جائیں۔ اس سے متعلق ایک اور عرضی 17 مئی کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے امتحانی نتائج پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس معاملے میں چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے درخواست گزار کی درخواست پر مدعا علیہ کو نوٹس جاری کیا تھا اور سماعت کے لیے جولائی کی تاریخ مقرر کی تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان