(جنرل (عام
مولانا حلیم اللہ قاسمی کا فساد متاثرہ علاقے کا دورہ ، مساجد کی مرمت اور متاثرین کو امداد کی یقین دہانی.
ممبئی 15؍سمتبر: گزشتہ دنوں مہاراشٹر کے ستارا ضلع کے تعلقہ کراڑ کے مضافات پوسے ساوڑی گائوں میں سوشل میڈیا پر مبینہ متنازعہ پوسٹ وائرل ہونے کی وجہ سے دو فرقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ جس کے بعد شرپسند بلوائیوں نے مسجدوںں کی بے حرمتی کی اور مسجدکے سازوسامان باہر نکال کر آگ لگا دی، مسلمانوں کی دوکان،مکان اور گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا اسی کے ساتھ ساتھ مسجد میں موجود نمازیوں کو لاٹھی ڈنڈے وغیرہ سے زد و کوب کیا ،جس میں آٹھ افرادا شدیدزخمی ہوگئے ان کو کرشنا ہاسپٹل کراڑمیں ایڈمیٹ کیا گیا،شرپسندوں کے تشدد کی وجہ سے ایک مسلم جوان(نور الحسن ) جاں بحق بھی ہوگیا۔
واقع کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کےجنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی علاقہ کے ذمہ دار الحاج ڈاکٹر عبد المنان شیخ (نائب صدر جمعیۃعلماء مہاراشٹر)،حافظ محمد علی ملا (صدر جمعیۃعلماء شہر سانگلی) اور قاری محمد ادریس انصاری (صدر جمعیۃعلماء شہر پونے) سے رابطہ میں تھے اور حالات پر نظر بنائے ہوئے تھے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بروز جمعرات مولانا حافظ مسعود احمد حسامی صدر جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی ایماء پر متاثرہ علاقے کا چار رکنی ریاستی وفد کے ساتھ دورہ کیا ،متاثرین سے مل کر ان کی داد رسی کی ،حوصلہ اور تسلی دیا ۔
ریاستی وفد نے شہید ہونے والے نور الحسن لیاقت (26؍سال) کے گھر پر پہونچ کر مرحوم کے والد حافظ لیاقت علی سے ملاقات کی ،اورتعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے صبر کی تلقین کی ۔نیز نذر آتش کی گئی مسجدوں کا معائنہ کرنا چاہا لیکن مسجدوں کے ارد گرد پولس کا سخت پہرہ تھا ،وہاں پر تعینات پولس اور ڈی وائی ایس پی ایشوینی نے معائنہ کی اجازت نہیں دی ۔پھر اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے پر انہوں نے ایک پی آئی کو بھیجا ،جس نے وفد سے شہید کے گھر پر ملاقات کی اور مسجد وغیرہ کا معائنہ کروایا ، وفد نے مسجد کے اندر داخل ہوکر مسجد کو دیکھا ،جو انتہائی نا گفتہ بہہ حالت میں تھی ۔دیواروں اور فرش پر جا بجا خون کے چھینٹے ،وضوخانہ ٹوٹا ہوا،طہارت خانہ کے دروازے اور اس کے اندر توڑ پھوڑ ، مسجد کی قالین اور چٹائی کو باہر نکال کر مسجد کے پاس موجود موٹر بائیک کے ساتھ آگ لگادی گئی ۔اور پولس نے پنچ نامہ سے پہلے اس خاکستر قالین چٹائی اور موٹر بائیک کو دور جگہ منتقل کر کے اس جگہ کو دھوکر صاف کردیا تھا ۔
رپورٹ میں یہ بھی ہے کہ منظم سازش کے تحت راتوں رات یہ حملہ کیا گیا جس میں دو ہزار کے قریب باہر کے بلوائیوں کو مختلف کروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر گروپ میں مقامی افراد ان کی رہنمائی اور نشاندہی کے لئے شامل تھے۔ رپورٹ لکھے جانے تک گائوں کے فسادی مفرور بتائے جارہے ہیں ،جب تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی ہے اس وقت تک حالات میں بہتری کی امید نہیں ۔فی الحال بستی و اطراف کے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پایا جا رہا ہے۔
ریاستی وفد کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ بستی اور اطراف کی بستیوں کا ماحول بہت خراب ہے ،شرپسندوں کی جانب سے پورے علاقہ کو آگ میں جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔فساد کے دوران بلوائیوں نے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی جائیدادوں کا نقصان پہونچایا جن میں 22؍ موٹر بائیک ،6؍ کار،18؍دوکان و مکان ،8؍ہاتھ گاڑی اور 2؍مساجد میں توڑ پھوڑ اور آتشزدگی شامل ہے۔نقصانات کے تخمینہ کی تفصیل جمع کی جارہی ہے ان شاء اللہ بہت جلد ان کو امداد دی جائے گی ۔
وفد کے سربراہ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہاکہ جمعیۃ علماء مقتول اور ان کے اہل خانہ کو ہر طرح کی قانونی امداد دینے کے لئیے تیار ہے ۔ خاطی مجرمین کی جلد از جلد سنگین دفعات کے تحت گرفتاری کے لیئے جمعیۃ علماء مقتول کی جانب سے عدالت عظمی جانے سے گریز نہیں کریگی۔ نیز اس مقدمہ کی فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کے لیئے سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔ ضرورت پڑھنے پر مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے اس مقدمہ میں انصاف حاصل کرنے کے لئیے مداخلت کی جائے گی ۔نیز دونوں مسجدوں کی مرمت جمعیۃعلماء اپنے پیسے سے کرائے گی ۔اور جلد ان متاثرین کے درمیاں جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی جانب سے امداد تقسیم کی جائے گی ۔
پندرہ ہزار افراد پر مشتمل پوسے ساوڑی نامی بستی میں مسلمانوں کے کم و بیش ایک سو مکانات ہیں ،جس میں صرف دو مسجدیں ہیں،بلوائیوں نے دونوں مسجدوں پر حملہ کرکے موجود نمازیوں (جماعت کے ساتھیوں اور مقامی لوگوں)سے زد و کوب کیا اور مسجدوں میں توڑ پھوڑ کرکے نقصان پہونچایا ۔پولس نے دونوں مسجدوں کو بند کرکے مسجدوں کے باہر پولس کا سخت بند و بست لگادیا ہے ۔
وفد نے سمیر شیخ( ایس پی)سےبات کرکے مسجدوں میں نماز ادا کرنے کی اجازت کا مطالبہ کیا ،ساتھ ہی یہ بھی کہا جب تک مسجدوں میں نماز کی اجازت نہیں دی جاتی ہے لوگوں کے اندر سے تشویش اور دہشت نہیں نکلے گی۔ اطلاع کے مطابق آج صرف نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجدوں کو کھولا گیا تھا ، بقیہ پنج وقتہ نماز کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : اشوک کھرت کیس نے ریاست بھر میں ہلچل مچا دی، پرتیبھا چاکنکر بھی دائرہ تفتیش میں، نت نئے انکشافات

ممبئی : ڈھونگی بابااشوک کھرت کیس ریاست بھر میں بہت مشہور ہےمتاثرہ خاتون نے ناسک کے ایک دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف تشدد کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ اس دوران ایک ایک کر کے اس کے کارنامے سامنے آنے لگے ہیں۔ اس سے بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اب تک اس کے خلاف خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ اس معاملے میں ایک ایس آئی ٹی کا تقرر کیا گیا ہے، اور ایس آئی ٹی اس سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاملے میں روپالی چاکنکر کی بہن پرتیبھا چاکنکر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کو نوٹس بھیجا ہے۔ شرڈی پولس نے دھوکہ باز اشوک کھرات کے معاملے میں پرتیبھا چاکنکر کو آج نوٹس جاری کیا ہے۔ دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف شرڈی میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ جب اس معاملے کی تفتیش جاری تھی، پولیس کو چونکا دینے والی معلومات ملی۔ سمتا پتسنتھا میں کئی اکاؤنٹس ہیں، جو مختلف لوگوں کے نام پر ہیں، لیکن نامزد خود اشوک کھرات ہیں۔ ان کھاتوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی لین دین کی گئی ہے۔ پرتیبھا چاکنکر اور ان کے بیٹے کے بھی سمتا پتسنتھا میں چار کھاتے ہیں۔ ان تمام کھاتہ داروں کے بیانات لینے کا کام جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک 33 کھاتہ داروں نے اپنے بیانات درج کرائے ہیں پرتیبھا چاکنکر کو اب اپنا بیان دینے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کے دو پتوں پر ڈاک کے ذریعے نوٹس بھیجے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے حاضر ہوں۔ اس لیے اب پرتیبھا چاکنکر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اس دوران اشوک کھرات کے ساتھ فوٹو سامنے آنے سے ریاست میں کچھ لیڈروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : مالیگاؤں دھماکہ کیس کے سلسلے میں ان کی گرفتاری کے بعد 2008 سے پروہت کے کیریئر کی ترقی مؤثر طریقے سے منجمد رہی تھی

ممبئی: ایک اہم پیشرفت میں، ہندوستانی فوج نے کرنل شری کانت پرساد پروہت کو بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دینے کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے، جو اس کے سب سے پیچیدہ اور طویل قانونی معاملے میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ مسلح افواج کے ٹربیونل کی جانب سے 31 مارچ 2026 کو ان کی طے شدہ ریٹائرمنٹ کو روکنے کے لیے مداخلت کے چند ہفتوں بعد آیا ہے، جس سے ان کے زیر التواء پروموشن کیس کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی یہ اقدام 17 سال کے سفر پر محیط ہے جس میں افسر کو ایک ہائی پروفائل دھماکے کے کیس میں ملزم بننے سے باعزت بری ہونے اور سسٹم میں دوبارہ بحال ہونےکے پس منظر میں کیا گیا ۔
2008 کی گرفتاری کے بعد سے کیریئر رک گیا ہے۔
مالیگاؤں دھماکہ کیس کے سلسلے میں ان کی گرفتاری کے بعد 2008 سے پروہت کے کیریئر کی ترقی مؤثر طریقے سے منجمد رہی تھی ۔اگرچہ انہیں سپریم کورٹ نے 2017 میں ضمانت دے دی تھی اور بعد میں دوبارہ فعال سروس پر بحالی ہوئی تھی تھے، لیکن ان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات سالوں تک قانونی غیر یقینی صورتحال میں پھنسے رہے۔31 جولائی 2025 کو اہم موڑ آیا، جب مہاراشٹر کی ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے پروہت کو تمام الزامات سے بری کر دیا، ثبوت کی کمی اور استغاثہ کے مقدمے میں تضادات کا حوالہ دیتے ہوئےانہیں ستمبر 2025 میں مکمل کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، اس نے اپنے کیریئر کی ترقی کا ایک حصہ بحال کیا۔
ٹربیونل مداخلت ریٹائرمنٹ موقوف عرضی
16 مارچ، 2026 کو، جسٹس راجندر مینن کی سربراہی میں ایک بنچ نے فیصلہ دیا کہ پروہت کے پاس اس کے جونیئرز کے برابر مراعات اور ترقی پر غور کرنے کے لیے پہلی نظر میں مقدمہ ہے۔
ٹربیونل نے حکم دیا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کو اس وقت تک موقوف رکھا جائے جب تک کہ پروموشن سے متعلق ان کی قانونی شکایت حل نہیں ہو جاتی، اور ان کی سروس کو مؤثر طریقے سے فعال رکھا جاتا ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی کے لیے فوج کی منظوری ان کی قید اور مقدمے کی سماعت کے دوران ضائع ہونے والے ایام کو تسلیم کرتی ہےاگر اس کے کیریئر میں خلل نہ پڑا ہوتا تو اس کے بیچ کے افسران پہلے ہی سینئر لیڈر شپ میں کرنل ہوتے ۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ معمول کے مطابق میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ سکتے تھے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
