Connect with us
Sunday,02-August-2026

مہاراشٹر

ناسک ہجومی تشدد معاملے میں شرپسندوں کے خلاف کاروائی کے مطالبے میں شدت

Published

on

ARIF-NASEEM-KHAN

ریاست میں ہجومی تشدد کے معاملے میں دو مسلم نوجوانوں کی موت کے معاملے میں مسلم تنظیموں کی جانب سے سخت برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں ناسک ضلع میں بڑے کا گوشت لے جانے کے شبہ میں عفان عبدالمجید انصاری اور ناصر غلام حسین قریشی کو شرپسندوں نے ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں عفان عبدالمجید انصاری کی موت واقع ہوگئی جبکہ دوسرا نوجوان ناصر حسین قریشی شدید طور پر زخمی ہے، اور ممبئی کے سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ پندرہ روز میں ناسک ضلع میں ہجومی تشدد کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔ اس سے قبل ۸ جون کو پڑگھا کے دو نوجوان لقمان انصاری اور عتیق احمد جانوروں کی گاڑی لیکر ممبئی جارہے تھے کہ شرپسندوں نے انہیں کساراگھاٹ کے مقام پر روک کر ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس معاملے میں بھی لقمان انصاری کی موت واقع ہوگئی تھی، اور عتیق احمد تشدید زخمی ہوگیا تھا۔

عید الالضحیٰ سے قبل سرپسندوں کے ہجومی تشدد میں مسلم نوجوانوں کی موت کے معاملے میں مسلم تنظیموں کی جانب سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں ملی و سماجی تنظیموں کے اہم پلیٹ فارم فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کی جانب سے ریاستی وزیر داخلہ اور نائب وزیراعلی دیویندر فڑنویس کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کی گئی ہے۔

تنظیم نے تشدد کے معاملے میں ریاستی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ فیڈریشن نے حکومت سے تشدد میں ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو ۲۵ لاکھ روپئے معاوضہ اور سرکاری نوکری دینے کا مطالبہ کیا۔ مکتوب میں فیڈریشن نے شرپسندوں کو جلد از جلد کیفرکردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

سابق ریاستی وزیر اور کانگریس لیڈر عارف نسیم خان نے کرلا میں عفان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔ عارف نسیم خان نے بتایا کہ اس معاملے میں ناسک کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس سے بات کرتے ہوئے مجرمین کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عارف نسیم خان نے زخمی نوجوان ناصر کے بہتر علاج و معالجے کیلئے کے۔ ای۔ ایم اسپتال کے ڈین سے بھی بات کی۔

عارف نسیم خان نے بتایا کہ گذشتہ تین ماہ کے عرصے میں ریاست مہاراشٹر میں ماب لچنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور شندے سرکار خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ انہوں نے مقتول کے اہل خانہ کو دس لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مسلم تنظیموں کے ایک وفد نے بھی ممبئی کرلا میں واقع مقتول عفان انصاری کے گھر پر پہنچ کر تعزیت کی۔ آل انڈیا ملی کاؤنسل، قریش جماعت، مراٹھا مسلم کورڈینیشن کمیٹی نمائندوں نے مقتول کے اہل کے ساتھ اظہار ہمدری کیا۔ آل انڈیا ملی کونسل مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری ایم۔اے۔ خالد نے ریاستی حکومت سے انصاف کی گوہار لگاتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔

جماعتِ اسلامی ہند نے بھی مہاراشٹر میں ہجومی تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر الیاس خان فلاحی نے ضلع ناسک میں 15 دنوں میں ہجومی تشدد کے دو واقعات پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوٸے کہا ہے کہ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال انتہاٸی مخدوش ہو چکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے دشمن، سماج دشمن عناصر کے ساتھ سختی سے پیش آٸے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں مسلم لیڈران کے دو الگ الگ وفود نے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کرتے ہوئے عید قرباں سے قبل مختلف مسائل کے متعلق گفتگو کی تھی۔ اس میٹنگ میں شرپسندوں اور خودساختہ گاؤرکھشکوں کی گنڈہ گردی پرقدعن لگانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے اس معاملے میں یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ اس کے باوجود اس طرح کے معاملات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے ہجومی تشدد کے معاملات پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ ناسک پولیس نے دونوں مقدمات میں تقریبا بائیس سے زائد ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ عفان انصاری ہجومی تشدد کے معاملے میں پولیس نے تقریبا ۱۳ ملزمین کو گرفتار کیا ہے، پولیس ۱۴ ملزمین کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ جبکہ دوسرے معاملے میں پولیس نے تقریبا ۹ ملزمین کو گرفتار کر چکی ہے۔

ناسک کے سپریٹینڈنٹ آف پولیس شاہ جی اماپ کے مطابق حالیہ ہجومی تشدد کے معاملے میں حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے اور گیارہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔
ناسک ضلع کے نگراں وزیر داد بھوسے نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہجومی تشدد کے معاملے میں کسی کے ساتھ جانب داری نہیں ہونی چاہیے اور اس پورے معاملے کی جانچ شفاف طریقے سے کی جانی چاہیے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کوہ نور عمارت سانحہ متاثرین کی فوری مالی امداد، بحالی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے، اور ریلیف اور بحالی کے وزیرمکرند جی جادھو کو ایک خط ارسال کرانہوں نے بھیونڈی شہر کے بالاجی نگر علاقے میں چار منزلہ کوہ نور عمارت کے گرنے کے المناک اور سنگین واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کی ہے۔خط کے ذریعے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اہم مطالبات اور مسائل پیش کئے ہیں جس میں انتظامی لاپرواہی پر سوال بھی اٹھایا ہے

بھیونڈی نظام پور سٹی میونسپل کارپوریشن نے پہلے اس عمارت کو ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا تھا اور نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ مکینوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ انتظامی تاخیر اور لاپرواہی کے باعث جانیں ضائع ہوئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی فوری امداد کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت حادثے میں جان گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرے اور تمام زخمیوں کو سرکاری خرچ پر بہترین طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انتہائی خطرناک عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کیوں سے متعلق اعظمی نے کہا کہ بھیونڈی شہر میں تمام خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتوں کا ‘سٹرکچرل آڈٹ’ فوری طور پر کیا جانا چاہیے، اور ان کے رہائشیوں کی عارضی اور مستقل بحالی کے انتظامات بلا تاخیر کیے جانے چاہئیں۔قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بڑے حادثے اور اس سے منسلک غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جلد از جلد بھیونڈی میں متاثرہ خاندانوں تک انصاف اور راحت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان